شہدائے جنگ ستمبر 1965ء کو ہمارا سلام

شہدائے جنگ ستمبر 1965ء کو ہمارا سلام
شہدائے جنگ ستمبر 1965ء کو ہمارا سلام

  

6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاکستان پر اچانک بزدلانہ حملہ کیا تومادر وطن کے دفاع میں ہمارے افسروں اور جوانوں نے جرات و سرفروشی کی عظیم الشان مثالیں قائم کیں۔ ان کی قربانیاں’ بلند حوصلے ’ فرض شناسی اور پیشہ ورانہ مہارت کی اعلی ترین مثالیں ہیں جن کے لئے انہیں خراج تحسین پیش کرنا ہم سب پر واجب ہے۔ اس لئے ضروری تھا کہ 1965ء کی جنگ کی منصوبہ بندی ’ جنگ کے لئے تیاری اور جارحیت کو شکست دینے کی حکمت عملی کا تنقیدی جائزہ لیا جائے۔ یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ کمزوریوں کا ازالہ کیا جائے تاکہ پاکستانی فوج کودنیا کی بہترین افواج میں شامل کیا جا سکے۔

خوش قسمتی سے 1980ء کے اوائل میں خصوصا 1971ء کی جنگ کے بعد فوج کی خامیوں کا ہمیں شدت سے احساس تھا جسے ختم کرکے فوج کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ترقی دینا مقصودتھا۔ یہ وہ وقت تھا جب بری فوج کو2000 ء اور اس سے آگے تک کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لئے ہماری عسکری قیادت اعلی عسکری تعلیم سے مزین ہو چکی تھی اورساتھ ہی ہمیں چین کی غیرمشروط مدد بھی حاصل تھی جسے ہم رحمت ایزدی سمجھتے ہیں۔یہی دو اہم عوامل تھے ’ یعنی وہ تخلیقی قوتیں جن کی بدولت پاکستانی فوج ایک جدید ترین فوج بننے کے اہداف حاصل کر سکی ہے اور اب نوے فیصد(90%)تک خودانحصاری حاصل ہے اور چالیس دنوں تک جنگ لڑنے کی صلاحیت بھی ہے ’الحمدللہ۔بلاشبہ یہ بہت مشکل کام تھا جسے چین جیسے مخلص دوست کی مدد سے حاصل کر لیا گیا۔یہاں ترقی کی ان دو تخلیقی قوتوں کا تفصیلی ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن کی بدولت پاکستانی مسلح افواج جدید ترین لڑاکا قوت بن گئی ہیں اور ان کا شمار دنیاکی بہترین مسلح افواج میں ہوتاہے۔

1980ء کی دہائی میںArmed Forces War College کی بدولت ہماری عسکری قیادت اعلی عسکری تعلیم سے آراستہ ہو چکی تھی اور فوجی فارمیشنوں ’اداروں اور تمام عسکری شعبوں کی سربراہی وار کالج کے فارغ التحصیل افسروں کے ہاتھوں میں تھی جنہوں نے برّی فوج کے تمام نظام کو ترقی یافتہ بنانے کا جامع منصوبہ بنایا تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے کثیرالجہتی خطرات اور جنگ کے چیلنجوں سے احسن طریقے سے نمٹا جا سکے۔ میں اس وقت جی ایچ کیو میں بحیثیت چیف آف جنرل سٹاف تعینات تھا۔مجھے یہ ذمہ داری تفویض کی گئی کہ مسلح افواج کونئے اسلحہ جات’ عسکری سازوسامان اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے کے ذرائع تلاش کئے جائیں تاکہ ترویج اورترقی کا منصوبہ مکمل کیا جا سکے۔ہم نے متعدددوست ممالک سے رابطے کئے اوربالآخر چین کی جانب سے حوصلہ افزا جواب ملا۔

1982ء کے اوائل میں ہم نے مطلوبہ سامان کی تلاش کے لئے چین کا پہلا دورہ کیا۔ ہمارے پاس مطلوبہ سامان کی ایک فہرست تھی اور ہمیں 600 ملین ڈالر کے اندر رہتے ہوئے خریداری کرنی تھی۔ تین دنوں میں ہماری چینی حکام کے ساتھ تین ملاقاتیں ہوئیں اور ہمیں بتایا گیا کہ معاملات کو حتمی شکل دینے کے لئے ہم چار ہفتوں بعددوبارہ آئیں۔ اگلے ماہ ہم پھرچین جا پہنچے جہاں ہماراپرتباک خیرمقدم کیا گیا اور ہمیں ایک کانفرنس روم میں لایا گیا جہاں سول کپڑوں میں ملبوس متعد د چینی بزرگ ہمارے منتظرتھے۔میں نے اپنے میزبان سے پوچھا:‘‘ کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ آپ ہمیں غلط جگہ پر لے آئے ہیں؟

ہمیں جواب ملا ‘‘نہیں ’ بلکہ ہم آپ کو اپنی معروف دفاعی پیداواری کمپنیوں کے سربراہوں سے ملاقات کے لئے یہاں لائے ہیں ’ جوآپ کو بتائیں گے کہ ان کے پاس آپ کو دینے کے لئے کیا کچھ ہے اور کب تک وہ آپ کا مطلوبہ سامان حرب دے سکیں گے۔’’ہمیں اطمینان ہوا اور میٹنگ شروع ہوئی۔ سامان کی فہرست’ جو ہم نے گذشتہ ماہ ان کے حوالے کی تھی’اس پر بات چیت کرنے میں ایک گھنٹہ لگا اور وہ ہماراتمام مطلوبہ سامان’ بغیر کسی پیشگی شرط کے دینے پر رضا مند ہو گئے۔ہم نے ان کاشکریہ ادا کیا اور اس سے پیشترکہ ہم رخصت ہوتے ہمارے میزبان نے پوچھا:‘‘کیا آپ کو بس یہی کچھ چاہئے تھا یا کچھ اور بھی ہے؟’’ میں نے کہا‘‘ہمیں چاہئے تو اور بھی بہت کچھ لیکن ہمیں اپنے وسائل کے اندر رہ کر خریداری کرنی ہے ’ یعنی 600 ملین ڈالر ’ جو ہمیں فراہم کئے گئے ہیں۔’’ انہوں نے کہا ‘‘ٹھیک ہے ’ لیکن ہم آپ کے مطلوبہ سامان کی فہرست دیکھنا چاہیں گے۔’’میں نے فہرست نکالی اور ایک ایک ائیٹم (Item)پر بات کی۔ہمارے چینی دوستوں نے ہر مطالبے کو خوش دلی سے قبول کرلیا لیکن جب حساب کتاب کیا گیا تو معاملہ 1.7 بلین ڈالر تک جا پہنچا۔ میں نے کہا: ‘‘ہم اتنی بھاری رقم کیسے ادا کریں گے؟’’ ہمیں جواب ملا: ‘‘آپ اپنی سہولت کے مطابق جیسے چاہیں ’آئندہ پچیس (25) برسوں میں برائے نام مارک اپ (Mark-up)کے ساتھ ادائیگی کریں۔’’ سبحان اللہ‘‘ دوستی اسی کو کہتے ہیں۔

ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی اور وطن واپس لوٹے اور چیف آف آرمی سٹاف اوردیگر ساتھیوں کو کامیابی کی نویدسنائی۔اس تعاون کی بدولت فوج میں ٹیکنالوجی کی منتقلی’ خودانحصاری’ اسلحہ سازی کے نظام کی وسعت ’ ہتھیاروں اور میزائل کے نظام کی ترقی اورملکی سطح پر انجینئرنگ (System Egineering)کے شعبہ کی ترقی کے لئے نئے دور کا آغاز ہوا’ ہم نے اپنے ماہرین اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ماہرانہ کوششوں کی بدولت ایک دہائی سے بھی کم مدت میں بھرپور صلاحیت حاصل کر لی۔ 1988ء میں ہم نے الخالد ٹینک کا تجربہ کیا جس نے ‘‘پانچ تجرباتی مراحل ’’ میں امریکہ کے بہترین ایم ون اے ون (M1A1)ٹینک کو مات دی۔اسی طرح ہم نے اعلی تکنیکی ہتھیاروں’عسکری سازوسامان اور گولہ باررود تیار کرنے کے میدان میں نوے فیصد (90%) تک خودانحصاری حاصل کر لی جو ایک خواب تھا ’ جس کی تعبیر چین کی عسکری قیادت اور اس کی دفاعی پیداواری صنعتوں کی غیر مشروط مدد سے ممکن ہوئی۔کوئی اور ملک اس حد تک ہماری مدد نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان کا مفاد محض فوجی سازوسامان فروخت کرکے پیسے بنانا ہوتا ہے جبکہ چین کی دلچسپی پاکستان کے ساتھ مل کر تزویراتی مرکز قائم کرنا تھا جس کا مقصد باہمی تعاون کے ذریعے پورے خطے کو امن کا گہوارا بنانا تھا۔اس طرح حاصل کردہ صلاحیت کی وجہ سے ہم اپنے جنگی منصوبے میں حقیقت کا رنگ بھرنے میں کامیاب ہوئے اور ہماری اس صلاحیت کے معنی یہ ہیں کہ ہماری افواج نے پہلے حملہ کرنے(Pre -emption) اور جارحانہ دفاع (Offensive defence)کے ذریعے جنگ کے فیصلہ کن نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اب ہماری مسلح افواج کو یہ بھرپور صلاحیت حاصل ہے جسے دوسرے لفظوں میں‘‘ قوت مزاحمت ’’(Deterrence)بھی کہا جاتا ہے جوپاکستانی مسلح افواج کی کارکردگی کا اہم جز ہے۔

چین نے کبھی ہماری اندرونی سیاست میں دخل اندازی نہیں کی’ نہ ہی وہ ہماری حکومتوں کو گرانے اور بنانے کے مکروہ کھیل میں ملوث ہواہے اور نہ ہی ہماری فوجی یا سویلین حکومتیں اس کی ترجیحات میں شامل رہی ہیں۔چین کی واحد ترجیح پاکستانی عوام کی بھلائی ہے’ اور یہی وہ تعلق ہے جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتے ہیں ’ ایسا احترام جو کسی اورملک کے نصیب میں نہیں ہے۔مجھے یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہے کہ اسی دفاعی اشتراک نے ہمیں الخالد جیسا ٹینک ’ کثیرالجہتی کردار کا حامل جے ایف سترہ تھنڈر طیارہ ’ جدید ترین ایف22 Frigate بحری جہاز اور حال ہی میں مخفی طور پر حملہ کرنے والی سب میرین سیٹلتھ دی ہیں۔اور یہی باہمی اشتراک پاک چین اقتصادی تعاون (CPEC) کی بنیاد ہے جو دونوں ممالک کے مابین ایک مضبوط اور مثالی تذویراتی مرکز کی بنیاد بن چکا ہے۔اب ہماری مسلح افواج کو جنگ کے تینوں شعبوں کے درمیان ہم آہنگی حاصل ہے یعنی ’جدید ہتھیاروں’ عسکری سازو سامان کے استعمال اور عسکری تزویراتی سوچ کے میدان میں مہارت اورسب سے بڑھ کر قومی اہداف کے حصول کی خاطر ہمارے افسروں و جوانوں کی پیشہ ورانہ صلاحیتیں ’ لگن ’ قربانی کا لازوال جذبہ اور ان کا مثالی کردار ہے۔

ان مقاصد کے حصول کے بعد اپنی عسکری صلاحیتوں کا مظاہرہ ضروری تھا۔ اس لئے1989ء کی سردیوں میں ضرب مومن نامی فوجی مشقوں کا انعقاد کیا گیا تاکہ قوم اور بیرونی دنیا ہماری فوج کی ان صلاحیتوں کا عملی مظاہرہ دیکھ سکیں۔ تئیس (23) ممالک کے عسکری وفود اور ایک سو سے زیادہ پاکستانی نوجوان صحافیوں نے ان فوجی مشقوں کا نزدیک سے مشاہدہ کیا تھا جنہیں مختلف یونٹوں اور فارمیشنوں میں ٹھہرایا گیا تھا۔اس کاروائی کا مقصد فوج پرقوم کا اعتماد بڑھانا اور دنیاکوملکی دفاع کی خاطر فوج کی صلاحیتوں سے آگاہ کرنا تھا۔یہی کامیابیاں ہم سب کی جانب سے ہمارے شہداء کو خراج تحسین ہیں جن کی لازوال قربانیوں نے ہمیں روشنی کی کرن دکھائی تاکہ ہم ان کی پیروی کر تے ہوئے اپنے وطن کے تحفظ کی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ اللہ تعالی ہمارے شہدائے جنگ ستمبر 1965ء کے درجات بلند فرمائے۔ آمین

مزید : کالم