’ووٹ کو عزت دو‘بیانئے کی جیت 

     ’ووٹ کو عزت دو‘بیانئے کی جیت 
     ’ووٹ کو عزت دو‘بیانئے کی جیت 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

  نواز شریف نے سیاست کا آغاز کیا تو پاکستان اور پنجاب بھٹو کے تھے اور آج جب وہ جلاوطنی کے بعد واپس آرہے ہیں تو پاکستان ہو تو ہو، پنجاب عمران خان کا نہیں ہے،اسی لئے تو عمران خان کے حامیوں کا آج بھی مسئلہ اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ نواز شریف ہیں، اب سے پہلے تو وہ یہی کہتے پائے جاتے تھے کہ نواز شریف واپس نہیں آ رہا، لیکن اب جب کہ واپسی کی ٹکٹ بھی بک ہو گئی ہے تو کہنا شروع ہو گئے ہیں کہ نواز شریف پاپولر نہیں رہا ہے۔ تب بھی ان کے پاس دلائل تھے اور آج بھی ہیں۔

یہی نہیں،بلکہ شہباز شریف کیمپ کے لوگ بھی کہتے پائے جاتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر نواز شریف کا ساتھ دیں گے تو نواز شریف چوتھی بار وزیراعظم بن سکیں گے۔حضور والا! اگر نواز شریف بطور آرمی چیف تعیناتی میں جنرل عاصم منیر کا ساتھ دے سکتے ہیں تو وہ نواز کا ساتھ کیوں نہیں دیں گے۔ 

نواز شریف نے جلاوطنی میں جنرل فیض حمید رجیم کو دھول چٹادی اور جنرل مشرف کی باقیات کے منصوبے چکنا چور کر دیئے۔ اس سے بڑھ کر ان کے انٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کی جیت کیا ہو سکتی ہے۔یوں بھی وہ فوج کے نہیں فوجی وردی میں سیاست کرنے والوں کے خلاف ہیں جن میں سے اکثر کو موجوہ آرمی چیف نے کورٹ مارشل کرکے نوکریوں سے برخاست کر دیا ہے۔اب پی ٹی آئی چاہتی ہے کہ نواز شریف جنرل عاصم منیر کے خلاف بھی ہو جائیں، حالانکہ بات حمائت یا مخالفت کی نہیں ہے بلکہ ووٹ کو عزت دینے کی ہے۔ عوام کو تسلی رکھنی چاہئے کہ اگر موجودہ اسٹیبلشمنٹ نے بھی ووٹ کی عزت نہ کی تو نواز شریف اس کے بھی خلاف ہو ں گے۔چاہے وہ ووٹ عمران خان کو ہی کیوں نہ پڑا ہو۔ دوسری جانب عمران خان کا معاملہ ایسا نہیں ہے، انہیں آج بھی ایمپائر کی انگلی کا انتظار ہے، بلکہ اب تو پورے ہاتھ کا انتظار ہے!

پی ٹی آئی والوں کی یہ بھی عجیب منطق ہے کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہوں تو بھی ٹھیک اور خلاف ہو ں تو بھی ٹھیک جبکہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تھے تو بھی غلط تھے اور آج ساتھ ہیں تو بھی غلط ہیں۔ اس ذہنی فضا کے بیچ پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا جہاں سوائے اینکر پرس ڈاکٹر دانش کے اکا دکا تجزیہ کار ہی نواز شریف کے حق میں بات کرتے دکھائی دیتے ہیں،نواز شریف مخالف اینکر مافیا نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ان کی فوج سے لڑائی ہو جائے۔ اسی لئے تسلسل سے کہا جا رہا کہ نواز شریف اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ نہیں رکھتے تو ان کے پاس بیچنے کے لئے کیا رہ گیا ہے۔ان سے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ تو عمران خان نے چھین لیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ دوسری جانب میاں نواز شریف بھی کچی گولیاں کھیلنے والے نہیں ہیں، اسحاق ڈار نے جھٹ سے وضاحت کردی کہ نواز شریف نے انتقام اللہ پر چھوڑدیا ہے اور اکانومی اپنے ذمے لے لی ہے، حالانکہ بندہ پوچھے کہ اکانومی کیوں اللہ کے ذمے نہیں چھوڑی جا سکتی! 

اسی طرح مریم نواز بھی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے مہروں کے خلاف بات کرنے کی بجائے کارنر میٹنگوں میں عوام کو باور کرارہی ہیں کہ نواز شریف کو سیاست سے باہر کرنے والے آج خود باہر ہو چکے ہیں۔ نون لیگی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر میڈیا ان کا نقاد ہے تو اسٹیبلشمنٹ خود ہی اس سے نپٹ لے گی، نواز شریف کو فکر نہیں کرنی چاہئے۔ یوں بھی شروع دن سے نواز شریف نے میڈیا پر کم اور عوام پر زیادہ انحصار کیا ہے۔ الٹا میڈیا ان پر انحصار کرتا نظر آتا ہے۔ یہ بات سب کو پتہ ہے کہ نواز شریف غیر ضروری انٹرویو دیتے ہیں نہ بلاجواز پریس کانفرنسیں کرتے ہیں اور نہ ہی سوشل میڈیا پر قوم سے خطاب کے شوقین ہیں۔اس کے باوجود میڈیا ان کا اس قدر شوقین ہے کہ وہ اقتدار میں ہوں یا باہر، ان کے تذکرے سے باز نہیں آتا ہے۔ 

خدا کی قدرت دیکھئے کہ نواز شریف وطن واپس آرہے ہیں تو عمران خان کا نام لینے والا کوئی نہیں ہے۔ حالانکہ جب عمران خان اقتدار میں آنے والے تھے تو اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو ایسی میڈیا مینجمنٹ کرنا پڑتی تھی کہ الامان و الحفیظ!اب تو جو کوئی عمران خان کا نام لیتا ہے پہلے سو بار سوچتا ہے، حتیٰ کہ ان کے یارغار عثمان ڈار بھی توبہ تائب کرگئے ہیں اور 9مئی کا براہ راست ذمہ دار عمران خان کو ٹھہراتے ہوئے سیاست اور پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کرتے پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا اعتراض ہے کہ عثمان ڈار نے معافی کیوں نہیں مانگی حالانکہ انہون نے خود وضاحت کردی ہے کہ ان کے بھائی عمر ڈار نے سیالکوٹ میں پارٹی کارکنوں کو کور کمانڈر ہاؤس نہیں جانے دیا تھا اور بزدل بزدل کے طعنے سنے تھے جبکہ وہ خودراولپنڈی میں اس وقت جلوس سے علیحدہ ہو گئے تھے جب شہریار آفریدی نے کارکنوں کو جی ایچ کیو پر حملہ کرنے کی ہدائت دی تھی۔ اس لئے عثمان ڈار کی معافی نہیں بنتی، یہی کافی ہے کہ انہوں نے عمران خان سے لاتعلقی کا اظہار کردیا ہے۔ فرق یہ ہے کہ انہوں نے یہ کام پریس کانفرنس کرنے کی بجائے کامران خان کے شو میں کیا ہے۔ انہیں تاخیر بھی اسی لئے ہوئی کہ ا ن سمیت اسٹیبلشمنٹ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ پریس کانفرنس کئے بغیر وہ کس طرح پارٹی سے لاتعلقی کا اعلان کریں۔وہ تو بھلا ہو کامران شاہد کا جو وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کا ہنر رکھتے ہیں! 

مزید :

رائے -کالم -