قادیانیوں پر غلط الزام لگایا جا رہا ہے

قادیانیوں پر غلط الزام لگایا جا رہا ہے

مکرمی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ‘یکم ستمبر 2016ء کو روزنامہ پاکستان لاہور کی اشاعت میں خبر شائع ہوئی جس کا عنوان ہے ’’قادیانی پاکستان کے ساتھ کبھی بھی مخلص نہیں ہوسکتے : مفتی محمد عثمان‘‘ اس کی تفصیل میں مزید بے بنیاد الزامات عائد کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ فتنہ قادیانیت دور غلامی کی بدترین یادگار ہے۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ قادیانی پاکستان کے ساتھ کبھی مخلص نہیں ہوسکتے، انہیں سرکاری عہدوں پر فائز نہ کیا جائے اور قادیانی آرڈیننس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ جماعت احمدیہ ایک پرامن محب وطن جماعت ہے، جماعت احمدیہ نے امام جماعت احمدیہ کی قیادت میں اس کے قیام کے لئے صرف زبانی ہی نہیں عملی طور پر جدوجہد کی ہے۔ ایک مخصوص سوچ کے تحت لکھوائی جانے والی نصابی کتب میں اگر احمدیوں کی پاکسان کے قیام اور استحکام کے لئے جدوجہد کو موضوع نہیں بنایا جا رہا تو اس سے تاریخی سچائیوں پر پردہ نہیں ڈالا جاسکتا۔ آج یہ لوگ پاکستان کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں اور قیام و استحکام پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والی محب وطن جماعت احمدیہ پر اس طرح کے گھناؤنے اور بے سروپا الزامات لگاتے ہیں۔ افراد جماعت احمدیہ نے تو اپنی حیثیت کے مطابق پاکستان کی خدمت کی ہے اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پاکستان کے نام کی سربلندی کے لئے دن رات ایک کیا ہے۔ لاکھوں احمدی کسی نہ کسی رنگ میں اپنے وطن کے ساتھ خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ کیا آپ علم کے میدان میں ڈاکٹر عبدالسلام کی خدمات کو فراموش کرسکتے ہیں، جنہیں دنیائے علم کا سب سے بڑا اعزاز نوبل انعام پیش کیا گیا۔ کیا یہ منظر آپ کو یاد ہے کہ اس انتہائی پروقار تقریب میں انہوں نے اس تقریب کے مروجہ لباس کی بجائے پاکستان کا قومی لباس پہن کر اعزاز وصول کیا تھا۔

کیا آپ کو سر ظفر اللہ خان کی خدمات بھول گئیں جو انہوں نے سیاست اور قانون کے میدان میں برصغیر کے مسلمانوں کے لئے انجام دیں۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ کشمیر کے معاملے پر ان کی انتھک محنت سے اقوام متحدہ میں کشمیریوں کے لئے حق خودارادیت کی قرارداد منظور ہوئی تھی؟ پنجاب باؤنڈری کمیشن ہو یا عالمی عدالت کے چیف جسٹس کی مسند، پاکستان کے وزیر خارجہ کی حیثیت سے فرائض کی ادائیگی ہو یا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدارت، چودھری ظفر اللہ خان صاحب نے تو پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا ہے۔ اسی طرح احمدی سپاہیوں سے لے کر احمدی جرنیلوں تک، جس کو موقع ملا اس نے وطن عزیز پر اپنی جان نچھاور کر دی۔ آج بھی اہل وطن کسی مشکل کا شکار ہو جائیں تو احمدیوں کے دل اپنے بھائیوں کی تکلیف پر تڑپ اٹھتے ہیں اور جس طرح بن پڑے خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔پہلے بھی اس طرح کی خبروں کی اشاعت پر آپ کو خط لکھا گیا تھا جس پر آپ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آپ کی ہدایت بے اثر ثابت ہوئی اور احمدیوں کے خلاف صحافت کے ضابطہ اخلاق کے منافی خبریں مسلسل شائع ہو رہی ہیں۔( مرزا غلام احمد،قائم مقام ناظر امور عامہ، ربوہ(چناب نگر) ضلع چنیوٹ)

مزید : اداریہ