مردان دہشتگردی ،وکلاء کا یوم سیاہ اور ہڑتال ،مذمتی قرار دادیں منظور

مردان دہشتگردی ،وکلاء کا یوم سیاہ اور ہڑتال ،مذمتی قرار دادیں منظور

لاہور(نامہ نگارخصوصی ) مردان کچہری میں دہشت گردی واقعہ کے خلاف ملک بھر کے وکلاء نے یوم سیاہ منایا اورہڑتال کی تاہم وکلاء فوری سماعت کے متقاضی اہم نوعیت کے مقدمات میں بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر عدالتوں میں پیش ہوئے،مذمتی قراردادیں منظور کی گئیں ۔اس موقع پر بار رومز کی چھتوں پر سیاہ پرچم بھی لہرائے گئے۔لاہور ہائی کورٹ بار نے عدالتوں کی سیکیورٹی میں خامیوں کی نشاندہی کے لئے سینئر وکلاء پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے ۔مردان کچہری میں دہشت گردی واقعہ کے خلاف ملک بھر کے وکلاء کی طرح لاہور میں بھی وکلاء نے ہڑتال کی اور یوم سوگ منایا۔لاہور ہائی کورٹ بار میں بھی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ایک قرار داد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا ہے کہ دیگر اداروں کی طرح حکومت وکلاء کو بھی سیکورٹی کے حوالہ سے اہمیت دے، ہم پر ہی بار بار حملے کیوں کئے جا رہے ہیں؟ شہید وکلاء کے لواحقین کے ساتھ ساتھ شہید کانسٹیبل کی فیملی کی مالی معاونت کی جائے ، زخمیوں کو علاج معالجہ کی تمام سہولتیں فراہم کی جائیں اور ان کی بھی مالی مدد کی جائے۔ حکومت جس طرح جج صاحبان کو سیکورٹی مہیا کرتی ہے اسی طرح وکلاء، عدالتوں اور بار ایسوسی ایشنز میں سیکورٹی فراہم کی جائے۔ قرارداد میں سیکیورٹی کی فراہمی میں موجود خامیوں کے ازالہ اور نشاندہی کے لئے سینئر وکلاء پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے جو متعلقہ اداروں کو اپنی سفارشات بھیجے گی تاکہ سیکورٹی کو فول پروف بنایا جا سکے۔اجلاس سے ہائی کورٹ بار کے صدر رانا ضیاء عبدالرحمن ،پاکستان بار کونسل کے رکن اعظم نذیر تارڑ ،سیکرٹری ہائی کورٹ بار انس غازی ،ہائی کورٹ بار کے سابق صدر پیر مسعود چشتی ،سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری راجہ ذوالقرنین ،خرم لطیف کھوسہ اور رانا احمد سعید نے خطاب کیا۔ ،مقررین نے کہا کہ وکلاء برادری کے لئے دکھ اور درد کی گھڑیاں طویل ہوتی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دشمن کو حکومت نے اسلام آباد میں 72 ایکٹر اراضی دے رکھی ہے، امریکہ کو اسلام آباد میں اتنی ہی جگہ فراہم کی جائے جتنی پاکستان کے سفارت خانے کو امریکہ نے دے رکھی ہے۔

وکلاء یوم سیاہ

مزید : علاقائی