دفاع پاکستان کی لازوال داستان

دفاع پاکستان کی لازوال داستان
 دفاع پاکستان کی لازوال داستان

  

دشمن آخر دشمن ہوتا ہے، لیکن اگر جذبہ حب الوطنی اجاگر ہو جائے توبڑے سے بڑے دشمن کو زیر کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ہی صورت حال ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران میں پاکستانی قوم کی دیکھنے میں آئی۔ پوری قوم اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی:

اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود فروزی دے

برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے

پاکستان کو بھارت نے ابتدا ہی سے مختلف النوع مسائل میں الجھائے رکھا، کبھی کشمیر کے محاذ پر اور کبھی سیالکوٹ سیکٹر پر گولہ باری جاری رکھی، 1965ء میں وطن عزیز کو ایک گھناؤنی سازش سے واسطہ پڑا۔ بڑی طاقتوں روس اور امریکہ کی اپنی سیاسی چالیں تھیں، چار ستمبر 1965ء کی شام جی ایچ کیو راولپنڈی میں امریکہ سے کریڈ کے ذریعے پیغام ملا کہ بھارت پاکستان پر حملہ نہیں کرے گا۔۔۔۔ India Will not attack Pakistan ۔۔۔بظاہر بھی کوئی ایسی صورت حال نہیں تھی کہ جنگ چھڑ جائے، لیکن کسی نے امریکہ کے اس پیغام کی طرف توجہ نہ دی، اس کا تجزیہ نہ کیا، آلات اطلاعات و ابلاغیات بھی نہ تھے، جس سے دشمن کی حرکات کا پتہ لگایا جا سکتا۔ یہ سوچا نہ گیا کہ امریکہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے۔ چھ ستمبر 1965ء کی صبح بھارت نے بغیر بتائے بغیر اعلان کئے لاہور پر حملہ کر دیا۔

دشمن پوری تیاری اور منصوبہ بندی کر کے آیا تھا کہ لاہور پر قبضہ کر لیا جائے۔ موجودہ برکی روڈ در اصل ہری پور روڈ ہے۔ہری پور بھارت میں ایک قصبہ ہے، اسی ہری پور روڈ پر پاک بھارت بارڈر گونڈی ہے جو برکی قصبہ سے 11 کلومیٹر دور ہے ۔برکی تاریخی قدیم گاؤں بی آر بی نہر کے کنارے پاکستانی علاقے میں واقع ہے۔ بھارتی فوجیوں نے یہ فاصلہ بغیر کسی رکاوٹ کے منٹوں میں طے کیا۔صورت حال اس وقت یکسر بدل گئی جب پاک فوج کے جوانوں نے ان کو دگنی رفتار سے واپس مار بھگایا۔برکی گاؤں سے گونڈی کی طرف جائیں تو تقریباً چھ کلومیٹر پر بائیں جانب ہڈیارہ گاؤں اور سڑک کی دائیں جانب پیپل کا بہت بڑا درخت ہے۔ پاک فوج کے سپوت اللہ کے سپاہی میجر شفقت بلوچ نے اس درخت کی اوٹ میں دشمن پر کئی وار کئے۔ یہ درخت ہڈیارہ ڈرین کے قریب ہے، میجر بلوچ چند ساتھیوں کے ہمراہ بیسیوں بھارتی فوجیوں کا کئی گھنٹے مقابلہ کرتے رہے۔ انہوں نے اپنے چند جری جوانوں کو دور دور کھڑا کر دیا تاکہ فائر کی آواز آنے پر دشمن کو لگے کہ ہم چاروں طرف سے گھر گئے ہیں۔ میجر شفقت خود بھی زخمی ہوئے، لیکن مقابلہ جاری رکھا۔ بھارتی فوجیوں کو مزید کمک پہنچ گئی، انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں یلغار کر دی ا ور برکی، ہڈیارہ، پڈانہ، رام پورہ اور کئی ایک پاکستانی سرحدی گاؤں پر قابض ہو گئے۔

پوری دنیا کے ریڈیو سٹیشن خبریں دینے لگے، بھارتی آکاش وانی نے لاہور پر قبضہ کی خبر چلا دی کہ جم خانہ میں بھارتی فوجی چائے پئیں گے۔بھارت نے کشمیر، سیالکوٹ سیکٹر، چونڈہ کا محاذ، گنڈا سنگھ قصور، فاضلکا سیکٹر، حویلی لکھا، راجستھان، غرضیکہ جہاں جہاں بس چلا وہاں سے پاکستان پر بھرپور حملہ کر دیا۔

پورے ملک میں ہل چل مچ گئی۔ بھارتی ایئرفورس نے راولپنڈی، کراچی، ڈھاکہ اور چند دیگر مقامات پر شہری علاقوں پر بمباری کی۔ پورے ملک میں اللہ اکبر کے نعروں کی گونج سنائی دی۔ پاکستان کی عظیم افواج نے شیر کی طرح انگڑائی لی، ہر محاذ پر دشمن کا مقابلہ کیا۔ کھاریاں چھاؤنی سے فوجی دستے لاہور کی جانب چل پڑے۔ پاکستان ایئر فورس اور پاک بحریہ بھی فوری کمربستہ ہو گئے۔ جنرل محمد ایوب خان صدر پاکستان نے قوم سے ولولہ انگیز خطاب کیا، جس سے افواج پاکستان اور عوام میں جذبہ حب الوطنی اور ایمان مزید اُجاگر ہو گیا۔

خدا کی مدد شامل ہوئی، عوام میں مکمل اتحاد پیدا ہو گیا، اپوزیشن نے بھی ساتھ دیا، کمال کا جذبہ امڈ آیا، عوام نے دل کھول کر افواج پاکستان کا ساتھ دیا۔بھارت پر جنگی جنون طاری تھا، سمندر میں جنگ چھیڑ دی گئی، لیکن اسے ہرجگہ منہ کی کھانا پڑی۔ پاکستانی بحریہ نے کراچی سے 210 میل دور بھارتی سمندر میں کاٹھیاواڑ کے ساحل پر نمودار ہو کر دوارکا کے بحری اڈے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس وقت پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل نور خان تھے، پاک ایئر فورس نے کمال فن کا مظاہرہ کیا اور سترہ دن تک بری افواج کی بھرپور مدد کی۔ دشمن کے 129 لڑاکا جنگی طیاروں کو تباہ کیا، جبکہ پاکستان کے صرف 19 طیاروں کو نقصان پہنچا۔

7 ستمبر 1965ء کو ایئر فورس کے بہادر، نڈر اور ماہر سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم (محمد محمود عالم) نے ایک منٹ میں 7 بھارتی لڑاکا طیارے مار گرائے جو دنیا میں ایک ریکارڈ ہے۔ ایئرفورس کے عظیم اور بہادر سکواڈرن لیڈر سیسل چودھری، سرفراز رفیقی، ظفر چودھری اور دیگر کئی ایک نے بھارت کے ہوائی اڈے ہلواڑہ، جودھپور، آگرہ پر بار بار بمباری کی۔ ایئرفورس کے جنگی جہاز سرگودھا ایئربیس سے اڑتے اور آگرہ، دہلی اور دیگر بھارتی ہوائی اڈوں پر تباہی مچا دیتے۔ ہمارے ہمسایہ ملک ایران نے بہت مدد کی۔واہگہ، اٹاری اور پھر برکی سے آگے گونڈی بارڈر سے بھارتی بری فوج ٹینکوں کی یلغار کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن اللہ کی بھرپور مدد سے اس کو منہ کی کھانا پڑی اور لاہور میں پہنچ کر بھی واپس الٹے پاؤں بھاگنا پڑا۔

شکر گڑھ سیکٹر میں وہ 75 میل پاکستانی علاقے میں آ گئی۔ وہ گوجرانوالہ تک پہنچنا چاہتی تھی تاکہ جی ٹی روڈ کو کاٹ سکے۔ سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کے محاذ پر دنیا بھر میں جنگوں کی تاریخ میں ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی گئی، پاک فوج نے یہاں بھی بھارت کو عبرت ناک شکست دی۔پاک فوج نے فاضلکا سیکٹر،ہیڈ سلیمانکی پر کئی میل اندر تک قبضہ کر لیا، راجستھان میں بھی کئی میل علاقے پر قبضہ کیا 17 ستمبر تک پاک فوج نے بھارت کے مختلف سیکٹروں میں تقریباً 500 مربع میل علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ پاک فضائیہ نے پٹھانکوٹ، آدم پور، اور جام نگر کے مرمت شدہ اڈوں پر بھرپور حملہ کیا۔

ستمبر 1965ء کی جنگ پاکستان کے لئے دفاعی جنگ تھی، جس میں افواج پاکستان نے دفاع پاکستان کی لازوال داستان رقم کی۔ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ نے پاکستان اور بھارت کے مندوبین کو سننے کے بعد قرارداد منظور کی کہ 22 ستمبر کو پاک بھارت جنگ بند کر دی جائے۔ صدر مملکت نے اس قرارداد کا احترام کرتے ہوئے 23ستمبر کو صبح تین بجے جنگ بند کر دی۔ اس جنگ میں پاکستان کا 450 مربع میل ،جبکہ بھارت کا 1600 مربع میل علاقے پر قبضہ ہوا۔

1965ء کی جنگ بھارت نے ہم پر مسلط کی تھی۔ یہ دفاعی جنگ تھی، ہم نے افواج پاکستان کی مدد سے ملک کا مضبوط دفاع کیا، اس میں پوری قوم کا جذبہ ایمانی بھرپور انداز سے ابھر کر سامنے آیا۔جنرل محمد موسیٰ بری فوج کے کمانڈر انچیف تھے، جن کے عہد میں رن آف کچھ اور 1965ء کی پہلی پاک بھارت جنگ لڑی گئی، جبکہ پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل محمد نور خان تھے۔ وائس ایڈمرل اے آر خاں 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاک بحریہ کے کمانڈر انچیف تھے، ان کی سربراہی میں پاک بحریہ نے دشمن کو اس کے اپنے علاقے میں روکے رکھا، بلکہ ہماری بحری آب دوز کئی روز تک بھارت کے سمندر میں چھپی رہی۔بھارتی ساحلی علاقے میں توپخانے کی بے شمار توپیں نصب تھیں۔ اس کے باوجود پاک آب دوز غازی نے بھارت کے اندر جا کر تباہی مچا دی۔ دوارکا کا اڈا تباہ کر دیا، بلکہ دشمن کے رڈار سسٹم اور دیگر فوجی تنصیبات کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔

مزید :

کالم -