انسداد دہشتگردی عدالتوں کے ججوں اور اہل خانہ کو مکمل سکیورٹی دینے کا فیصلہ

انسداد دہشتگردی عدالتوں کے ججوں اور اہل خانہ کو مکمل سکیورٹی دینے کا فیصلہ

لاہور(نامہ نگارخصوصی )وفاقی حکومت نے پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کو مزید تیز کرنے کا حکم دے دیاہے، اس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل آفس میں اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان پر پنجاب میں عملدرآمد کے حوالے سے اجلاس ہواجس میں انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز اور ان کے اہل خانہ کو فول پروف سکیورٹی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اجلاس میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل در آمد کے لئے قوانین میں موجود سقم کو دور کیا جائے گا،اجلاس میں ایڈووکیٹ جنرل شکیل الرحمن، پراسکیوٹر جنرل احتشام قادر، آئی جی پولیس مشتاق سکھیرا، سیکرٹری قانون ابوالحسن نجمی، سیکرٹری پراسکیوشن علی مرتضی اور ہوم سیکرٹری اعظم سلیمان خان سمیت دیگر اہم افسروں نے شرکت کی۔اجلاس میں رپورٹ پیش کی گئی کہ 2016ء میں دہشت گردی کے 287ایسے مقدمات ہیں جن میں تمام فریقین نے مکمل بحث کی اور ان مقدمات 126ملزم بری ہوئے جبکہ 161ملزموں کو سزا سنائی گئی، رپورٹ کے مطابق 494میں سے 109 مقدمات میں گواہوں کے منحرف ہونے پر ملزم بری ہوئے جبکہ 385مقدمات سیشن عدالتوں کو منتقل کر دیئے گئے، رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں 599مقدمات زیر التواء ہیں، اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عمل در آمد کے لئے قوانین میں موجود سقم کو دور کیا جائے گا، اس سلسلے میں مرکز و صوبوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے لئے تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔

مزید : علاقائی