الطاف حسین نے متحدہ پاکستان کے راہنماؤں کو غدار قرار دیدیا

الطاف حسین نے متحدہ پاکستان کے راہنماؤں کو غدار قرار دیدیا

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک )متحدہ قومی موومنٹ کے بانی الطاف حسین نے ایم کیو ایم پاکستان کے اقدامات پر اظہار برہمگی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے میرے ساتھ غداری کی ہے ،انہیں لندن سے جو مینڈیٹ دیا گیا ،وہ اس سے تجاوز کر گئے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ مائنس ون فارمولے پر خاموش نہیں بیٹھوں گا ،اس حوالے سے سنجیدہ نوٹس لے لیا ہے۔نجی ٹی وی کے پروگرام میں بتا یا گیا ہے کہ الطاف حسین ایم کیو ایم کے کراچی میں موجود رہنماوں ،ذمے داروں اور کارکنان کے جانب سے کالز کا جو اب نہ دینے پر شدید غصے میں ہیں۔انہوں نے قومی اسمبلی میں قرار داد اور ایم کیو ایم کے آئین سے نام نکالے جانے پر بھی برہمی کا اظہار کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ دن قبل الطاف حسین نے کراچی میں موجود ایم کیو ایم کے سینیٹر سے آدھے گھنٹے تک ٹیلی فونک گفتگو کی۔اس دوران الطاف حسین نے مائنس ون فارمولے پر عمل پیرا ہونے پر ایم کیو ایم کراچی کے رہنماوں کو غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ میں نے 37سال سے پارٹی خدمت کی لیکن میرے ساتھ دھوکا ہو رہا ہے ، مجھے نہیں بتا یا گیا تھا کہ میری اپنی ہی پارٹی میرے خلاف کھڑی ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے غداری کی ہے ،انہیں لندن سے جو مینڈیٹ ملا ،وہ اس سے آگے بڑھ گئے ہیں۔اس موقع پر ایم کیو ایم کے سینیٹر نے الطاف حسین کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ پاکستان مخالف نعروں کے بعد صورتحال بہت تبدیل ہو گئی ہے ،آپ کو کچھ عرصہ خاموش رہنا چاہیے۔جواب میں الطاف حسین نے کہا کہ مائنس ون فارمولے پر خاموش نہیں بیٹھوں گا۔الطاف حسین نے مزید کہا کہ مجھے امید تھی کہ معافی مانگ کر بات ختم ہو جائے گی اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی ہمارا ساتھ دیں گی لیکن ایسانہیں ہوا ،اب خود ہی کچھ کروں گا ۔

مزید : علاقائی