موجودہ حکومت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں ہے ، سراج الحق

موجودہ حکومت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں ہے ، سراج الحق

لاہور(خبر نگا رخصوصی)امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ حکومت اور آمریت میں کوئی فرق نہیں، یہ نام نہاد جمہوریت ہے ۔ملک آمریت کی طرف بڑھ رہا ہے ۔کراچی میں ایک بارپھر این آر او کی کوشش کی جارہی ہے قاتل دندناتے پھرتے اورپریس کانفرنسیں کررہے ہیں اور ایک بار پھر حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں ،بلوچستان جل رہا ہے ،بلوچستان کی خاموشی کسی طوفان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے،ہماری جنگ سیاسی برہمنوں سے نہیں ہے یہ تو ریت کی وہ بوریاں ہیں جس کے پیچھے دشمنوں نے پناہ لے رکھی ہے ،ہماری جنگ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے ہے۔ قبائل کے لاکھوں عوام عرصہ سے آئی ڈی پیز اور مسائل کے شکار ہیں لیکن حکمران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ،حکومت کے پاس کوئی منصوبہ نہیں ،نااہل اور بزدل قیادت آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی ڈکٹیشن پر ملک چلا رہی ہے، حکمران آئین سے غداری کے مرتکب ہوچکے ہیں ،اسلام نے انسانیت کو امن اور انسانی حقوق دئے اور مغرب نے انسانیت کو ایٹم بم کا تحفہ دیا اور کروڑوں انسانوں کا قتل عام کیا اور یہ قتل عام اب بھی جاری ہے، اسلام ہمارے لئے جمہوریت ہے شریعت کا نظام نافذ ہوجائے تو غریب امیر سب کو حقوق ملیں گے اور کسی کو اپنے حقوق کیلئے دھرنے نہیں دینے پڑیں گے،۔ پاکستان کی خاموشی کے خلاف ہم نے آٹھ ستمبر کو اسلام اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی پشاور میں 1500سے زائد علمائے کرام کی دستار بندی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا مشتاق احمد خان ،سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبرپختونخوا عبد الواسع ،مولانا عبد الاکبرچترالی ،مولانا ڈاکٹر عطاؤالرحمان اور دیگر نے خطاب کیا۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ تیس لاکھ سے زائد دینی مدارس کے طلباء کو بھی سکول ،کالج اور یونیورسٹی کے طالب کی حیثیت دے ،طبقاتی نظام تعلیم کی وجہ سے دینی مدارس اور اس میں پڑھنے والے طالب علموں کوانکے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو مسجد میں امامت کرنے والوں کو بھی تنخواہیں دینگے،سکولوں اور کالجوں سمیت ہر ادارے میں ایک عالم اور فاضل کو بھی تعینات کرینگے ،انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں میرقاسم ،مطیع الرحمان نظامی ،علی احسن مجاہد،عبد القادر ملا سمیت جماعت اسلامی کے 6قائدین کو پھانسی دی گئی انہوں نے پھانسی کا پھندا چوم کر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے اور کہاکہ یہ ہماری نظریاتی فتح ہے لیکن ہمارے حکمران یہاں پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کررہے ہیں ان کو سہولیات دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسی کسی بھی ملک دشمن مفاہمت کو نہیں مانتے ،میں حیران ہوں کہ حکمران کیسے دورنگی سے کام لے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو ملک کا نہیں اپنی ذات کا غم ہے انہیں آئندہ الیکشن جیتنے کی پڑی ہے،ان کو ملکی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی کوئی فکر نہیں، آئندہ الیکشن حکمرانوں کیلئے یوم احتساب ہوگا،سراج الحق نے کہا کہ متحدہ پاکستان بچانے کی پاداش میں میرقاسم علی کو شہید کیا گیا انکو اس لئے شہید نہیں کیا گیا کہ انکا تعلق جماعت اسلامی سے تھا شہادت کی وجہ 1971میں پاکستان کو بچانے کا الزام تھااوربنگلہ دیش میں مسلسل متحدہ پاکستان بچانے کے جرم میں جماعت اسلامی کے قائدین کی شہادتوں پرحکومتی مجرمانہ خاموشی کے خلاف اسلام آباد میں آٹھ ستمبر کو دھرنا دیا جائے گا ،انہوں نے کہا کہ قوم نے ایوانوں میں ان لوگوں کو بھیجا ہے جنہوں نے ان کا ستحصال کیا اور ان کو غریب بنایا ہے،انہیں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کا غلام بنایا اور ان کے بچوں کو مقروض بنایا۔ ذہنی غلاموں کی وجہ سے معیشت ، نظام تعلیم اور سیاست غلام ہے۔ اس ملک کے فیصلے آج بھی جمہور کے اندر نہیں ہوتے بلکہ باہر سے مسلط کئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں ایک بار پھر این آر او کا ڈرامہ رچانے کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔ پرویز مشرف نے ان لوگوں کو معاف کردیا جنہوں نے ہزاروں افراد کا قتل کیا تھااور جو بڑے قومی مجرم تھے۔ قاتلوں ، بینک لوٹنے والوں ، دھماکے کرنے والوں کو مشرف حکومت تسلیم کرنے پر رہا کردیا گیاتھا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پارٹیوں کے اندر جمہوریت نہیں اور نہ ہی ان کے انتخابات ہوتے ہیں۔ باپ کے بعد بیٹا اور بیٹے کے بعد بیٹی پارٹی سربراہ بنتی ہے۔یہ کیسی جمہوریت ہے ، یہ لوگ تو جمہوریت اور آئین کے ساتھ بھی غداری کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ غلامی بڑی لعنت ہے مگرغلامی پر راضی ہونا اس سے بھی بڑی لعنت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب علماء کو منبر و محراب تک محدود کرکے معیشت ، سیاست ، حکومت اور تعلیم پر خود قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ہم علماء کو متحد کررہے ہیں تاکہ وہ دینی و دنیاوی دونوں انتظامات کو سنبھال سکیں۔

مزید : صفحہ اول