روسی صدر پیوٹن نے ناممکن کو ممکن کردیا، طیب اردگان کی اُن کے بڑے دشمن ایک ایسے شخص سے ملاقات کروانے کی تیاری مکمل کرلی کہ دنیا میں کوئی تصور نہ کرسکتا تھا ایسا بھی ہوسکتا ہے

روسی صدر پیوٹن نے ناممکن کو ممکن کردیا، طیب اردگان کی اُن کے بڑے دشمن ایک ...
روسی صدر پیوٹن نے ناممکن کو ممکن کردیا، طیب اردگان کی اُن کے بڑے دشمن ایک ایسے شخص سے ملاقات کروانے کی تیاری مکمل کرلی کہ دنیا میں کوئی تصور نہ کرسکتا تھا ایسا بھی ہوسکتا ہے

  

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے کیونکہ انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردگان کی ان کے ایک ایسے دشمن سے ملاقات کی تیاری مکمل کر لی ہے جس کے بارے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ امریکن ہیرالڈ ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق رجب طیب اردگان رواں ماہ کے آخر میں روس کے دورے پر جا رہے ہیں۔ اسی دوران سیرین نیشنل بیورو کے سربراہ جنرل علی مملوک کی سربراہی میں شام کا ایک اعلیٰ وفد بھی روس پہنچ رہا ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کی سعودی عرب پر حج کے انتظامات کے حوالے سے شدید تنقید

جنرل علی مملوک شامی صدر بشارالاسد کے انتہائی قریبی اور بااعتماد ساتھی ہیں جن کی ترک صدر سے ملاقات کا اہتمام ولادی میر پیوٹن نے کیا ہے۔ شامی وفد میں جنرل علی مملوک کے علاوہ دیگر اہم سکیورٹی حکام بھی شامل ہوں گے۔ اس ملاقات سے توقع کی جا رہی ہے کہ شام جاری 5سالہ جنگ کوئی اہم موڑ لے سکتی ہے۔ اس ملاقات کی حتمی تاریخ جنرل علی مملوک روس پہنچ کر کریں گے، جبکہ ملاقات کا ایجنڈہ ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ہیکن فیدان طے کریں گے۔ اس ملاقات میں روس کی طرف سے بھی ایک سمجھوتے کی پیشکش کی جائے گی۔ اس پیشکش کے تحت روس شام میں حکومت کے وفاداروں، آزادی کے خواہشمندوں اور شام کی اعتدال پسند اپوزیشن کے نمائندوں پر مشتمل ایک اتحادی حکومت قائم کرنے کی تجویز دے گا۔

مزید : بین الاقوامی