پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی سینیٹ کمیٹی کا اجلاس،اکان پھٹ پڑے

پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی سینیٹ کمیٹی کا اجلاس،اکان پھٹ پڑے

لاہور (ارشد محمود گھمن /سپیشل رپورٹر)پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی اراکین سینیٹ کمیٹی کی اندرونی کہانی ، پی آئی اے کی "لاجواب سروس "پر کمیٹی اراکین پھٹ پڑے، کہتے ہیں کہ پی آئی اے کا عملہ مسافروں کا سردرد ختم کرنے کے لئے گولی کی بجائے چائے پینے کا مشورہ دیتا ہے ،کنفرم سیٹ آخری دن بغیر وجہ بتائے کینسل کردی جاتی ہے، صحیح معلومات دینے کے لئے عملہ کاؤنٹر پر موجود نہیں ہوتا،فلائٹس میں تاخیر کے بعد مسافروں کا کوئی پرسان حال نہیں ہے، کمیٹی کے اراکین نے سیکرٹری ایسوسی ایشن اور چیئر مین کو ایوی ایشن پالیسی پر نظرثانی کی ہدایت کی ہے ۔کمیٹی نے پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن کارپوریشن کنورجن ایکٹ 2016 ء کے حوالے سے غلط بیان پر چیئرمین نجکاری کمیشن محمد زبیر کو بھی آئندہ اجلاس میں طلب کرلیاہے۔ تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کی کارکردگی کا جائزہ لینے والی اراکین سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں کمیٹی کے اراکین آگ بگولا ہوگئے ، کہتے ہیں کہ پالیسی کی وجہ سے پی آئی اے کو بہت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ سینیٹر مظفر حسین شاہ نے کہا کہ جہاز کے عملے کی خصوصی تربیت کی جائے ائیر ہوسٹس بہت عمر رسیدہ ہیں بین الاقوامی ائیر لائن کے عملے کی طرح عملے کی تربیت کی جائے اور پی آئی اے کے امیج کو بہتر کیا جائے اور پی آئی اے کے لوگوں کو انگلش تک بولنی نہیں آتی۔ سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ پی آئی اے میں دنیا کے بہترین انجینئر ہوا کرتے تھے۔ جو ریٹائرڈ ہوچکے ہیں ان کا متبادل تلاش نہیں کیا گیا اور بہترمارکیٹنگ کی ضرورت ہے۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہاکہ کوئٹہ سے اسلام آبادکیلئے آرہا تھا سر میں درد ہوا تو دو گولیاں مانگیں عملے نے کہاکہ چائے پی لو سردرد ختم ہوجائے گا۔ رمضان میں افطاری کا کوئی نظام نہیں ہوتا، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم نے کہا کہ اگر پی آئی ا ے کے پائلٹ شراب پی کر پکڑے جائیں گے تو بہتری کیسے آئے گی ۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پی آئی اے بورڈ آف ڈائریکٹر کو سیاسی پریشر قبول نہیں کرنا چاہیے نااہل لوگوں نکال کر قابل لوگوں کو شامل کیا جائے اورسیٹ پروڈکشن کاسٹ معلوم کی جائے سالانہ ریکوری کا پلان ترتیب دیا جائے بورڈ نئی پالیسی تیار کرے اور وزارت کا کام صرف بورڈ ممبر لگانا ہے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ آئل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے بین الاقوامی ائیر لائینز نے کرایوں میں نمایاں کمی کی ہے ہم کراچی سے اسلام آباد تک 23 ہزار وصول کرتے ہیں جبکہ فیصل آبادسے دبئی کا وہ اتنا وصول کرتے ہیں ہم نے بین الاقوامی کرایو ں میں کمی ہے ڈومیسٹک کرائے اتنے ہی ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے تشویش کا اظہار بھی کیا اس کے باوجود پی آئی اے کی آمدن میں اکیس فیصد کمی ہوئی اراکین کمیٹی نے بکنگ سروسز بہتر کرنے اور سامان کی بروقت مسافر کو فراہمی کی بھی ہدایت کردی۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ حال ہی میں پی آئی اے کا سی ای او باہر سے بائیر کیا گیا ہے ایک وقت تھا کہ پی آئی اے دوسرے ممالک کو خدمات فراہم کرتا تھاجبکہ کنونیئر کمیٹی سینیٹر مشاہد اﷲ خان کی زیر صدات منعقد ہونے والے اس اجلاس میں چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل نے کمیٹی کو بتایا کہ پی آئی اے 1954 ء میں قائم ہوئی ہے ،1955 ء میں سٹیچری کارپوریشن بنی اور 2016 ء میں 1984 ء کے کمپنی آڑڈیننس کے تحت کمپنی میں تبدیل کردیا گیاہے۔ حکومت کے 91.7 شیئرز ہیں پبلک کے 4.4 فیصد شیئرز ہیں جبکہ پی آئی اے ملازمین ٹرسٹ کے 3.9 فیصد شیئرز ہیں کل ملازمین کی تعداد 14 ہزار 317 ہے 2006 ء سے 2016 کے درمیان ملازمین کی تعداد میں 4 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اس کا ایک بورڈ آف ڈائریکٹر ہے جس پر سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پھر وزارت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ چیئرمین پی آئی اے نے کہا کہ اس وقت 38 جہاز موجود ہیں اور فی جہاز ملازمین کا تناسب 376 بنتا ہے ،بین الاقوامی نیٹ ورک کے آن لائن اسٹیشن 27 ہیں اور دو آف لائن اسٹیشنز ہیں اندرونی نیٹ ورک کے آن لائن دفاتر 21 اور آف لائن 11 ہیں ۔پچھلے سالوں کی نسبت پی آئی اے کی کارکردگی میں بہتری آرہی ہے ،فلائٹس کی پابندی وقت کا سختی کے عمل کرایا جارہا ہے۔ جس پر سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ کراچی سے اسلام آباد نے کہا کہ کراچی سے اسلام آباد کیلئے پانچ بجے کی فلائٹ تھی میسج کے ذریعے ساڑھے 4بجے بلایا گیا اور 12 گھنٹے ائیر پورٹ پر خوار ہوئے۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ پی آئی اے کی کارکردگی میں کچھ بہتری کے آثار نظر آرہے ہیں۔ کامیاب کمپنی بنانے کیلئے سب کو مشترکہ کوششیں کرنا پڑیں گی ابھی پی آئی اے بہت پیچھے ہے اگلے تین سالوں میں ٹاپ ائیر لائنز میں شامل ہوئے تو بہت بڑی بات ہوگی،خصوصی کمیٹی کو نئی شروع کی جانے والی پریمیئر سروس بارے بھی تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔

مزید : علاقائی