وزیراعظم کیخلاف چاروں ریفرنس مسترد ، اپوزیشن کا واک آؤٹ ، سپیکر غیر جانبدار نہیں رہے ، عمران خان

وزیراعظم کیخلاف چاروں ریفرنس مسترد ، اپوزیشن کا واک آؤٹ ، سپیکر غیر جانبدار ...

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،اے این این ) سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے وزیر اعظم کی نااہلی کیلئے دائرتمام 4ریفرنس جبکہ عمران خان کیخلاف ایک ریفرنس مسترد کر دیا۔تفصیلات کے مطابق سپیکر ایاز صادق نے وزیر اعظم کی نااہلی کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ 2، عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید اور سابق ایم این اے عمر فاروق کا ریفرنس مسترد کر دیا جبکہ عمران خان کی نااہلی کیلئے دائر دومیں سے ایک ریفرنس بھی مسترد کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوادیاہے۔ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کیخلاف ریفرنسوں میں مجھے پاناما لیکس میں وزیر اعظم کا کوئی لنک نظر نہیں آیا ،دستا ویزات میں مریم نواز بھی وزیر اعظم کی ڈیپنڈنٹ نظر نہیں آئیں۔انہوں نے کہا کہ جو ریفرنس آتے ہیں ان کیساتھ لگائے گئے کاغذات دیکھنے ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ سپیکر کا دفتر نہ تو عدالت ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی ایجنسی ،الیکشن کمیشن ہی فیصلہ کریگا کہ جو میں نے لکھا وہ درست ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ جہانگیرترین کیخلاف ریفرنس میں بہت سی چیزیں لگی ہیں جن کے تحت وہ نا اہل ہو سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ محمود اچکزئی کیخلاف ریفرنس میں کوئی ایک پیپر شامل نہیں تھا۔ایاز صادق نے کہا کہ نا اہلی کا سوال اٹھے یا نہ اٹھے مجھے ریفرنس الیکشن کمیشن بھیجنا ہوتا ہے ،حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ میں نے جو کچھ کیا سوچ سمجھ کر کیا ،میں کسی کو بلا کر پوچھ بھی نہیں سکتا تھا نہ ہی بلانا چاہیے ۔۔سپیکر آفس کی جانب سے الیکشن کمیشن کو ہدایت کی گئی ہے کہ ان ریفرنسز پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔واضح رہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کے پاس 30روز کے اندر کسی بھی ریفرنس کو سماعت کیلئے منظور یا مسترد کرنے کا آئینی اختیار ہوتا ہے، اگر سپیکر 30روز کے اندر کسی ریفرنس کو منظور یا مسترد نہیں کرتا تو پھر وہ آئینی لحاظ سے الیکشن کمیشن کو منتقل ہو جاتا ہے۔سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ شیخ رشید کا ریفرنس الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوایا گیااس سے متعلق شیخ رشید کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ۔شیخ رشید نے پاناما لیکس پر وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی کیلئے 162صفحات پر مشتمل ریفرنس16 اگست کو جمع کرایا تھا۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور دیگر فریقین کی جانب سے وزیر اعظم کی نااہلی کیلئے ریفرنس سپیکر کو جمع کرائے گئے تھے جس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی کیلئے ریفرنس فائل کیے گئے تھے۔دوسری جانب ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن فدا محمد نے سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 8 ریفرنسز موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے تاہم سپیکر کی جانب سے کئے گئے فیصلے بتانے سے گریزکیا۔ایڈیشنل سیکرٹری فدا محمد کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کے خلاف 4ریفرنس دائر کئے گئے جس میں سے 2تحریک انصاف، ایک شیخ رشید اور ایک سابق ممبر قومی اسمبلی سردارعمر فاروق کی جانب سے دائر کیا گیا۔ فدا محمد کے مطابق عمران خان کی نااہلی کیلئے بھی ایک ریفرنس موصول ہوا۔ اس کے علاوہ جہانگیر ترین اور محمود اچکزئی کیخلاف بھی ریفرنس شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن فدا محمد کاکہناہے کہ سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے 8ریفرنسز موصول ہوئے جو وزیراعظم نواز شریف، عمران خان، جہانگیر ترین اور محمود اچکزئی سے متعلق ہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری کے مطابق سپیکر کی جانب سے موصول ہونے والے تمام ریفرنسز الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے جائیں گے اور الیکشن کمیشن آئین کے مطابق ریفرنسز پر فیصلہ کرے گا۔ ذرائع کاکہناہے کہ الیکشن کمیشن نے تمام 8ریفرنس شعبہ قانون کو بھجوا دئیے ہیں۔

سپیکر قومی اسمبلی

سلام آباد ( اے این این ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ میرے خلاف ریفرنس کے بعد سپیکر قومی اسمبلی غیر جانبدار نہیں رہے ، نوازشریف نے ایک اور قومی ادارہ تباہ کردیا ۔پاناما لیکس میں شریف خاندان کے اربوں روپے کے اثاثوں کا انکشاف ہوا، نوازشریف بچ گئے اور وہ نااہل ہو گئے تو اداروں کی کیا ساکھ رہ جائے گی ، ہم تو رائیونڈ جواب مانگنے جا رہے ہیں ن لیگ والے بنی گالہ مجھ سے کیا مانگنے آئیں گے۔اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چھوٹے چور جیلوں میں جاتے ہیں اور بڑوں کو کوئی نہیں پوچھتا لیکن اب عوام سوشل میڈیاکی وجہ سے باشعور ہوچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پوری قوم جانتی ہے کہ نوازشریف کی اربوں روپے کی کرپشن پکڑی گئی ہے، نواز شریف کا نام پاناما پیپرزمیں ہے اس لئے احتجاج کررہے ہیں جبکہ لندن میں ان کی اربوں کی جائیداد کے انکشاف ہوئے ہیں لہٰذا انصاف ملنے تک سڑکوں پر رہیں گی۔عمران خان نے کہا کہ ہم رائے ونڈ پٹیشن لے کرجارہے ہیں اور جواب مانگ رہے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن)بنی گالا کیا لینے آئے گی، رائیونڈ میں حکومت کاکیمپ آفس ہے جو حکومت کے خرچے پر چل رہا ہے، ان کا گھر عوام کے ٹیکسوں کے پیسوں سے نہیں چل رہا۔چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ مخالفین کو نادہندہ ہونے کے باوجود الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ملی،نوازشریف منی لانڈرنگ کرے تو وہ اہل ہیں اور 18 سال بیرون ملک کمائی کرکے پاکستان لانے والا نااہل ہوگا، اس سے ہمارے اداروں کی کیا ساکھ رہ جائیگی، ان کیخلاف ریفرنس پرسپیکر بھی غیرجانبدارنہیں رہے اور نوازشریف نے ایک اورادارہ تباہ کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی 2 دفعہ دھاندلی کرکے اسمبلی میں آئے، اسپیکر کو 2013 کے انتخابات میں ریفرنس دینا چاہیے تھا۔ مسلم لیگ(ن)انہیں بلیک میل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، بتایا جائے کہ باغی گروپ کے افراد کے ساتھ(ن)لیگ کے لوگ کیوں پھر رہے ہیں۔اپنے دورہ کراچی سے متعلق عمران خان نے کہا کہ اردو بولنے والے محب وطن اور پاکستان کے ساتھ ہیں جب کہ وہ الطاف حسین کی باتوں کے خلاف ہیں، بانی ایم کیو ایم کی گفتگو پر ہم کراچی کو پیغام دینا چاہتے ہیں۔تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا ہے کہ ریاست نے مزدورں کی ذمہ داری نہیں لی ،اگر عید تک اسٹیل ملز کے مزدوروں کو تنخواہیں نہیں دی گئیں تو پھر تحریک انصاف بھی ان کے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف احتجاج کرے گی ۔انہوں نے کہاکہ اسٹیل ملز کے مزدور کل تحریک انصاف کے جلسے میں شرکت کریں جہاں انہیں اسٹیل ملز چلانے کے حوالے سے پروگرام دیا جائے گا ۔عمران خان نے کہا کہ ہم اسٹیل مل کو پرائیوٹائز نہیں کریں گے بلکہ اس کی مینجمنٹ کو ٹھیک کریں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اس ملک میں لوگوں کو عدالتی ،معاشی اور تعلیمی انصاف نہیں مل رہا ،انصاف کی فراہمی کے بغیر ملک کا کوئی مستقبل نہیں ہے ۔کراچی میں پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مزدورں کو اپنے حقوق کے لیے دھرنا دینے پر مباکباد پیش کرتا ہوں،اگر حکومت نے عید تک تنخواہیں نہ دیں تو پھر تحریک انصاف بھی مزدورں کے ساتھ مل کر احتجاج کرے گی ۔ان کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز 2007میں آٹھ ارب روپے کا نفع دے رہی تھی ، پھر اسے لوٹا گیا اور چوروں نے ڈاکے مار کر بڑے بڑے محل بنا لیے لیکن اس کی قیمت مزدورں کو ادا کرنا پڑ رہی ہے ۔عمران خان نے کہا کہ جو اسٹیل ملز کے مزدورں کے ساتھ ہو رہا ہے وہ پاکستان میں کمزور طبقے کے ساتھ ہر جگہ ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آج اسٹیل ملز 13مہینوں سے بند پڑی ہے اور چھ مہینے سے تنخواہیں نہیں دی جا رہیں ،کیا نواز شریف اور اس کے اربوں پتی بیٹوں کو ان مزدورں کی فکر ہے ؟۔ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی سعودی عرب میں اپنی اسٹیل مل اربوں روپے کما رہی ہے تو پھر پاکستان اسٹیل ملز کیوں نہیں چل رہی حالانکہ عام انتخاب میں نواز شریف نے کہا کہ میں تجربے کار ہوں ۔عمران خا

عمران خان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف کیخلاف ریفرنس مسترد ہونے کے خلاف قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ احتجاج کے دوران پی ٹی آئی ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر ڈیسک بجاتے رہے۔احتجاج کے بعد اپوزیشن ایوان سے واک آؤٹ کر گئی۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی جب پی ٹی آئی کے ارکان نے نواز شریف کے خلاف ریفرنس مسترد کرنے اور عمران خان کے خلاف ریفرنس منظور کرنے کے سپیکر کے فیصلے پر احتجاج کیا۔قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے اس موقع پر تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نوا شریف کے خلاف ریفرنس انتہائی اہم ہے لیکن سپیکر صاحب آپ نے مسترد کر دیا۔ آپ دوسری جماعتوں کے بارے میں کچھ اور اپنی جماعت کے بارے میں کچھ اور فیصلے کرتے ہیں۔آپ کے پاس ریفرنسز بھیجے گئے لیکن آپ نے وزیر اعظم کیخلاف ریفرنسز مسترد جبکہ عمران خان اور جہانگیر ترین کے ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجے۔جواب میں حکومتی وزاء کا کہنا تھا کہ اپوزیشن نے وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس میں ثبوت نہیں دئیے بلکہ ردی کے ٹکڑے لگائے۔انہوں نے کہا کہ آپ ہم سے بولنے کا حق چھینیں گے تو بہتر ہے کہ ہم باہر جا کر بولیں۔ میں مطالبہ کرتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو بولنے کی اجازت دی جائے۔اس پر سپیکر نے جواب دیا کہ جب مناسب سمجھوں گا اجازت دوں گا۔ اس پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے ارکان نے احتجاج شروع کر دیا جس پر سپیکر نے ان کے مائیک بند کرنے کا حکم دیا۔ سینیٹ میں سانحہ کوئٹہ اور مردان واقعے پر بحث کے دوران وزراء کی عدم موجودگی کیخلاف اپوزیشن نے واک آوٹ کر دیا۔ واک آؤٹ میں مسلم لیگ ن بلوچستان کے ارکان اور حکومت کے اتحادیوں نے بھی اپوزیشن کا ساتھ دیا۔

مزید : صفحہ اول