احتجاجی سیاست اور سینیٹر پرویز رشید کی کھری کھری باتیں

احتجاجی سیاست اور سینیٹر پرویز رشید کی کھری کھری باتیں
احتجاجی سیاست اور سینیٹر پرویز رشید کی کھری کھری باتیں

  

اِس بات سے تو کسی کو انکار نہیں کہ جمہوریت میں پُر امن احتجاجی جلسے، جلوسوں، ریلیوں اور اظہارِرائے کی اجازت ہے اور کسی خاص مسئلہ پر عوام کی توجہ مبذول کروانے کیلئے اپوزیشن جماعتیں اپنا یہ حق بھی استعمال کرتی ہیں لیکن ہمارے ملک کی اپوزیشن کے احتجاج کے انداز بالکل مختلف ہیں۔ اپوزیشن جمہوری آزادی کی بات تو کرتی ہے لیکن جمہوری روایات کی پاسداری سے ابھی کوسوں دور ہے ۔ہفتہ کے روز بھی پاکستان تحریک انصاف ، عوامی مسلم لیگ اور پاکستان عوامی تحریک نے لاہوراور راولپنڈی میں احتجاجی جلسے کیے اور اُن کی سیاست صرف شریف خاندان کے گرد ہی گھومتی رہی اور پُرانی تقریروں کے سِوا کارکنوں کو کچھ نہ ملا جبکہ وہ اپوزیشن رہنماؤں کی طرف سے کسی خاص حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے اعلان کا انتظار کرتے رہے۔ اُسی دِن وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے ان احتجاجی جلسوں اور ریلیوں کے حوالہ سے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کی اور احتجاج کرنے والے سیاستدانوں کو کھری کھری سنائیں ۔ سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ معلوم نہیں عمران خان کس چیز کا احتساب چاہتے ہیں اگر اُنہیں کوئی دلچسپی ہوتی تو وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں احتساب کا قانون بنانے کے لیے جو عملی قدم اُٹھایا گیا ہے اُس کی حمایت کرتے اور اگر وہ اِن دونوں جماعتوں کے مسودہ سے مطمئن نہیں تو اسمبلی میں اپنا مسودہ پیش کر سکتے ہیں لیکن عمران خان ایسا احتساب چاہتے ہیں جو الیکشن میں اِن کا مقابلہ کرنے والوں کو راستے سے ہٹا دے ۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی ریلیوں اور بِلا وجہ کے احتساب سے ملک و قوم کا اربوں کا نقصان ہوچکا ہے ۔ عمران خان کس بات کا احتساب چا ہتے ہیں ہمیں آج تک معلوم نہیں ہو سکا ۔ عمران خان احتساب میں سنجیدہ ہی نہیں اگر وہ احتساب کے لیے سنجیدہ ہوتے تو ایوان میں آ کر ہمارے ساتھ اِس حوالے سے بات کرتے کیو نکہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے احتساب کا جامع مسودہ قومی اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے ۔ عمران خان آج بھی اگر احتساب کے لیے سنجیدہ ہیں تو اُنہیں چاہیے کہ پارلیمنٹ میں آئیں اور پیش کردہ احتساب بل کی منظوری کے لیے اپناکردار اداکریں اور اس ضمن میں اگر وہ کسی مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں تو ہم اِس کے لیے بھی تیا ر ہیں ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ شریف خاندان نے عمر ان خان کے زمانہ طا لب علمی میں 1972میں ا سٹیل کا کاروبار شروع کیا تھا جس کے بارے میں وہ پوچھتے ہیں لیکن عمران کو یہ بھی تو بتانا چاہیئے کہ اُنہوں نے تب ریلیاں کیوں نہیں نکالیں جب پاکستان کو دہشت گردی کی جنگ میں دھکیلا گیا اور اِس جنگ میں دھکیلنے والوں کو اربوں ڈالر مِلے۔ عمران خان ملک کو دہشت گردی کی جنگ میں دھکیلنے والے پر ویز مشرف کے خلا ف کب ریلی نکال رہے ہیں۔

پرویز رشید نے دلائل کے ساتھ عمران خان کا سامنا کیا ہے اور اُن کی دلیلیں سچ بھی لگتی ہیں ۔ وزیر اطلاعات کا کہناتھا کہ عمران کے پاس عوام کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے وہ چاہتے تو یہ احتجاج مینار پاکستان گراؤنڈ میں بھی کر سکتے تھے لیکن اُنہیں 2013کے انتخابات اور بعد میں ضمنی انتخابات میں شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اور وہ اِس کا بدلہ عوام سے لینا چاہتے ہیں اِس لیے اُنہوں نے عوام کو اذیت پہچانے کا حتمی فیصلہ کر رکھا ہے جس پر وہ چل رہے ہیں ۔ عمران خان 2013والی باتوں کو ہی بار بار دہرا رہے ہیں کیوں کہ اُن کے پاس کرنے کو کوئی نئی بات ہے ہی نہیں ۔ شاہدرہ میں اُ ن کی تقریر بھی وہی پُرانی تھی جس کا ایک ایک لفظ عوام کو زبانی یاد ہو چکا ہے ۔ شیخ رشید کے بارے میں سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پنڈی والے صاحب روز پیش گوئیاں کرتے ہیں جب کہ آج تک اُ ن کی کوئی پیش گوئی درست ثابت نہیں ہوئی ۔ اگست 2014سے تھرڈ امپائر کی اُنگلی کا انتظار کرتے کرتے اگست 2015 بھی گزر گیا لیکن سب کچھ ویسے کا ویسے ہی ہے ۔ عمران خان اداروں پر یقین بھی نہیں رکھتے حالانکہ وہ اپنی شکایتیں لے کر بار بار انہی اداروں کے پاس جاتے ہیں جنہیں وہ تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ تحریک انصاف کے چیئر مین ہم سے تو ہر بات کا جواب مانگتے ہیں لیکن انہیں چاہیے کہ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا بھی جواب دیں اور تحریک انصاف کے ہی بانی رکن اکبر ایس بابر کی پیٹیشن کا کیوں جواب نہیں دیتے ، اکبر ایس بابر نے عمران خا ن پر بیرون ملک غیر قانونی چندہ جمع کرنے کا بھی الزام لگایا ہے لیکن عمران خان نے الیکشن کمیشن میں دائر کیس کے حوالے سے اپنی آنکھیں بند کی ہوئی ہیں ، اگر عمران خان ہی قانون کا احترام نہیں کریں گے تو اُن کے کارکن کیسے احترام کریں گے ، عمران خان کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کا جواب دیں ۔

پرویزصاحب کا یہ موقف بھی درست ثابت ہوتا ہے کیوں کہ عمران خان جس الیکشن کمیشن پر تنقید کرتے ہیں اُسی الیکشن کمیشن کے پاس اُنہوں نے انتخابی اپیلیں دائر کر رکھی ہیں ۔ عمران خان الیکشن کمیشن کے کسی ضابطہ اخلاق کو مانتے ہی نہیں ۔ اسی طرح نیب پر بھی اعتماد نہیں کرتے لیکن وہاں لیگی رہنماؤں کے خلاف کیس دائر کرنے کا سوچ رہے ہیں ۔ پاکستان کی آزاد عدلیہ پر اُن کا اعتماد نہیں لیکن پانامہ لیکس کے معاملے پر پھر اِسی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی ۔ بظاہر دیکھا جا ئے تو خان صاحب کے قول و فعل میں کافی تضاد نظر آ رہا ہے ۔ لیگی رہنماء کا یہ بھی موقف تھا کہ تحریک انصاف کے چیئر مین اُن راہوں پر بھٹک رہے ہیں جہا ں سے اُن کو کچھ نہیں ملے گا ۔ عمران خان انتخابی عمل کے ذریعے ہونے والی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے اُنہیں چاہیئے کہ انتخابی عمل کے ذریعے ہونے والی تبدیلی کو تسلیم کریں اور چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوششیں چھوڑ دیں۔ پنڈی والا سیاستدان ، کینیڈی صاحب اور عمران خان تینوں قائدین عوام کی زندگی اجیرن بنانے کے نقطے پر تومتفق ہیں مگر تحریک کے ایک نام پر متفق نہیں۔ عمران خان نے انتخابات میں ووٹ نہ ملنے پر عوام سے انتقام لینا شروع کر دیا ہے ، لاہور اور راولپنڈی میں سیاسی ایڈونچر اور ہٹ دھرمی سے اربوں روپے کا نقصان ہوا اور قیمتی جانیں ضائع ہوئیں ، تحریک انصاف کے جلسوں کی رونقیں پھیکی پڑ چکی ہیں ۔ لاہور کی ریلی میں جتنے لوگ کنٹینر پر موجود تھے اتنے ہی نیچے تھے ۔

دوسری جانب دیکھیں تو حکمران جماعت احتجاجی سیاست کے باوجود ترقی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے اور مختلف اقتصادی اور سماجی شعبوں میں واضح ترقی نظر آ رہی ہے جس کا اعتراف غیر ملکی ادارے بھی کر رہے ہیں ۔ خان صاحب کو احتجاجی سیاست ترک کرکے مثبت اور تعمیری سیاست کی طرف آنا چاہیے اور عوام کو کوئی واضح پروگرام بھی دینا چاہیے تا کہ الیکشن 2018کے لیے خود کو تیار کریں ۔

مزید : کالم