عمران کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیاگیا، وزیر اعظم کے خلاف مسترد

عمران کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیج دیاگیا، وزیر اعظم کے خلاف مسترد

تجزیہ:چودھری خادم حسین

قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے قانونی اور آئینی مشاورت کے بعد وزیر اعظم کے خلاف دائر ریفرنس عدم ثبوت کی بنا پر مسترد کردیا جبکہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دائر ریفرنس الیکشن کمیشن کو سماعت کے لئے بھجوادیا ہے،یہ ریفرنس بنی گالا والی رہائش اور زمین سے متعلق ہے کہ غلط بیانی سے کام لیا گیا اس لئے بادی النظر میں یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل 63-62کی زد میں آتا ہے، ریفرنس قومی اسمبلی کی نشست سے نا اہلیت کے حوالے سے ہے، وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس مسترد کرتے ہوئے سپیکر نے رائے دی ہے کہ ثبوت ناکافی ہیں، یہ ریفرنس لندن کی جائیداد اور پاناما لیکس کے حوالے سے تھا، اطلاع کے مطابق فی الحال ان دو مرکزی ریفررنسوں کا فیصلہ کیا گیا ہے، ابھی مزید ریفرنس سپیکر کے پاس ہیں، ان میں کیپٹن (ر)صفدر، مریم نواز، اور حمزہ شہباز کے بھی ہیں۔

سپیکر نے یہ ریفرنس اس روز مسترد اور الیکشن کمیشن کو بھجوائے ہیں جس روز عمران اورڈاکٹر طاہر القادری کے مظاہرے ختم ہو چکے اور اس سے اگلے روز قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاس ہونا ہیں، یقیناًان اجلاسوں میں یہ سوال اٹھایا جائے گا ویسے تکنیکی طور پر وزیر اعظم کے خلاف شیخ رشید کا جو ریفرنس مسترد کیا گیا اس کے حوالے سے وہ اب سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے اہل ہوں گے کہ اس میں معاملہ الیکشن کے لئے الیکن کمیشن کے پاس اثاثوں کے ذکر سے متعلق ہے، جواز یہ ہے کہ اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔

سوال یہ کیا جارہا ہے کہ کیا سپیکر ایاز صادق کے لئے یہ دن ہی لازم تھا جب عمران اور ڈاکٹر طاہر القادری سڑکوں پر مظاہرہ کر چکے، سرکاری تخمینوں کے مطابق یہ دونوں مظاہرے ناکام رہے ہیں جبکہ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ مظاہرے پر اثر تو تھے لیکن عددی لحاظ سے پہلے کی نسبت کمزور تھے، اور یہ قدرتی عمل ہے کہ جب تک کسی تحریک میں نئے عوامل شامل نہ ہوتے رہیں، وہ تسلسل کا شکارہو کر سست ہو جاتی ہے اور نہ صرف جوش کم ہوتا ہے بلکہ تعداد بھی گھٹ جاتی ہے واقعہ تو یہی ہے کہ 3ستمبر کے مظاہرے موثر کہے جا سکتے ہیں کہ ان میں جوش کا عنصر بھی تھا لیکن تعداد حقیقتاً کم تھی اور عوامی سطح پر تقریریں بھی پسند نہیں کی گئیں۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری کے خطاب میں کوئی نئی بات تو نہیں تھی عمران اپنے پہلے موقف پر ہی اصرار کرتے رہے اور پرانی باتوں کو دہراتے رہے، ان کے لئے آنے والوں نے بہر حال ان کو سنا اور داد بھی دی، خان صاحب نے اپنی تقریر میں رائے ونڈ کا رخ کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس سے مراد ررہائش نہیں کہ ہماری اب تک کی اطلاع کے مطابق جلسہ اس چوراہے پر ہونا ہے جس سے راستہ جاتی عمرہ کو جاتا ہے،یہ جاتی عمرہ کی بات کہاں سے آگئی سمجھ میں نہیں آتی، میڈیا کو اس کا کھوج لگانا ہوگا کہ بات اب جاتی عمرہ اور بنی گالا تک پہنچ گئی کہ جوابی طور پر مسلم لیگ(ن) والے حضرات کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اگر خان صاحب وزیر اعظم کی رہائش گاہ کا رخ کرتے ہیں تو عوام کے لئے بنی گالا بھی دور نہیں یہ دونوں ہی باتیں مناسب نہیں سیاست کو سیاسی امور تک محدود رہنا چاہئے عمران خان رائے ونڈ کے کسی بھی میدان میں جلسہ کا استحقاق رکھتے ہیں لیکن کسی کی رہائش گاہ میں مداخلت کسی صورت جائز نہیں، یہ حالات کو خراب کرنے کا سلسلہ تو ہو سکتی ہے اس سے فائدہ کوئی نہیں ملے گا جتنی جلد وضاحت ہو جائے بہتر ہے۔

جہاں تک ڈاکٹر طاہر القادری کا تعلق ہے تو وہ تقریر تو بہت ہی پرجوش کرتے ہیں اور اکثر اوقات دستاویزات کا سہارا لیتے ہیں، اس بار انہوں نے بہت ہی سنگین نوعیت کے الزام لگا دیئے، ابتداتو فیکٹری ملازمین سے کی لیکن پھر الزام براہ راست لگا دیا وہ خود قانون پڑھے ہوئے ہیں، ان کو LIABLEکا بہت زیادہ علم ہوگا، اب اگر پرویز رشید عدالت جاتے ہیں تو مسئلہ پیچیدہ ہو جائے گا، محترم ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ وزیر اعظم کے کارخانوں میں قریباً دو سو بھارتی کام کرتے ہیں ، اس سلسلے میں انہوں نے بعض کاغذات بھی لہرائے، اس کے بعد انہوں نے وزیر اعظم پر وہ الزام لگا دیا، جو غداری کے زمرے میں آتا ہے وزیر اعظم کو اس کا نوٹس تو لینا ہوگا۔

انہی حالات میں ہمارے جاوید ہاشمی نے سوال اٹھادیا ہے کہ یہ دونوں حضرات جو کررہے ہیں از خود نہیں کر رہے ان کے پیچھے کوئی ہے، یہ کون ہے خود ہاشمی صاحب نے بھی نہیں بتایا اب وزیر اعظم اور ان کے رفقا کو تلاش کرنا چاہیے کہ کیا واقعی ان حضرات کے پیچھے کوئی ہے اور اگر ہے تو وہ کون ہے ؟یہ سب کچھ سنگین نوعیت کا ہے، اول تو اس نوعیت کی بات ہونا نہیں چاہیے اور اگر طاہر القادری مصر ہیں تو پھر ان کو ثبوتوں کے ساتھ عدالت سے رجوع کرنا چاہیے ، دوسری طرف پرویز رشید نے اعلان کیا تو یہ صرف اعلان تک محدود نہ رہے، اسے بھی منطقی انجام تک پہنچایا جائے کہ یہ کھیل پھر نہ ہو۔

اس سیاسی کشمکش کی وجہ سے سیاست دانوں اور میڈیا دونوں کی طرف سے دوسرے اہم مسائل نظر انداز ہونے لگے ہیں، کشمیر کا مسئلہ کافی دب گیا حالانکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مسلسل ظلم و ستم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے اور پوری دنیا خاموش ہے، بھارت بھی اسرائیل کے سے انداز میں کارروائیاں کررہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کے نتیجے میں اسرائیلی عملی مشاورت ہو رہی ہے، ایسے میں ملک کے اندر استحکام کی ضرورت زیادہ ہے اور یہ باہمی تعاون سے ممکن ہے، تاہم زیادہ بار یا وزن خود حکمرانوں کو اٹھانا ہے کہ وہ اس وقت امور مملکت چلا رہے ہیں۔

مزید : تجزیہ