پاکستانی امریکی وفد اسرائیل کیوں گیا؟ تہلکہ خیز ویڈیو

پاکستانی امریکی وفد اسرائیل کیوں گیا؟ تہلکہ خیز ویڈیو
پاکستانی امریکی وفد اسرائیل کیوں گیا؟ تہلکہ خیز ویڈیو

  

لندن(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسرائیل کا دورہ کرنے والے پاکستانی امریکی وفد میں شامل ڈاکٹر نسیم نے اپنے دورے کی تفصیلات سے آگاہ کردیا۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہاریو ٹیوبر ڈاکٹر نوید الہی سے بات کرتے ہوئے کیا ۔  ڈاکٹر نوید الہی نے ڈاکٹر نسیم اشرف سے سوال کیا کہ آپ کے پانچ روزہ دورہ اسرائیل کا مقصد کیا تھا؟جس پر ان کا کہنا تھا کہ جب بھی اسرائیل کے نام سے کو ئی بات ہوتی ہے تو تہلکہ مچ جا تا ہے اور ایسا تاثر ابھر کر آتا ہے جیسے کوئی غلط کام ہو گیا، سب سے پہلے ایک بات کی وضاحت کردوں کہ اس دورے کا پاکستان اور اسرائیل سمیت دنیا کی کسی بھی حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا،یہ دورہ مڈل ایسٹ اور امریکہ کی این جی اوز کے تعاون سے کیا گیا جن کا کسی بھی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔یہ این جی اوز امن کے لیے کام کرتی ہیں ،ہمارے وفد میں تین پاکستانی صحافی، دو امریکی صحافی،ایک برطانوی امام ،میں اور میری اہلیہ شامل تھے ۔ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتا یا کہ میں گزشتہ 25برسوں سے اس پر کام کر رہا ہوں کہ پاکستان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع ہو سکیں کیونکہ اس میں پاکستان کا قومی مفاد ہے ، اس سے زیادہ میرا کوئی مقصد نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ہمیشہ سے موقف رہا ہے کہ فلسطین کو آزادی ملنی چاہیےاور یہ موقف کوئی تبدیل نہیں کر سکتا۔

میزبان کے ایک سوال پر ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتا یا کہ 2005میں جب صدر پرویز مشرف امریکہ آئے تھے ،اس وقت تقریبا7 اہم ترین امریکی یہودی تنظیموں کی جانب سے اس وقت کے صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کے اعزاز میں عشائیے کا اہتمام کیا جس میں دنیا بھر سے اہم ترین لوگوں نے شرکت کی۔اس عشائیے سے پاکستان کا مثبت امیج بنا اور اس وقت کے امریکی صدر بش اور دیگر اہم لوگوں کی پاکستان کی سپورٹ بڑھ گئی تھی ، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیل سے بات نہ کرنا پاکستان کے مفاد کے خلاف ہے۔

اپنے دورے کی تفصیل بتا تے ہوئے ڈاکٹر نسیم اشرف نے بتا یا کہ ہم ایک عام این جی او کے تعاون سے اسرائیل کے دورے پر گئے لیکن اسرائیلی صدر نے ہمارے وفد سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔جب ہمارا وفد اس ملاقات کے لیے پہنچا تو ہمیں بہت زیادہ عزت دی گئی اور اسرائیلی صدر پاکستان کے معاملے میں خصوصی دلچسپی دکھا رہے تھے ۔اسرائیلی حکام نے پاکستان کے سیلاب کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پیشکش کی کہ ہم جو بھی کر سکتے ہیں ، ہم حاضر ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل پاکستان کو بہت اہمیت دیتا ہے بلکہ شائد اسلامی دنیا میں وہ اور کسی ملک کو اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی اہمیت پاکستان کو دیتے ہیں۔

ڈاکٹر نوید الہی نے اسرائیل اور بھارت کے تعلقات کے پاکستان پر اثرات سے متعلق سوال کیا تو ڈاکٹر نسیم اشرف نے کہا کہ یہ بہت اہم سوال ہے کیونکہ دونوں ممالک میں مذاکرات کے آغاز کا اہم ایشو ہے کیونکہ بھارت ان سے فائدہ لے رہا ہے اور پاکستان کو دنیا میں نقصان ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ اپنا موقف برقرار رکھےکہ فلسطین کی آزادی تک ہم مکمل تعلقات بحال نہیں کریں گے لیکن ساتھ ہی ساتھ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے چاہئیں اور ان کی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور قطر اسرائیل سے بات کر رہا ہے ،ترکی کے اچھے تعلقات ہیں اور باہمی تجارت چل رہی ہے،پاکستان میں بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر بات چیت ہونی چاہیے جو ہمارے ملک کے مفاد میں ہے۔اگر بات چیت کا آغاز ہو جائے  تو دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کو بہت فائدہ ہو گا اور معاشی طور پر پاکستان کو بہت فائد ہ ہو گااور بات چیت کرنے سے فلسطین کے مسائل بھی حل ہو نگے ، بات چیت نہ کرنے سے مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقا ت کے معاملے کو قومی اسمبلی میں لانا چاہیے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔معاشرے کے تمام طبقوں کو اس معاملے پر ساتھ لے کر چلنا چاہیے جن میں علما کا اہم کردار ہے ،لوگوں میں اس موضوع پر بحث ہونی چاہیے۔اس معاملے کے تمام پہلو قوم کے سامنے رکھنے چاہئیں ۔میڈ یا اور سوشل میڈ یا پر اس پر بحث کرنی چاہیے ،پاکستان میں نجی طور پر جس سے بات کی جائے تو سب کہتے ہیں یہ بہت اچھی بات ہے لیکن عوام کے سامنے یہ بات نہیں کی جاتی، ہمیں خوف کی فضا سے نکل کر پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کے بارے میں کھل کر بات کرنی چاہیے ،اگر اسرائیل سے تعلقات سے پاکستان کو نقصان ہوتا ہے تو بالکل ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر فائدہ ہوتا ہے تو یہ کرنا چاہیے۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید :

ویڈیو گیلری -