پاکستان کیخلاف سازشوں سے نمٹنے کیلئے ملی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا ، صدر ، وزیراعظم

پاکستان کیخلاف سازشوں سے نمٹنے کیلئے ملی یکجہتی کو فروغ دینا ہوگا ، صدر ، ...

اسلام آباد(آئی این پی ) صدر ممنون حسین نے کہاہے کہ 6ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے،اسے ہماری سا لمیت ، بقاء اور دفاع کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خوش حالی اور ترقی کیلئے بھی جزو لاینفک کی حیثیت حاصل ہے، یہ لمحات ہم سے ملی یکجہتی کے فروغ اور قومی سوچ اپنانے کا تقاضا کرتے ہیں جو پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں ، ریشہ دوانیوں اور چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے ناگزیرہیں ، اسی قومی جذبے اور اتحاد و یگانگت کی بدولت ہم نے عددی لحاظ سے برتر دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا تھا، پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ، ہماری بری ، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہیں ، وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں، دفاعی جدت و ٹیکنالوجی میں ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکے ہیں، ہماری ایٹمی صلاحیت اور جدید ہتھیار اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے دفاعی میدان میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ 6 ستمبر2016ء یوم دفاعِ پاکستان کے موقع پر پیغام میں ممنون حسین نے کہاکہ" 6 ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے ،51سال قبل ہمارے افسروں ، جوانوں، سیلروں اور ہوابازوں نے جرأت و بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قوم کے شانہ بشانہ دشمن کی جارحیت کو ناکام بنا کر وطن عزیز کی مقدس سرحدوں کا دفاع کیا۔ یہ دن ہماری مسلح افواج اور قوم کے اس عزم و استقلال کو اجاگر کرتا ہے جسے ہماری سا لمیت ، بقاء اور دفاع کے ساتھ ساتھ پاکستان کی خوش حالی اور ترقی کے لیے بھی جزو لاینفک کی حیثیت حاصل ہے۔آج جب ہم اس یادگار موقع پر اپنے شہداء اور غازیوں کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں ، یہ لمحات ہم سے ملی یکجہتی کے فروغ اور قومی سوچ اپنانے کا تقاضا کرتے ہیں جو پاکستان کے خلاف ہونے والی سازشوں ، ریشہ دوانیوں اور چیلنجز سے موثر طور پر نمٹنے کے لیے ناگزیرہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسی قومی جذبے اور اتحاد و یگانگت کی بدولت ہم نے عددی لحاظ سے برتر دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا تھا ۔ ممنون حسین نے کہاکہ بحیثیت سربراہ مملکت قوم کو یقین دلاتا ہوں کہ پاکستان کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے ۔ ہماری بری ، بحری اور فضائی افواج پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ وہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ دفاعی جدت و ٹیکنالوجی میں ہم خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکے ہیں۔ ہماری ایٹمی صلاحیت اور جدید ہتھیار اس بات کی علامت ہیں کہ ہم نے دفاعی میدان میں کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ مجھے اپنی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرات و بہادری اور حب الوطنی پر فخر ہے ۔ انھوں نے بیرونی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ امن و امان کو برقرار رکھنے میں بھی ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ آپریشن ضرب عضب میں انھوں نے جس عزم اور جرات کا مظاہرہ کیا اس کے نتیجے میں ملک میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے جس پر پوری قوم انھیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ آج کے دن میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک سے دوستانہ اور پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ ہم نے ہمیشہ تعاون کی پالیسی کو مطمع نظر رکھا ہے تاہم امن کی اس خواہش کو کمزوری تصور نہ کیا جائے۔ ہم اپنے دفاع سے ہر گز غافل نہیں اور کسی بھی جارحیت کا پوری قوت سے جواب دینے کی بھرپور صلاحیتوں سے لیس ہیں۔ کشمیر پر بھی ہمارا موقف واضح ہے، مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ ہم کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت کی تائید و حمایت میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک اس مسئلے کے فوری حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں ورنہ جنوبی ایشیا ء میں پائیدار امن کے خواب کی تعبیر ناممکن ہے۔آخر میں!میں اس وطن کی عزت و آبرو کی خاطر اپنی جان قربان کرنے والے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔ ان کی قربانیاں ہمارے جذبہ حب الوطنی کو جلا بخشتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقش قدم پر کاربند رکھے تاکہ ہم بھی وقت پڑنے پر وطن عزیز کی بقاء اور آبرو کی خاطر کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین۔"

صدر مملکت

اسلام آباد(آئی این پی ) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہاہے کہ دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات ، اندرونی و بیرونی سازشیں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی، ایسے چیلنجز ہم سے اپنی صفوں میں اتحاد، ایمان اور یقین کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا تقاضا کرتے ہیں ، مضبوط دفاع کے ذریعے ہم نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بر قرار رکھ کر در اصل خطے کے امن کو دوام بخشا ہے۔ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تاہم اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہیں گے ، اقتصادی ترقی بھی ملکی دفاع اور استحکام کے لئے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے ۔ لہٰذا ہماری توجہ اس جانب بھی مرکوز ہے ۔ اس سلسلے میں سی پیک کے تحت مختلف میگا پراجیکٹس، ان کے علاوہ توانائی اور انفراسٹرکچر کی تعمیروترقی کے دیگر منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ان کی تکمیل سے معاشی استحکام حاصل ہوگا جس سے دفاع پاکستان مضبوط ہوگا، شہدائے وطن اور غازیوں کو ان کی لازوال قربانیوں پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ پاکستان کی سا لمیت ،وقار اور بقا کی خاطر ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ یوم دفاع پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہاکہ " 6 ستمبر پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن اور ولو لہ انگیز دن کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ اس روز ہماری بہادر مسلح افواج نے قوم کے شانہ بشانہ جارح دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا کر یہ پیغام دیا تھا کہ وہ اپنی آزادی کی حفاظت کرنا جانتی ہیں یقیناًہماری افواج کے افسروں اور جوانوں کی قربانیوں نے ہماری آزادی کو دوام بخشا ہے۔ جس پر پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے ۔ ہمیں اپنی افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں ،جرأت و بہادری اور جدت کے سفر پر فخر ہے ۔دنیا کے تیزی سے بدلتے حالات ، اندرونی و بیرونی سازشیں اور سب سے بڑھ کر دہشت گردی، ایسے چیلنجز ہم سے اپنی صفوں میں اتحاد، ایمان اور یقین کو قائم رکھنے کے ساتھ ساتھ دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کا تقاضا کرتے ہیں ۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا ۔ ہمارا دفاع اور مسلح افواج مستقبل کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں ۔ جدیدجنگی ہتھیاروں میں ہم خود انحصاری کی منزل بھی حاصل کر چکے ہیں ۔ حتف میزائل سیریز،الخالد و الضرار ٹینک ،جے ایف17تھنڈر طیارے ،آگسٹا آبدوزیں اور سب سے بڑھ کر ہماری ایٹمی صلاحیت ہمارے مضبوط دفاع کی نا قابل فراموش علامات ہیں ۔ اس طرح مضبوط دفاع کے ذریعے ہم نے جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو بر قرار رکھ کر در اصل خطے کے امن کو دوام بخشا ہے۔ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ہونا چاہتے تاہم اس توازن کو برقرار رکھنے کے لئے کوشاں رہیں گے ۔ ہماری دفاعی صلاحیت دراصل قوم کی جرأت ،استقامت اور عزم کا اظہار بھی کرتی ہے کہ وہ مشکل حالات کا سامنا کرنے کی بھر پور صلاحت رکھتی ہے ۔ آپریشن ضرب عضب بھی در اصل اسی عزم کا تسلسل ہے جس میں سیاسی قیادت کی یکسوئی ،عوام کے عزم ،افواج پاکستان اور سیکورٹی کے دوسرے اداروں کی بے مثال قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے ۔ الحمد للہ ،آج وطن عزیز میں امن و امان کی صورت حال حوصلہ افزاء ہے ۔ جسے بر قرار رکھنے کے لئے ہمیں سیاسی و ذاتی مفادات سے بالا ترسوچ اپنانے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اقتصادی ترقی بھی ملکی دفاع اور استحکام کے لئے ناگزیر حیثیت رکھتی ہے ۔ لہٰذا ہماری توجہ اس جانب بھی مرکوز ہے ۔ اس سلسلے میں سی پیک کے تحت مختلف میگا پراجیکٹس، ان کے علاوہ توانائی اور انفراسٹرکچر کی تعمیروترقی کے دیگر منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ان کی تکمیل سے معاشی استحکام حاصل ہوگا جس سے دفاع پاکستان مضبوط ہوگا۔ وسطی ایشیائی ریاستوں اور مشرق وسطیٰ کے ممالک سے تجارتی روابط میں اضافہ ایسے اقدامات ہیں جن سے پاکستان خطے میں اقتصادی قوت کے طور پر ابھرے گا ۔

مزید : صفحہ اول