ازبکستان کے تجارتی و فد کا اسلام آباد چیمبر کا دورہ ،تجارتی تعلقات کے فروغ میں دلچسپی

ازبکستان کے تجارتی و فد کا اسلام آباد چیمبر کا دورہ ،تجارتی تعلقات کے فروغ ...

اسلام آباد( آن لائن ) ازبکستان کے ایک 10 رکنی وفد نے نادر اتاجانوو کی قیادت میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔وفد میں زرعی مشینری، توانائی، کمیکلز و کمیکل انڈسٹری، آٹوموبائل اور پلاسٹک میٹریل سمیت دیگر شعبوں کے نمائندگان شامل تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ازبکستان وفد کے قائد نادر اتاجانوو نے کہا کہ ان کا ملک قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور پاکستان ازبکستان کے ساتھ قریبی تعاون کو فروغ دے کر اپنی معیشت کیلئے متعدد فوائد حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ازبکستان کے وفد کا پاکستان کا دورہ کرنے کا مقصد پاکستان کی معیشت کے مختلف شعبوں میں جوائنٹ وینچرز اور سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کے موجودہ دورے سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کی طرف مثبت پیش رفت ہو گی۔ اس موقع پر وفد کے ارکان نے اپنی اپنی مصنوعات کے بارے میں مقامی تاجروں کو تفصیلی پریزینٹیشن بھی دی۔اپنے استقبالیہ خطاب میں اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تقریبا 24ملین ڈالر کی موجودہ تجارت دونوں ممالک کی اصل صلاحیت سے بہت کم ہے لہذا دونوں ممالک کے نجی شعبے باہمی تجارت کو بہتر کرنے کیلئے کوششیں تیز کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک محدود اشیاء میں تجارت کر رہے ہیں جس وجہ سے تجارتی حجم بہت کم ہے۔

لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک مزید شعبوں میں باہمی تجارت کو فروغ دینے پر توجہ دیں جس سے دوطرفہ تجارت بہتر ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے درمیان زراعت، ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات کی تلاش، کمیکلز، فارماسوٹیکلز اور سیاحت سمیت متعدد شعبوں میں قریبی تعلقات کو فروغ دینے کے عمدہ مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنے کیلئے دونوں ممالک نجی شعبوں کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے مابین قریبی تعاون کا فروغ نہ صرف دونوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو گا بلکہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں ازبک سرمایہ کاروں کی شرکت سے علاقائی ترقی و خوشحالی بہتر ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان براہ راست ریلوے اور ہوائی روابط قائم کرنے پر توجہ دیں جس سے باہمی تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کی جغرافیائی حیثیت دونوں کیلئے فائدہ مندہے کیونکہ پاکستان ازبکستان کو جنوبی ایشیاء، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کی طرف مختصر زمینی راستہ فراہم کر سکتا ہے جبکہ ازبکستان پاکستان کو مشرقی ایشیاء کی منڈیوں تک آسان رسائی فراہم کر سکتا ہے۔عاطف اکرام شیخ نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک باقاعدگی کے ساتھ تجارتی وفود کا تبادلہ کرنے، نجی شعبوں کو آپس میں براہ راست روابط بڑھانے، تجارتی معلومات کا تبادلہ کرنے اور ایک دوسرے کے ملک میں سنگل کنٹری نمائشیں منعقد کرنے کی حوصلہ افزائی کریں جس سے باہمی تجارتی تعلقات میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک تاجر برادری کیلئے ویزے کے حصول کو مزید آسان بنائیں تا کہ تاجر وسرمایہ ایک دوسرے کے ملک کا آسانی کے ساتھ دورہ کر کے تجارتی تعلقات کو مزید بہتر کر سکیں ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ازبکستان کے تجارتی وفد کا موجودہ دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ ۔#/s#

*****

مزید : کامرس