کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ،دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں: آرمی چیف

کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ،دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں: آرمی ...
کشمیر ہماری شہہ رگ ہے ،دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا جانتے ہیں: آرمی چیف

  

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور اس کا مقدمہ ہر سطح پر لڑیں گے ۔ مسئلے کا حل کشمیری عوام کے دل کی آواز سننے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے میں ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں پاکستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو پاکستان کے پرچم کے سائے سے محروم ہو۔ دوستی نبھانا اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی جانتے ہیں، وطن کی بقا کی خاطر کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔پائیدار امن کیلئے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد ضروری ہے۔ کرپشن کے خاتمے کیلئے تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کا موثر نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ پاک چین دوستی کا ثمر اقتصادی راہداری منصوبہ ہے ۔ ملک دشمنوں کو بتانا چاہوں گا کہ ہم جیت سکتے ہیں تو اپنی جیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں ۔

جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف اپنایا اور کہا مقبوضہ کشمیر کے عوام کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں وہاں کے مظلوم عوام اپنے حقوق مانگنے کے جرم میں بدترین ریاستی دہشتگردی اور جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں مسئلہ کشمیر کا حل وہاں کے عوام کے دل کی بات سننے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے میں ہے ۔ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور ہر سطح پر اس کا مقدمہ لڑیں گے۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی ائیرفورس کے پائلٹ نے اُس دن میری جان بچائی، آج بھی اُس کا شکر گزار ہوں‘ بھارتی فوجی نے ناقابل یقین حد تک حیران کن واقعہ سے پردہ اٹھادیا، جان کر آپ کو فخر بھی ہوگا اور خوشی بھی

انہوں نے کہا کہ ہم افغانستان سے مخلص ہیں لیکن کچھ لوگ اس میں رکاوٹ ہیںمیں ان عناصر پر واضح کردوں کہ افغانستان ہمارا مسلمان بھائی اور ہمسایہ ملک ہے وہاں امن پاکستان کے مفاد کیلئے ناگزیر ہے۔ افغانستان کے ساتھ بارڈر مینجمنٹ کو موثر نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ہمسایہ ممالک کے ساتھ امن کے خواہاں ہیںتمام بیرونی سازشوں اور اشتعال انگیزیوں کے خلاف ہم ہر وقت تیار ہیں اور ہر طرح سے اپنے وطن کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہم اپنے دشمن کی ہر چال سے آگاہ ہیں ۔ کسی بھی قسم کا خطرہ ہو ہم اپنے دوستوں اور دشمنوں کے عزائم بخوبی جانتے ہیں۔ہم دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی جانتے ہیں اس کی واضح مثال پاک چین دوستی ہے اسی دوستی کا ثمر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہے ۔ اس منصوبے کی بروقت تکمیل ہمارا قومی فریضہ ہے یہ منصوبہ نہ صرف ہمارے اقتصادی روابط کو فروغ دے گا بلکہ خطے میں بھی ترقی لائے گا۔ہم کسی بیرونی طاقت کو اس میں رخنہ نہیں ڈالنے دیں گے اور ایسی ہر کوشش سے آہنی ہاتھوں سے نمٹیں گے ۔

آپ کے گھر یا دفتر کا یوپی ایس ٹھیک طرح کام کررہاہے یا بیٹری کمزور ہے؟ کوئی بھی فیصلہ لینے سے قبل یہ خبر پڑھ لیں تاکہ ۔ ۔ ۔تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 6 ستمبر نے پاکستانی قوم کو نیا ولولہ دیا مسلح افواج کے جوانوں کی بہادری کی وجہ سے یہ دن یاد گار بن چکا ہے میں ملک کے تمام دشمنوں پر یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ پاکستان پہلے مضبوط تھا اور آج ناقابل تسخیر ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہمارا ملک دہشتگردی کی جنگ میں مصروف ہے دہشتگردی کے اس ناسور سے دنیا کے کئی ممالک اندرونی انتشار کا شکار ہوچکے ہیں لیکن پاکستان وہ ملک ہے جس نے ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا چند سال پہلے دفاعی تنصیبات سمیت ملک کا کوئی حصہ دہشتگردوں سے محفوظ نہیں تھا لیکن آج پورے ملک سے دہشتگردوں کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔

روزنامہ پاکستان کی تازہ ترین اور دلچسپ خبریں اپنے موبائل اور کمپیوٹر پر براہ راست حاصل کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات تھے لیکن مجھے بطور سپہ سالار اپنے جوانوں کی صلاحیتوں پر یقین تھا اور ہم نے ضرب عضب کا فیصلہ اسی یقین کی بنیاد پر کیا۔آپریشن ضرب عضب کا نام رسول اللہ ﷺ کی تلوار سے اس لیے منصوب کیا تھا تاکہ ہمارا ہر قدم اللہ کے حکم اور نبی کریم ﷺ کی سیرت کے مطابق اٹھے ۔یہ تلوار فساد فی الارض کے خاتمے کیلئے اٹھی۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران ہم نے دہشتگردی کے خاتمے کا جو عمل شروع کیا تھا اس نے آج اپنے نتائج حاصل کرلیے اور وطن عزیز کا کوئی بھی علاقہ پاکستان کے پرچم کے سائے سے محروم نہیں ہے ۔ملک بھر میں 19 ہزار سے زائد آپریشنز کرکے دہشتگردی پر قابو پایا جس میں فوج کے ساتھ دیگر تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم کردار اداکیا۔ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ کا بہترین نتیجہ ہے اور مسلح افواج کا یہ ربط ہمارا اثاثہ ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 18 ہزار شہریوں کے علاوہ 5 ہزار جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، 41 ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں ۔ہمارے لیے یہ وطن کی بقا کی جنگ ہے قومی سکیورٹی کیلئے ہم کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ہمارے غیور قبائل نے امن کی خاطر اپنے گھر بار چھوڑے پاک فوج ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے پر عمل پیرا ہے اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کا عمل جلد شروع ہوجائے گا۔

یوم دفاع کی ملک بھر میں تقریبات ، پوری قوم ارض وطن کے تحفظ کیلئے مرمٹنے کو تیار

جنرل راحیل شریف نے کہا ہمیں مسائل کے بعد نئی مشکلات نہیں ان کا حل دکھائی دینے لگا ہے ہمیں لاحق اندرونی و بیرونی خطرات ابھی ختم نہیں ہوئے پائیدار امن کیلئے ضروری ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد کیا جائے ۔علما کرام اور میڈیا کو اسلام کے پیغام کو پھیلانا ہوگا تاکہ انتہاپسندی کی سوچ کا مکمل طور پر خاتمہ ہوسکے ۔ قوانین اور انصاف کی ان کمزوریوں کو بھی ختم کیا جائے جو دہشتگردی کا سبب بن رہی ہیں۔ کرپشن امن کی راہ میں رکاوٹ ہے اس ناسور کو دور کرنے کیلئے موثر کام کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلے میں ریاست کے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کی سرکوبی میں مصروف ہیں لیکن کچھ حلقے لوگوں میں بداعتمادی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن ان اقدامات کے باوجود ہمارے حوصلے بلند ہیں۔

سب سے بڑا سکینڈل منظرعام پر، ایاز صادق کی وہ حرکت جس کے بعد جنرل راحیل شریف کو میدان میں آنا پڑ گیا، تہلکہ خیز انکشاف منظرعام پر

جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کے خلاف جنگ کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا میرے جوان ماضی کے ہیروز کی قائم کردہ روایات کے امین ہیں ۔ ہمارے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر مجھے مکمل یقین ہے یہی ہمارے روشن مستقبل کے ضامن ہیں۔ میں ملک دشمنوں کو بتانا چاہوں گا کہ ہم جیت سکتے ہیں تو اپنی جیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں ۔

مزید : قومی /اہم خبریں