مفادات کی دوڑ

     مفادات کی دوڑ
     مفادات کی دوڑ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا معاشرہ مسلسل زوال پذیر ہے اور یہ زوال ہمہ گیر ہے ہم شدید اخلاقی انحطاط کا شکار ہیں۔ جھوٹ، کرپشن، بدتہذیبی اور بداخلاقی کا ہر طرف دور دورہ ہے۔ بدقسمتی سے اس انحطاط میں کوئی استثنا ء نہیں۔ عام آدمی کے علاوہ سرکاری افسر، صحافی، دانشور حتیٰ کہ علماء تک اس زوال کا شکار ہیں، لیکن ہم صرف حکومت کو ساری خرابیوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور انہیں خوب لتاڑتے ہیں حالانکہ جب ہم من حیث القوم زوال پذیر ہیں تو حکومت کس طرح اِس سے مستثنیٰ ہو سکتی ہے۔ سیاستدان کیا اسی معاشرے کا حصہ نہیں؟ سول ملٹری بیوروکریسی اور عدلیہ کس طرح اس رحجان سے بچ سکتے ہیں۔ اب تو ایسا لگتا ہے کہ کرپشن، اختیارات کے غلط استعمال اور زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے کے سلسلے میں تمام اداروں میں ایک قسم کا خاموش مقابلہ چل رہا ہے۔

پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے لہٰذا وہ اپنی مراعات کے لئے خود قانون سازی کر سکتی ہے اور وقتاً فوقتاً یہ ہوتا رہتا ہے۔ مجھے پچھلے دنوں ایک ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی یہ بات سُن کر بڑا افسوس ہوا اگر میں نے صحیح سنا ہے تو انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ارکان کی تنخواہوں میں اضافہ ہونا چاہئے اور ان کی تنخواہیں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تنخواہ کے برابر ہونی چاہئیں، ویسے حال ہی میں سپریم کورٹ کے چیف کی تنخواہ میں اضافہ کیا گیا تھا۔ عدالت کا ذکر آ گیا ہے تو سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ابتدائی اقدامات کی داد دینا پڑتی ہے، انہوں نے کچھ تو علامتی اقدامات کئے، لیکن انہوں نے ایک عملی قدم اُٹھایا کہ چیف جسٹس کی لگژری گاڑی واپس کر دی۔ کیا اعلیٰ عدلیہ کے دوسرے جج صاحبان اور بیورو کریسی کے ارکان یا وزراء اُن کی تقلید کریں گے؟ میں پہلے بھی کئی کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ جب پاکستان کو دیوالیہ ہونے کا خطرہ درپیش ہے تو ایسے میں سرکاری مراعات کو ریشنلائز کرنے کی اشد ضرورت ہے اور سرکاری افسرں کے لئے 1300 سی سی سے اوپر گاڑی کا قطعاً کوئی جواز نہیں بنتا۔ پھر ڈپٹی کمشنروں، کمشنروں اور ضلعی لیول پر پولیس افسران کے 100,100 کنال پر محیط گھروں کا اِن حالات میں کیا جواز ہے، لیکن حیرت ہے کہ فیصلے کرنے والے سیاستدانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی،کیونکہ وہ تو اپنی مراعات بڑھانے کے چکر میں رہتے ہیں۔ بیوروکریسی کے مختلف محکموں میں یہی مقابلہ چل رہا ہے کہ کس طرح اور کس بہانے مراعات میں اضافہ کیا جائے۔ سرکاری افسران کو ایک رہائشی پلاٹ دیا جاتا تھا، لیکن جنرل پرویز مشرف کے دورحکومت میں چند سیکرٹریوں کا ایک وفد وزیراعظم شوکت عزیز سے ملااور اُن سے گریڈ 22 کے لئے ایک کی بجائے دو پلاٹ کی منظوری لے لی۔ شوکت عزیز صاحب اُن میں شامل ہیں، جنہیں ہم ٹیکنو کریٹ کی حیثیت سے باہر سے بلاتے ہیں کہ وہ آ کر پاکستان کو صحیح سمت پر ڈال دیں گے۔ اگلے دن سوشل میڈیا پر جنرل پرویز مشرف کا ایک کلپ چل رہا تھا،جس میں وہ کہہ رہے تھے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کو تین تین چار چار دفعہ حکومت ملی ہے اور انہوں نے کچھ نہیں کیا،لہٰذا انہیں اب موقع دینے کی ضرورت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک مسلم لیگ نے ساڑھے دس سال اور پیپلز پارٹی نے پندرہ سال حکومت کی ہے اور میرے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ جناب ہم یہ ٹھیک مان لیتے ہیں، لیکن جناب آپ لوگوں کو اِن دونوں پارٹیوں سے زیادہ عرصہ ملا آپ نے پاکستان کو کہاں پہنچایا؟

اِن دنوں میڈیا منظر پر چھایا ہوا ہے پل پل کی خبر دے رہا ہے اب کوئی بات پوشیدہ نہیں رہ سکتی، لیکن کسی کو کوئی پرواہ نہیں، بلکہ ہر کوئی اپنا داؤ لگانے میں مصروف ہے، کیونکہ روز روز موقع نہیں ملتا۔ نگران وزیراعظم کے طویل دورے کا ذکر زبان پر ہے۔ نیویارک وہ ضرور جاتے، لیکن لندن اور جدہ جانے کی تو کوئی ضرورت نہیں تھی۔گفتگو میں ہر کوئی ملک اور قوم کے حال اور مستقبل سے پریشان نظر آتا ہے، لیکن عملی طور پر ہر کوئی اپنے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ ملک کا جو بنے گا دیکھا جائے گا۔ لوگ دو دو تین تین محکموں سے پنشن لے رہے ہیں۔ایک محکمہ سے ریٹائر ہوتے ہیں تو اول تو اُسی جگہ ملازمت میں توسیع لے لیتے ہیں تھوڑی سی کوشش اور پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے عقلمند لوگ یہ کر لیتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو تو کسی اور محکمے میں ملازمت حاصل کر لیتے ہیں۔ کئی محکمے تو ایسا لگتا ہے شاید اِسی مقصد کے لئے بنائے گئے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر میں بھی یہی کھیل جاری ہے۔ بزنس مینوں نے کارٹل بنائے ہوئے ہیں اور خوب منافع کما رہے ہیں۔ Subsidies بھی لے رہے ہیں اور چیزیں بازار سے غائب کرکے لوٹ مار بھی کر رہے ہیں۔ ٹیکس کی بات کریں تو ہڑتال کی دھمکی دیتے ہیں اور حکومت گھٹنے ٹیک دیتی ہے۔

پتہ نہیں یہ سائیکل کس طرح ریورس ہو گا۔ یہ مقابلہ کب ختم ہو گا او ملک کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا مقابلہ کب شروع ہو گا۔ ایک بیانیہ یہ رہا ہے کہ دو پارٹیاں باریاں لے رہی ہیں۔ ویسے امریکہ اور برطانیہ میں بھی دودو پارٹیاں ہیں، لیکن وہاں باریاں لینے کا طعنہ کوئی نہیں دیتا البتہ یہ بڑی حد تک صحیح ہے کہ ہماری پارٹیاں اپنا ذہنی سرمایہ خرچ کر چکی ہیں اور بڑی حد تک اب سٹیٹس کوکا شکار ہیں۔ نئی لیڈر شپ کی گنجائش تو تھی اور ایک لیڈر آبھی گیا لیکن اُس نے ناتجربہ کای اور جلدی میں وہ کچھ کر دیا جو نہ ملک کے لئے مفید ثابت ہوا نہ اُس کی ذات کے لئے۔ اب دو پارٹیاں نئی وجود میں آ چکی ہیں۔ ایک پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین اور استحکام پاکستان پارٹی۔ استحکام پاکستان پارٹی کے پاس خاصا سیاسی سرمایہ ہے، لیکن انہوں نے اپنا بیانیہ یا منشور اب تک ظاہر نہیں کیا اِن کے بعد شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسماعیل اور کھوکھر صاحب ایک اور پارٹی کی بات کر رہے ہیں پتہ نہیں وہ کونسا خلاء  پُر کرنا چاہتے ہیں ابھی یہ واضح نہیں۔ بظاہرکسی کے پاس مسائل کا حل نظر نہیں آتا۔ اِس وقت ملک ہر معاملے میں بے یقینی کا شکار ہے انتخابات کے ذریعے مطلع کچھ صاف ہو گا لہٰذا کچھ انتظا کرنا ہو گا۔

مزید :

رائے -کالم -