امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کے مذہبی حقوق کا مقدمہ لڑنے اور جیتنے والے قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا

 امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کے مذہبی حقوق کا مقدمہ لڑنے اور جیتنے والے ...
 امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کے مذہبی حقوق کا مقدمہ لڑنے اور جیتنے والے قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں سزائے موت کے قیدیوں کے مذہبی حقوق کا مقدمہ لڑنے اور جیتنے والے قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کر دیا گیا۔ "ایکسپریس ٹربیون" کے مطابق امریکی ریاست ٹیکسس کے اس قیدی کا نام جان ہنری ریمریز تھا، جس نے 2004ءمیں ایک کنوینئس سٹور کے پیبلو کاسترو نامی کلرک کو قتل کیا تھا۔ پیبلو کاسترو 9بچوں کا باپ تھا جس پر جان ہنری نے خنجر سے حملہ کیا اور 29بار اس کے جسم میں خنجر گھونپا۔جا ن ہنری کو زہریلا انجکشن دے کر اس کی موت کی سزا پر عملدرآمد کیا گیا۔

جان ہنری نے کلرک سے منشیات خریدنے کے لیے رقم طلب کی تھی اور انکار پر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔جان ہنری نے ٹیکسس حکومت سے درخواست کی تھی کہ اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کے وقت اسے مذہبی رسومات ادا کرنے کا حق دیا جائے تاہم حکومت نے اس سے انکار کر دیا جس پر جان ہنری نے عدالت سے رجوع کر لیا۔ 7ماہ قبل سپریم کورٹ نے جان ہنری کے حق میں فیصلہ سنایا اور حکومت کو حکم دیا کہ وہ جان ہنری کی سزائے موت پر عملدرآمد کے وقت اسے پاسٹرل ٹچ (Pastoral Touch)اور پریئر (Prayer)کا حق دے۔

حکومت کی طرف سے عدالت میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قیدی کی سزائے موت پر عملدرآمد کے وقت چیمبر میں پادری اور دیگر غیرمتعلقہ افراد کا داخلہ سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے مناسب اقدام نہیں ہے جس کی وجہ سے قیدی کو یہ حق دینے سے انکار کیا گیا۔تاہم عدالت نے حکومت کے اس مؤقف کو رد کر دیا اور جان ہنری کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

مزید :

بین الاقوامی -