ایم کیو ایم: نئی یا پرانی

ایم کیو ایم: نئی یا پرانی
ایم کیو ایم: نئی یا پرانی

  

ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فا روق ستار کے اعلان کے بعد بھی خاص و عام تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ فاروق ستار کسی بیرونی مشاورت کے بغیر ایم کیو ایم کی سربراہی کرنے کے لئے با اختیار ہیں۔ اس اعلان کے بعد قومی اسمبلی میں ایک قرار داد بھی پیش کی گئی جس کی انہوں نے حمایت کی جس میں الطاف حسین کے بیان کی مذمت کی گئی، پھر بھی لوگوں کو یقین نہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان اور ایم کیو ایم لندن دو علیحدہ شناخت ہو گئی ہیں۔ فاروق ستار بار بار کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم پاکستان اپنے فیصلے خود کرے گی اور کہیں سے تائید اور توثیق نہیں کرائے گی۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے جھنڈے سے الطاف حسین کی تصویر بھی ہٹا دی ہے کہ مائنس الطاف کا تقاضہ بھی یہی تھا۔ ایم کیو ایم کا جھنڈا ہو، اسے اتارنا لازمی ٹھہراہے، الطاف حسین کی تصویر ہو ، اسے ضائع کرنا ضروری قرار پایا ہے، ایم کیو ایم کا دفتر ہو تو اسے مسمار کرنا تقاضہ وقت بتایا گیا ہے۔ ایم کیو ایم میں 22 اگست سے قبل جس طریقہ کار پر عمل کیا جاتا تھا، اس کے تحت لندن سے توثیق لازمی تصور کی جاتی تھی۔ الطاف حسین پاکستان سے 1992ء میں لندن جا بسے تھے۔ وہ اپنی جماعت لندن میں بیٹھ کر چلا رہے تھے۔ 1992ء سے اگست 2016ء تک ہر قسم کے اتار چڑھاؤ کے باوجود لندن میں کئے جانے والے فیصلوں کے تحت ہی ایم کیو ایم کام کر رہی تھی۔

پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی بھی حیران کن تاریخ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ بھی پاکستان منتقل ہو گئی تھی۔ قائد اعظم محمد علی جناح چونکہ مملکت کے گورنر جنرل مقرر ہو گئے تھے، اس لئے پارٹی کی سربراہی وزیر ا عظم لیاقت علی خان کے ذمہ ہو گئی تھی۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے مسلم لیگ مختلف ادوار میں دھڑوں میں تقسیم ہوتی چلی گئی تھی۔ طالع آزماؤں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے نئی نئی پارٹیاں بھی تشکیل دی تھیں، لیکن وہ پارٹیاں حکومتوں کے خاتموں کے ساتھ ہی ختم ہوتی چلی گئی تھیں۔ جنرل ایوب خان کو جب فوج کی سربراہی سے فارغ ہونا پڑا تو انہوں نے بھی اپنی پارٹی کی داغ بیل ڈالی۔ اس پارٹی کا نام کنونشن مسلم لیگ رکھا گیا۔ لیگ ایک بار پھر تقسیم ہوئی تھی، اس لئے ایوب مخالف سیاسی عناصر مسلم لیگ کونسل میں شامل ہوگئے تھے۔ کونسل مسلم لیگ کا آخری معرکہ ایوب خان کے مقابلے میں محترمہ فاطمہ جناح کو ان کے انکار کے باوجود جنرل ایوب خان کے مقابلے میں پاکستان کی صدارت کا امیدوار نامزد کرنا تھا۔ ایوب خان کی دھاندلی پر مبنی کامیابی کے بعد محترمہ فاطمہ جناح کونسل ہی نہیں، سیاست سے بھی عملاً کنارہ کش ہو گئی تھیں ۔ کونسل مسلم لیگ نے 1970 ء کے انتخابات میں حصہ لیا۔ اس کے سربراہ صوبہ سندھ کے سیاست دان نجم الدین سریوال تھے۔نجم الدین سریوال کی ذوالفقارعلی بھٹو کے مقابلے میں انتخابی ناکامی کے بعد پارٹی عملًا ختم ہوگئی تھی اور اکابرین میں سے اکثر نے پاکستان پیپلز پارٹی میں سیاسی پناہ حاصل کر لی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک کے دو لخت ہوجانے کے بعد اس وقت کے مغربی پاکستان میں جو آج کا پاکستان ہے، اقتدار سنبھالا تھا۔یہ پیپلز پارٹی کے عروج کاتھا 1977 ء میں مارشل لاء کے نفاذ کے بعد پارٹی کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے نوے روز میں انتخابات کرانے کی بجائے احتساب کے نعرے پر عمل شروع کیا اور پارٹی کے سربراہ کے خلاف قتل کا ایک مقدمہ چلایا گیا ، پارٹی ابتلاء سے دوچار ہوئی۔ جنرل ضیاء الحق نے پارٹی کو تقسیم کرانے کی کوشش کی۔ پیپلز پارٹی کے وزیر اطلاعات مولانا کوثر نیازی نے اپنی پارٹی قائم کی۔ پنجاب سے سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے تر جمان اخبار روز نامہ مساوات کے بانی مدیر محمد حنیف رامے نے مساوات پارٹی کھڑی کرنے کی کوشش کی۔ بعض دیگر رہنماؤں نے بھی اپنی اپنی پارٹی قائم کرنے کی کوشش کی۔ آخری بڑی کوشش بُھٹو کے بااعتماد دوست، سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ، پیپلز پارٹی کی صفوں میں عزت و احترام سے دیکھنے جانے والے غلام مصطفی جتوئی نے نیشنل پیپلز پارٹی قائم کی۔ پنجاب کے گورنر غلام مصطفی کھر بھی ان کے شانہ بشانہ تھے۔ نیشنل پیپلز پارٹی جتنی دھوم دھام سے قائم کی گئی تھی، اتنی ہی خاموشی کے ساتھ 1988ء میں ہونے والے عام انتخابات میں بستر مرگ پر چلی گئی تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مرحومہ بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں اور لوگوں کو ان کے مد مقابل کوئی اور نہیں بھاتا تھا۔ جتوئی کے لئے تو اتنا برا وقت تھا کہ وہ اپنے آبائی ( یہ پاکستانی سیاست کا خاصہ ہے کہ یہاں انتخابی حلقے کو بھی آبائی قرار دیا جاتا ہے) انتخابی حلقے سے ایک ایسے شخص رحمت اللہ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہو گئے تھے ، جس کی سیاسی زندگی قلیل تھی۔ غلام مصطفی جتوئی کی شکست عام لوگوں کا فیصلہ تھا کہ انہیں پارٹی عزیز تھی، اور جب پارٹی کی قیادت ذوالفقار علی بھٹو کی بیٹی کر رہی ہو تو زیادہ ہی عزیز تھی۔ غرض پارٹی کو تقسیم کرنے کی کوششیں بار آور ثابت نہ ہوئیں۔ پاکستانیوں کا عجیب سیاسی مزاج ہے۔ ان کی پسندناپسند سیاسی پالیسی کبھی نہیں رہی ۔ انہیں پارٹی کے منشور، پروگرام اور منصوبوں سے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ ویسے بھی پارٹیاں اپنے منشور پر عمل در آمد میں کبھی سنجیدہ بھی نہیں ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ کا تو سرے سے منشور ہی نہیں تھا۔پیپلز پارٹی نے منشور کا اعلان کیا تھا ،جس کے چار اصولوں کو نعروں میں تبدیل کر دیا گیا، لیکن ان پر بھی ان کی حقیقی روح کے مطابق عمل نہیں کیا گیا۔ پاکستانی عوام شخصیت کے گرویدہ ہوتے ہیں اور اسی کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں۔ پارٹیاں بھی ایک ہی شخص کے گرد گھومتی ہیں۔ رائے پارٹی کے سربراہ کی ہوتی ہے جس سے ، نہ چاہتے ہوئے بھی سب کو اتفاق کرنا پڑتا ہے۔ جو اتفاق نہیں کرتے، وہ فراق نصیب ہوتے ہیں، ایم کیو ایم بھی کیوں مختلف ہوتی۔ اس نے بھی اپنے منشور اور قیام کے بنیادی مقاصد پر عمل در آمد نہیں کیا، حالانکہ وہ مختلف اوقات میں حکومتوں میں رہی یا حکومت کرنے والی جماعتوں کی حامی رہی۔ پیپلز پارٹی کی حمایت کی گئی۔ مسلم لیگ(ن) کی مدد کی گئی۔ مطلب یہ ہوا کہ بیساکھی بنی رہی۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں تو ایم کیو ایم کو جو عروج حاصل ہوا، اور اس کے وزراء نے اختیارات کا استعمال کیا ، اس کا عشر عشیربھی مہاجروں کے بنیادی مسائل حل کرنے پر صرف کیا جاتا تو ایم کیو ایم آ ج جس صورت حال سے دوچار ہے، اس سے محفوظ رہتی۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم گھرانوں کے نوجوانوں نے بے روز گاری سے نمٹنے کے جو حل نکالے، ان کا ذکر تو ہر زبان پر ہے۔ یہ نوجوان سیاست کے نام پر غیر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ہوتے رہے۔ ان کے کندھوں کو استعمال کرنے والے دولت مند بن گئے ، پارٹی کے ساتھ وابستہ اکثر ایسے ایسے لوگ، کیسے کیسے لوگ بن گئے، لیکن ان نوجوانوں کے گھروں پر بھوک اور افلاس کا سایہ برقرار رہا۔

مہاجروں کا ووٹ حاصل کرنے والی جماعت ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بھی بنی ،لیکن مہاجر وں کو درپیش بنیادی مسائل کبھی حل نہیں ہو سکے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ کسی حکومت یا کسی اور ادارے یا ان عناصر نے جنہیں کراچی کی روشنیاں عزیز ہیں، سنجیدگی کے ساتھ کراچی کے وسائل سے محروم گھرانوں کے مسائل کی طرف توجہ ہی نہیں ۔ ان سے توقع بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ اختیارات کے چشمے پر بیٹھے ہوئے لوگ اپنے ہی علاقوں کے غریب لوگوں کے مسائل پر توجہ نہیں دیتے ، وہ کراچی کے لوگوں پر کیا توجہ دیں گے۔ کراچی کو روشنیوں کا شہر بنانے والوں کی ایک ہی دیرینہ خواہش ہے کہ کراچی سے انہیں بھی نمائندگی حاصل ہو جائے۔ سن 1970ء میں کراچی سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سب ہی کو نمائدگی حاصل ہوئی تھی۔ پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، کونسل مسلم لیگ، جمعیت علمائے پاکستان کے امیدواروں کو منتخب کر کے اسمبلیوں میں بھیجا تھا۔ پارٹیوں کوتو سب کچھ ملا ،لیکن لوگوں کو کچھ نہیں ملا تھا۔ ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سے مہاجروں نے ایم کیو ایم کو اجتماعی سودا کاری ایجنٹ تصور کیا اور اپنے ووٹ ایم کیو ایم کے کھاتے میں ڈالنے کے باوجود بھی ان کے مسائل سر اٹھائے کھڑے ہی رہے۔انہیں قدم قدم پر امتیازی سلوک کا سامنا بھی رہا۔ ایم کیو ایم کی حمایت کرنے کا خمیازہ اور سزا بھی انہوں نے بھگتی۔ حکومت سندھ میں آنے والوں نے ان کے درد کا کبھی احساس ہی نہیں کیا۔ عدالتوں میں بھی انہیں ہی وکلاء اور منصف حضرات کے ہاتھوں مختلف اقسام کی روحانی، ذہنی اور جسمانی تکالیف سے دو چار ہونا پڑا۔ ایسے واقعات بھی لوگوں کے علم میں ہیں کہ بہنوں کو اپنے بھائیوں کی ضمانتیں کرانے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنا پڑا۔ ان کے ہر گھر میں آہ و فغاں ہی رہی۔ صورت حال سائنسدان عبدالقدیر خان کے اس شعر کے مطابق یہی ہے

گزر تو خیر گئی ہے تری حیات قدیر

ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے

بہر حال صوبہ سندھ میں بسنے والے مہاجر آج ایک بار پھر حیران و پریشان چوراہے پر کھڑے ہیں۔ پیپلز پارٹی انہیں گلے لگانے پر آمادہ نہیں۔ مسلم لیگ(ن) انہیں اپنا بنانے پر تیار نہیں ۔ تحریک انصاف بھی ان سے صرف ووٹ کی طلب گا رہے۔ جماعت اسلامی کو ان سے گلہ ہی رہتا ہے کہ انہوں نے ان کا کراچی ایم کیو ایم کے حوالے کردیا۔ ایسی متذبذب صورت حال سے دوچار ایم کیو ایم کے حامی فارسی زبان کے اس مقولے پر بھی عمل نہیں کر سکتے کہ ’’ مترس از بلائے کہ شب درمیاں ست ۔۔۔(مصیبت سے مت ڈرا ، ابھی رات درمیان میں ہے)۔۔۔ مطلب یہ کہ اس مصیبت کی فکر میں پریشان نہیں ہونا چاہئے جو ابھی نہ آئی ہو۔۔۔لیکن انہیں جو مصیبتیں درپیش ہیں ان کی رات تو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہے۔اس صورت حال میں وہ کیا کہیں کہ ایم کیوم ایم ، نئی یا پرانی، کس کے ساتھ ان کی ہمدردی ہے؟

مزید : کالم