مسلم امہ حج پر سعودی اختیار ختم کرنے کا سوچے: آیت اللہ خامنہ ای

مسلم امہ حج پر سعودی اختیار ختم کرنے کا سوچے: آیت اللہ خامنہ ای
مسلم امہ حج پر سعودی اختیار ختم کرنے کا سوچے: آیت اللہ خامنہ ای

  

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک مرتبہ پھر سعودی عرب کو حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں کی جانب سے خدا کے مہمانوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی وجہ سے دنیائے اسلام کو جج کے معاملات اور مقاماتِ مقدسہ کے انتظام کے معاملے پر بنیادی طور پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

بی بی سی کے مطابق  آیت اللہ خامنہ ای نے گزشتہ سالوں حج کے دوران بھگدڑ مچنے پرسعودی حکام کوقصور وار قراردیتے ہوئے کہاکہ زخمیوں کو طبی امداد دینے کی بجائے کنٹینرز میں بند کردیاگیا، ان کو پانی دینے یا طبی امداد کی بجائے کنٹینروں میں ڈال کر موت کے گھاٹ اتاردیا، یہ بات اُنہوں نے بھگدڑ مچنے سے شہید ہونیوالے افراد کی برسی کے سلسلے میں اپنے ایک بیان میں کی۔خامنہ ای کا کہناتھاکہ اس ساںحے پر معذرت کرنے کی بجائے سعودی حکام نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا اور تحقیقات کیلئے اسلامی ممالک کی کمیٹی قائم کرنے سے صاف انکار کردیا۔ 

خامنہ ای نے عرب دنیا سے مطالبہ کیا کہ وہ ’بنیادی طور سے دو مقدس مقامات کے انتظام پر نظر ثانی کریں‘۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ مئی میں ایران کی حج آرگنائزیشن نے سعودی حکام پر الزام لگاتے ہوئے کہا تھاکہ وہ حجاج کرام کو نہیں بھیج سکیں گے۔تاہم اس الزام کو  سعودی وزارت خارجہ نے مسترد کرتے ہوئے کہا تھاکہ  ایران نے اپنے شہریوں کے لیے خصوصی رتبہ مانگا ، سعودی عرب حجاج کی خدمت کرکے اپنا مذہبی فریضہ اداکررہاہے ۔

ایاز صادق نے کٹا کھول دیا ہے جو ٹکر مارے ہی مارے گا :شیخ رشید، یہ کیوں اور کب کہا؟ جاننے کیلئے یہاں کلک کریں۔

یادرہے کہ اس سے قبل شیعہ رہنماء شیخ النمر کی پھانسی کے بعد ایران میں سعودی سفارتخانے پر مشتعل ہجوم کے حملے کے بعد سعودی عرب میزبان ملک ایران سے اپنا سفیر بھی واپس بلا چکا ہے ۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں