منڈی بہاؤالدین ۔ ۔ ۔

منڈی بہاؤالدین ۔ ۔ ۔
منڈی بہاؤالدین ۔ ۔ ۔

  

تحریر: ڈاکٹرمحمود قریشی

منڈی بہاؤالدین۔۔۔ 1506 میں صوفی صاحب بہاؤالدین جہانیاں سے اصلاح کے لئے آئے اور یہاں پر ایک مسجد بہاؤالدین کی بنیاد رکھی۔1902 میں انگریز سرکار نے یہاں پر آبپاشی کی غرض سے نہری نظام  قائم کیا اور یہاں پر چک بندی کی گئی، لوگوں میں زمینیں تقسیم کی گئیں اور علاقے کو گوندل بار کا نام دیا گیا۔

چک نمبر 51 مرکزی چک قرار پایا جو آج منڈی بہاؤالدین کے نام سے مشہور ہے۔یہاں پر غلہ منڈیاں  قائم کی گئیں۔1916 میں یہاں انگریز سرکار نے اپنے دفاعی اور غلے کی نقل و حمل کی غرض سے ریلوے سٹیشن قائم کیا۔ 1946 میں 9 دروازے اور چاردیواری قائم کی گئی.1947 میں جب پاکستان وجود میں آیا تو ہندو سکھ بھارت چلے گئے اور بھارت سے آئے ہوئے مسلمانوں نے یہاں پر آبادکاری کی۔1963 میں رسول بیراج اور قادرآباد لنک نہر کا منصوبہ شروع کیا گیا۔1993 میں میاں منظور احمد وٹو جو اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب تھے، نے منڈی بہاؤالدین کو ضلع کا درجہ دیا۔

منڈی بہاؤالدین کو شیروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ یہاں کے لوگ بہت دلیر اور طاقتور ہیں۔۔۔منڈی بہاؤالدین سے کچھ لوگ بہتر تعلیم و روزگار اور بہتر مستقبل کی خاطر بیرون ممالک چلے گئے۔ کچھ لوگ پیرس فرانس میں مقیم ہیں۔پچھلے دنوں فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پاکستانی مقیم افراد نے اوورسیز ہسپتال منڈی بہاؤالدین کی تعمیر کے لئے فنڈ ریزنگ کی۔اس تقریب میں پاکستانی کمیونٹی  بالخصوص منڈی بہاؤالدین سے تعلق رکھنے والےاوورسیز پاکستانیوں نے بھرپور شرکت کی۔پاکستان کے پبلک ایڈریس کے چیئرمین ناصر عباس تارڑ  نے مہمانوں کا بھرپور استقبال کیا۔اس موقع پر  انہوں نے منڈی بہاوٗالدین میں میڈیکل ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔چوہدری افضل لنگا  ،  تحریک انصاف  کے سینئر رہنما چوہدری اشفاق جٹ اور  ناصر عباس تارڑ   اپنے  اپنےحصے کی شمع جلائے ہوئے ہیں اور  نہ صرف پاکستان  بلکہ بیرون ملک میں بھی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے مصروف عمل ہیں۔

صحت اور تعلیم انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں،کہا جاتا ہے جہاں صحت ہے وہاں انسان بیمار بھی ہو سکتا ہے۔  پاکستان میں سرکاری ہسپتالوں کے علاوہ پرائیویٹ ہسپتالوں کا جال بچھا ہوا ہے  لیکن بڑھتی  آبادی کی وجہ سے سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتال ناکافی ہیں۔ناصر عباس   اپنے احباب کے ساتھ مل کر ان مسائل کے  حل کیلیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔۔۔۔اخلاق احمد تارڑ  بطور  وفاقی سیکرٹری اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔میرے ساتھ ان کا بہت ہی احترام کا رشتہ ہے۔ان کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر فرید احمد تارڑ جو آج کل  پاکستان آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس کے بڑے عہدے پر فائز ہیں اور اپنی خدمات یورپی یونین کے بڑے پراجیکٹ پبلک فنانشل کے ہیڈ کے طور پر کراچی میں سر انجام دے رہے ہیں۔۔۔اعظم نذیر تارڑ  ۔۔۔ جن کا شمار سینئر قانون دانوں میں ہوتا ہے۔میرے بہترین دوست  ہیں۔

بات ہو رہی تھی  فلاحی کاموں کی۔تو   کہا جاتا ہے قطرہ قطرہ دریا بنتا ہے، ناصر عباس تارڑ    بیرون ملک رہ کر بھی پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں۔بطور اوورسیز پاکستانی۔۔۔پاکستان میں ہسپتال قائم کرکے عمدہ مثال قائم کر رہے ہیں۔اللہ کرے کہ پاکستان میں موجود مخیر حضرات اور بیرون ملک پاکستانی ناصر عباس تارڑ   کی طرح کا جذبہ،لگن اور جدوجہد جاری رکھیں تاکہ وطن عزیز میں صحت اور تعلیم کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جا سکے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطۂ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیلئے بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -