ایس ایم یو ایک احسن اقدام

ایس ایم یو ایک احسن اقدام
ایس ایم یو ایک احسن اقدام

  

اکثر ناقدین کا یہ اعتراض پڑھتا ہوں کہ شہباز شریف طویل عرصے سے پنجاب میں بر سر اقتدار ہیں، آخر اُنہوں نے پنجاب کے لئے کیا کیا ہے۔ میرا سیاست سے دور دور تک کوئی واسطہ تو نہیں لیکن پھر بھی مجھے تشویش ہوئی کہ کیا واقعی پنجاب حکومت کی اس طرف توجہ نہیں ہے تو میں نے تحقیق شروع کی۔ اندازہ یہ ہوا کہ تقریباً ہر شعبے میں اصلاحات کے لئے ایک جامع منصوبہ بندی کرلی گئی ہے اور اس کے لئے 2014ئمیں سپیشل مانیٹرنگ یونٹ (SMU)کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ اس ادارے کے وسیع مقاصد تھے اور اس کے دائرہ اختیار میں تحفظ نسواں سے لے کر قبرستانوں کی تزئین و آرائش تک بہت سے امور آتے تھے۔ آئیے اس محکمے کی کچھ جھلکیاں مختلف محکموں کے حساب سے دیکھتے ہیں، اس سے یہ اندازہ بھی ہو جائے گا کہ حکومت پنجاب میں احساس باقی ہے یا کھو گیا ۔

عورتوں پر تشدد پاکستان کا ایک دیرینہ مسئلہ تھا ۔ عورت چاہے گھر میں ہو یا وہ کہیں کا م کرتی ہو، اُس کو مردوں کی حکمرانی ہی تسلیم کرنی پڑتی تھی اور بعض اوقات اُس کی آواز سننے والا کوئی بھی نہیں ہوتا تھا ۔ خصوصاً وہ عورتیں جو دیہاتوں میں رہتی ہیں اور کم تعلیم یافتہ ہیں اُن کو اپنے حقوق سے بالکل آگا ہی نہیں تھی، اس لئے ضروری تھا کہ عورتوں کے لئے ایک با قاعدہ قانون بنایا جائے جو اُن کو اس بے رحم معاشرے سے ان کو حقوق فراہم کرنے کا ضامن ہو، اس کے پیش نظر 2016ء میں تحفظ نسواں ایکٹ پاس کروایا گیا جس میں عورتوں کے خلاف تشدد کے استعمال کو قابل سزا جرم قرار دیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی جنوبی ایشیا میں پہلی مرتبہ عورتوں کو تشدد سے تحفظ دینے کے لئے ایک سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا جس کانام۔۔۔ Violence Against Women Center یعنی(VAWC)ہے ۔ اس ادارے کا مقصد یہ ہے کہ عورتوں کواپنی شکایات کا اندراج کروانے کے لئے دربدر دھکے کھانے کی ضرورت نہیں وہ صرف یہاں جا کر اپنی شکایت کا اندراج کروائیں اور ہر طرح کی قانونی مدد اِن کو ایک ہی دفتر کے ذریعے مل جائے گی ۔یہ ایک خوش آئند اقدام ہے جس سے معاشرے میں عورتوں کو تحفظ ملے گا ۔

پنجاب پولیس پاکستان کی سب سے زیادہ بد نام پولیس سمجھی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ پولیس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ رشوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے پولیس اپنے اصل مقصد سے غافل ہو چکی ہے۔ اس تاثر کو زائل کرنے اور پولیس کو اپنے حقیقی مقصد سے آگاہی دینے کے لئے پولیس میں اصلاحات کا خاکہ تیار کیا گیا ہے جس پر عمل کرنے کے لئے ایس ایم یو کے تحت پولیس کے نظام میں تبدیلی بھی لائی جارہی ہے اور اُس کی باقا عدہ مانیٹرنگ بھی کی جارہی ہے تاکہ ہر طرف امن کا دور دورہ ہو اور انصاف لوگوں کو گھر کی دہلیز پر ملے ۔ اس ضمن میں U-Report Systemمتعارف کروایا گیا ہے جوntelligance Iکا کام کرتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک ہیلپ لائن Police Rescue Helplineاور ویب سائٹ Websiteبھی متعارف کروائی گئی ہے ۔ ان تمام جدید طریقوں کے استعمال سے جہاں پولیس کے نظام میں بہتری آئے گی وہیں عوام کو انصاف کے حصول میں آسانی بھی ہو گی ۔ اس احسن اقدام کی وجہ سے یقیناًپولیس کا عوام پر امیج Imageبہتر ہو جائے گا ۔ ایس ایم یو ایک انقلابی اقدام ہے اور اس کا سفر یہاں ختم نہیں ہوتا بلکہ Taxation and Excise کی مانیٹرنگ بھی اس ہی یونٹ کے ذمے ہے۔ جعلی نمبر پلیٹوں اور گاڑیوں کی غیر قانونی رجسٹریشن سے جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ایس ایم یو نے اس ضمن میں ایک اور کارنامہ سر انجام دیا ہے اور وہ D.V.R.SیعنیDealer Vehicle Registration System ہے۔ یہ جنوبی ایشیامیں اپنی نوعیت کا پہلا Systemہے جس کے تحت گاڑیوں کی رجسٹریشن اور لائسنس کا اجرا ڈیلر کے پاس ہی ممکن ہو سکے گا ۔ یہ بہت بڑی سہولت ہے، اس سے جہاں گاڑیوں کی بروقت کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن Computerised Registrationہو سکے گی، وہیں رشوت اور غیر قانونی لین دین کا بہت بڑا دروازہ بھی ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا ۔ یہ عوام کی سہولت کی طرف ایک قابل ستائش قدم ہے، اس سے آنے والے دنوں میں پنجاب کے عوام مستفید ہوں گے اور اُن کا قیمتی وقت اور مال بھی محفوظ رہے گا ۔ ایس ایم یو کے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے ۔ ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے اس محکمے نے انتہائی اہم اقدام اُٹھائے ہیں جن میں انجینئرنگ تعلیم اور قوانین کو نافذ العمل بنانے کے لئے خصوصی کاوشیں کی گئی ہیں ۔ قبر ستانوں کو ہمیشہ ہی نظر انداز کیا گیا ہے، یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جہاں زندہ شہریوں کی رہائش کے لئے اقدامات ضروری ہیں، اسی طرح بعد از مرگ بھی اُن کے حقوق کا خیال رکھنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ اس ضمن میں ماڈل قبرستانوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن میں ایک ٹول فری نمبر پر کال کر کے تدفین کے تمام مراحل میں امداد حاصل کی جا سکتی ہے ۔

ٹیکنالوجی نے جہاں بے شمار فائد ے پہنچائے ہیں،وہاں ایک بہت بڑا نقصان یہ پہنچایا ہے کہ لوگ کتب سے دور ہو کر اپنی مشینوں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، اس سلسلے میں ایس ایم یو کے تحت موبائل لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔ اس سہولت کے تحت کتب کو لائبریری کی شکل میں جگہ جگہ پہنچایا جائے گا تاکہ لوگوں کی کتب کی طرف رغبت بڑھے۔ پاکستان میں کھانے پینے کے کاروبار میں بہت برکت ہے، خصوصاً پنجاب میں تو بہت ہی زیادہ برکت ہے ۔ ہم کھانے پینے کے معاملے میں بہت بے احتیاطی سے کام لینے لگ گئے ہیں جس کی وجہ سے بہت سی بیماریاں پھیلنا شروع ہو گئی ہیں ۔ حکومت پنجاب نے ایس ایم یو کے تحت ایک خصوصی اقدام اُٹھایا ہے جس میں ریسٹورنٹس کو باقاعدہ Gradeکیا جائے گا ۔ اس ضمن میں صفائی اور کھانے کے معیار کو سامنے رکھا جائے گا۔ کہنے کو تو ابھی بہت کچھ ہے، مگر میں اپنا قلم روک رہا ہوں کہیں لوگ یہ نہ سمجھیں کہ میں مسلم لیگ (ن)کا کارندہ ہوں ۔ مگر جو بیا ن کیا وہ حق ہے اور جہاں کوئی تعریف کامستحق ہو،اُس کی تعریف کرنا انصاف ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ آنے والے دِنوں میں ایس ایم یو پنجاب میں مثبت تبدیلی کا انقلاب بر پا ضرور کرے گا ۔

مزید : کالم