ڈینگی مچھر اور موذی دہشت گردی

ڈینگی مچھر اور موذی دہشت گردی
ڈینگی مچھر اور موذی دہشت گردی

  

دیکھا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ شہبازشریف احکامات صادر کرنے اور ان پر عمل کروانے میں دیر نہیں کرتے۔ان کے حکم کے مطابق 2ستمبر کو ”انسداد ڈینگی ڈے“ منایا گیا اور ہر شعبے کے لوگوں نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ہم اس دن کا شدت سے انتظار کررہے ہیں، جب وزیراعلیٰ ”انسداد دہشت گردی ڈے“ کا اعلان کریں اور ہر سطح اور ہر طبقہ کے لوگ اپنے وطن عزیزکو اس موذی دہشت سے نجات دلانے کے لئے میدان میں آ جائیں۔اگر ہم جائزہ لیں تو نظر آتا ہے کہ ” ڈینگی مچھر“ کی شرارتیں بھی ہوش رُبا ،جو نہ تو بچے اور نہ بوڑھے ، نہ بیمار نہ توانا،کسی کو نہیں چھوڑتے ....اوردہشت گردوں کی سرکشیاں بھی ہوش رُبا ،یہ بھی کسی کو نہیں بخشتے۔لوگ ان دہشت گردوں کے مقاصد سمجھنے سے قاصر ہیں،جنہوں نے اندرون ملک ایک عجیب سی حالت جنگ کی کیفیت پیدا کردی ہے۔اب ڈینگی مچھر کو ہی لے لیں، اس سے چھٹکارے کے لئے 840کمیٹیاں بنائی گئیں۔ان میں صوبائی وزرائ، سیکرٹریز، ڈی سی اوز، ڈی ڈی اوز، ٹاﺅن آفیسرز، ایڈمنسٹریٹرز شامل ہیں، اس کے لئے سنٹرل کمیٹی بھی قائم ہو گئی ہے اور 13اضلاع ڈینگی کے حوالے سے حساس ترین قرار دیئے جا چکے ہیں۔ابھی یہ سارے کام وزیراعلیٰ ہنگامی بنیادوں پر کررہے ہیں۔اس مسئلے کو اگر سنجیدگی سے نہ لیا جاتا تو یقیناً صورت حال مختلف ہوتی ۔دوسری طرف موذی مرض دہشت گردی ہے، جو تیزی سے پھیلتا جارہا ہے۔اس مرض پر جتنا سنجیدگی سے کام ہوتا ہے،یہ اتنا ہی قابو سے باہر ہوتا ہے۔اس موذی دہشت گردی کو روکنے کے لئے ہمارا میڈیا کس طرح مثبت کردار ادا کررہا ہے،وہ کچھ یوں ہے کہجیسے ہی کسی شہر یا علاقے کو حساس قرار دیا جاتا ہے،ہمارے نجی ٹی وی کے اینکرز اپنی پوری طاقت سے میوزک کی گرج کے ساتھ دہشت گردوں کو ہائی الرٹ کردیتے ہیں، تاکہ یا تو وہ بھاگ جائیں یا ان کا نشانہ خطا ہو جائے، اس سے ایک

 نقصان بھی ہوتا ہے۔سیکیورٹی کچھ غیرسنجیدہ ہو جاتی ہے ، کیونکہ ان کا خیال ہوتا ہے اینکرز نے اتنی سنسنی پھیلا دی ہے کہ دہشت گرد بھاگ جائے گا یا پکڑا جائے گا، مگر پھر بھی کہیں نہ کہیں، کچھ نہ کچھ نقصان ہو جاتا ہے۔اس طرح ایک نقصان اور بھی ہوتا ہے ۔ہر روز یا ہر ہفتے یا ہر مہینے کوئی نہ کوئی دہشت گرد پاکستان سے پکڑا جاتا ہے اور پوری دنیا تک خبر پہنچ جاتی ہے۔اس سے پاکستان کا کردار بھی لوگوں کی نظر میں آتا ہے کہ ابھی تک ہم اس موذی دہشت گردی سے نجات حاصل نہیں کر سکے۔یوں ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ڈینگی مچھر اور موذی دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمارے اقدامات کیسے ہیں۔ایک محتاط انداز کے مطابق تقریباً60ہزار معصوم جانوں کا نذرانہ دہشت گردی کی وجہ سے دیا جا چکا ہے اور ہمارے وطن عزیز کو تقریباً 110ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان پہنچانے کے باوجود ہم ”ڈومور“ کے الفاظ پر عمل کرنے کے لئے تیار کئے جاتے ہیں۔ ڈینگی مچھر اور دہشت گردی سے نپٹنے کا کام ہنگامی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے،ورنہ انتشار، بے روزگاری، خوف اور ذہنی دباﺅ کی وجہ سے عوام گھروں میں قید ہو جائیں گے اور دشمن اپنے مقصد میں کامیاب۔    ٭

مزید :

کالم -