ریڈیو پاکستان لاہور، جنگ ستمبر میں فنکاروں کا مورچہ، جس نے جو بھی تخلیق کیا، امر ہوگیا

ریڈیو پاکستان لاہور، جنگ ستمبر میں فنکاروں کا مورچہ، جس نے جو بھی تخلیق کیا، ...
ریڈیو پاکستان لاہور، جنگ ستمبر میں فنکاروں کا مورچہ، جس نے جو بھی تخلیق کیا، امر ہوگیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جنگ ستمبر میں جہاں افواج پاکستان نے دفاع وطن کے لئے جرات و شجاعت سے لڑنے کی نئی تاریخ رقم کی وہیں فنکار بھی ریڈیو پاکستان کے محاذ پر ایسے ڈٹے کہ پوری قوم کو سیسہ پلائی دیوار بنادیا۔فوج نے سرحدوں پر مورچے سنبھالے اور فنکاروں نے لاہور کے ریڈیو اسٹیشن میں۔ کیا گلوکار، کیا شاعر اور موسیقار سب نے اپنا اپنا کردار ایسے نبھایا کہ آج بھی جذبہ حب الوطنی ابھارنے کا ذریعہ ہے۔ جنگ کے دوران ایسے ایسے نغمے تخلیق ہوئے کہ لفظ بھی ہتھیار بن گئے۔ہرروز نیا نغمہ آتا اور نیا ولولہ جگاتا، صوفی تبسم نے” ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے“ لکھ کر دھرتی کے بیٹوں کو خراج تحسین پیش کیا تو ملکہ ترنم کی آواز نے اسے شہر آفاق بنادیا۔

مہدی حسن ” اپنی جاں نذر “ کرنے کا عہد لئے میدان میں آئے جبکہ مشیر کاظمی نے راہ حق کے شہیدوں کو سلام کہہ کر نسیم بیگم کی آواز میں امر کردیا۔

ریڈیو اسٹیشن لاہور کا وہ اسٹوڈیو جسے اب ملکہ ترنم نور جہان سے منسوب کردیا گیا ہے اس میں داخل ہوتے ہی میڈم نورجہاں، مہدی حسن، نسیم بیگم، مشیر کاظمی، مسعود رانا، تاج ملتانی اور اس وقت کے تمام بڑے بڑے شاعر اور گلوکار یاد آنے لگتے ہیں۔ یہی وہ نام تھے جنہوں نے جو بھی تخلیق کیا وہ امر ہوگیا۔

مزید : قومی