چین کی پاکستان کے ایس ایم ای سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ میں دلچسپی

چین کی پاکستان کے ایس ایم ای سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ میں دلچسپی

لاہور (کامرس رپورٹر)چین ، پاکستان کے ایس ایم ای سیکٹر میں مشترکہ سرمایہ کاری کے فروغ میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ یہ بات چین کے ایک تیس رکنی تجارتی وفد کے قائد مسٹر زینگ ہوا نے گزشتہ روز سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی’سمیڈا‘کے صدر دفتر میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر سمیڈا کے ماہرین کی ٹیم کی قیادت سمیڈا کے آؤٹ ریچ ڈویژن کے جنرل مینجر محمد عالمگیر چوہدری کر رہے تھے۔ جبکہ انکے ہمراہ سمیڈا پنجاب کے پراونشل چیف راجہ حسنین جاوید اور ایکسٹرنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹکے ہیڈ شہریار طاہر بھی موجود تھے۔ چینی وفد کے سربراہ مسٹر زینگ ہوا نے بتا یا کہ انکے وفد میں شامل زیادہ ارکان کا تعلق بلڈنگ میٹریل، کنسٹرکشن، گارمنٹس، فرنیچر، سٹیل سٹرکچر، لاجسٹک اور ایکسپورٹ امپورٹ کے شعبوں سے ہے۔ اور انکے پاکستان آنے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر ممالک کی طرح چین میں بھی ایس ایم ای سیکٹر معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور جی ڈی پی کا زیادہ تر حصہ ایس ایم ای سیکٹر ہی سے آتا ہے۔ انہوں نے ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی کے حوالے اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کہا کہ وہ اگلی مرتبہ ایس ایم ای سیکٹر سے متعلق اراکین پر مبنی وفد پاکستان لے کر آئیں گے ۔

انہوں نے سمیڈا کے اہلکاروں کو چین آنے کی دعوت دی اور خاص طورپر انہوں نے چین میں منعقد ہونے والے لاجسٹک فیرء میں شرکت کیلئے کہا۔ انہو ں نے بتا یا کہ لاجسٹک فیئر چین میں ہونے والاسب سے بڑا تجارتی میلہ ہے۔چینی وفد کے قائد نے اس امر کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب اور چین کے صوبہ شینڈونگ کو برادر صوبے قرار دیا جا چکا ہے جس کی بنا پر دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی روابط کو بے حد تقویت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب چونکہ ایس ایم ای سیکٹر پر مبنی صوبہ ہے اس لئے یہاں ایس ایم ای سیکٹر میں چینی سرمایہ کاری کی وسیع تر گنجائش موجود ہے جس سے استفادہ کیلئے مستقبل میں چین سے ایس ایم ای کے منتخب شعبوں سے متعلقہ سرمایہ کاروں کو پاکستان بھجوایا جائے گا۔سمیڈا کی انتظامیہ نے چین اور پاکستان کے درمیان ایس ایم ای سیکٹر میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے سمیڈا کے صدر دفتر میں ایک خصوصی ’’پاک چین ڈیسک‘‘ قائم کرنے کی بھی پیشکش کی اور کہا کہ مجوزہ ڈیسک کی پہنچ ملک بھر میں قائم یک رکنی ریجنل بزنس سنٹروں کے توسط سے پاکستان بھر میں ممکن بنائی جائے گا۔

مزید : کامرس