پی ایس 127 ضمنی انتخاب میں رینجرزتعینات کرنیکافیصلہ

پی ایس 127 ضمنی انتخاب میں رینجرزتعینات کرنیکافیصلہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کراچی کے علاقے ملیر میں پی ایس 127 کے ضمنی انتخاب میں رینجرزتعینات کرنے کافیصلہ کیا ہے،جس کیلئے الیکشن کمیشن نے ر وزارت داخلہ کو خط لکھ دیا ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق رینجرزکوپولنگ بوتھ تعیناتی اورمجسٹریٹ کے اختیارات دینے کافیصلہ کیا ہے۔صوبائی الیکشن کمشنر نے پی ایس127میں امن وامان سے متعلق اجلاس منگل کو طلب کرلیاہے ۔اجلاس میں ٹرانسپورٹیشن،عملے اورووٹرز کی سیکیورٹی سے متعلق بات چیت ہوگی۔رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم رہنما اشفاق منگی کے استعفی کے بعد خالی ہونے والی سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 127 پر8 ستمبر کو ضمنی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ انتخابات میں ایم کیو ایم ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔پی ایس 127 ایم کیو ایم رہنما اشفاق منگی کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی،جنہوں نے 18 اپریل کو پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ضمنی انتخابات میں پی ایس 127 کے لئے ایم کیو ایم کی جانب سے سابق ایم پی اے وسیم احمد، پیپلز پارٹی کی جانب سے سلمان مراد بلوچ، تحریک انصاف کے ندیم میمن امیدوار ہیں۔شہری اور دیہی علاقوں پر مشتمل اس حلقے میں ملیر کھوکھراپار، جعفر طیار، بروہی گوٹھ، سچل گوٹھ سمیت دیگر علاقے شامل ہیں۔2002میں پیپلز پارٹی کے عبد اللہ مراد بلوچ پہلے ایم پی اے منتخب ہوئے تھے جبکہ 2004 میں عبد اللہ مراد بلوچ کے قتل کے بعد پیپلز پارٹی یہ نشست دوبارہ نہ جیت سکی جبکہ ایم کیو ایم 3 بار یہ نشست جیت چکی ہے۔ایم کیو ایم رہنماؤں نے کہاہے کہ مشکل صورتحال کے باوجود ایم کیو ایم یہ نشست جیتے گی جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بارہ سال بعد پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی کی نشست پی ایس 127 حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر