متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی نہ لگائی جائے ، حکومتی جائزہ کمیٹی

متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی نہ لگائی جائے ، حکومتی جائزہ کمیٹی

لاہور (سعید چودھری) الطاف حسین کی پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعدوزیر خزانہ اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کی گئی اعلیٰ سطحی جائزہ کمیٹی نے ایم کیو ایم پر پابندی نہ لگانے کی تجویز دے دی ۔اسحاق ڈار ،اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی، وزیر مملکت انوشہ رحمان، سابق اٹارنی جنرل سلمان بٹ، قانونی امور کے مشیر بیرسٹر ظفر اللہ خان اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی خواجہ ظہیر احمدپر مشتمل اس جائزہ کمیٹی نے ایم کیو ایم پر پابندی کے سیاسی اور آئینی پہلوؤں کا جائزہ لے کر عبوری رپورٹ مرتب کر لی،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان میں فاروق ستار کی سربراہی میں الیکشن کمشن کے پاس رجسٹرڈ ہے ۔فاروق ستار ، ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی اور دیگر عہدیدارالطاف حسین اور ان کے پاکستان کے خلاف بیان سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کرچکے ہیں بلکہ ان کی طرف سے اس واقعہ کی مذمت بھی کی جاچکی ہے لہٰذاایسی صورت میں سردست ایم کیو ایم پر پابندی لگانا مناسب نہیں ہوگا ۔کمیٹی کی عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پر پابندی سے ایک سیاسی خلاء پیدا ہوگا جو ملک کے لئے فائدہ مند نہیں ۔ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ قیادت بادی النظر میں پاکستان زندہ باد پر یقین رکھتی ہے تاہم مستقبل میں ان کے سیاسی کردار پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا کہ ایم کیو ایم پر پابندی کے ملک پر کیا سیاسی اثرات مرتب ہوں گے اور یہ کہ اس پر پابندی کا کیا ردعمل ہوگا؟ کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیاکہ الطاف حسین سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد کیا اس جماعت کو ملک کی سالمیت اور حاکمیت اعلیٰ کیلئے خطرہ قرار دیا جاسکتا ہے؟ اس بابت عبوری رپورٹ میں ایم کیو ایم سے مثبت توقعات کا اظہار کیا گیا ہے ،کمیٹی نے الطاف حسین کی اب تک کی تمام تقاریر اور ٹیلیفونک خطاب کے ریکارڈ کاجائزہ لیا جسے مکمل طور پر پاکستان کی سالمیت ،استحکام اور اتحاد کے خلاف قرار دیا گیا ۔عبوری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین ایم کیو ایم سے مائنس ہوچکے ہیں جبکہ الیکشن کمشن میں رجسٹرڈ ایم کیو ایم میں الطاف حسین کوئی عہدیدار ہیں اور نہ ہی ان کا اس جماعت میں کوئی کردار باقی رہا ہے ۔کمیٹی کی عبوری رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات میں آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت ایم کیو ایم پر پابندی کا ڈیکلریشن جاری کرنا اور حکومت کی طرف سے اس بابت سپریم کورٹ کو ریفرنس بھیجنا قبل از وقت ہوگا ۔

حکومتی جائزہ کمیٹی

مزید : صفحہ اول