دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ، اب دنیا کو ”ڈومور“ کرنا ہے: آرمی چیف

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ، اب ...
دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا ، اب دنیا کو ”ڈومور“ کرنا ہے: آرمی چیف

  

راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن ) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے سپر پاورز کی جنگ میں اپنا معاشی نقصان کیا جبکہ یہاں کے عوام نے عالمی طاقتوں کی مسلط کردہ جنگ میں دفاع وطن کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے کردار ادا نہیں کیا۔ہم جنگ کے خلاف اوربرابری کی بنیاد پرتعلقات چاہتے ہیں۔ ہم اس جنگ کو جو ہم پر مسلط کی گئی،منطقی انجام تک پہنچائیں گے، عالمی طاقتیں اگر ہمارا ساتھ نہیں دے سکتیں تو ہم پر الزام تراشی نہ کریں ۔پاکستان نے آپریشن شیردل، راہ نجات، راہ راست،ضرب عضب اور آپریشن ردالفسادتک بے شمار قربانیاں دی ہیں، اب پاکستان نے نہیں بلکہ دنیا نے ڈومور کرنا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دشمنوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا دشمن جان لے ہم کٹ مریں گے لیکن ایک ایک انچ کادفاع کریں گے۔

بلوچستان کو اسی طرح خون دینے کو تیار ہیں،جیسے اس کے بیٹوں نے دیا:جنرل قمر جاوید باجوہ

راولپنڈی میں یوم دفاع پاکستان کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ یاد رکھیے کہ فوج دہشتگر دوں کو ختم کرسکتی ہے مگر دہشتگردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے کے لئے ضروری ہے کہ وطن کا ہر شہری ردالفساد کا سپاہی ۔ اس مقصد کے لئے میڈیا کا مثبت کردار بھی انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ جنگ صرف زمینی نہیں بلکہ نظریاتی اور ذہنی بھی ہے، آئیے ہم مل کر ایسا پاکستان بنائیں جہاں طاقت کا استعمال صرف ریاست کے ہاتھ میں ہو۔ میں بھٹکے ہوئے لوگوں سے کہتا ہوں جو کچھ آپ کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں فساد ہے، جہاد کا حق صرف ریاست کا ہے اور ریاست ہی کو کرنا ہے۔ ہم سب پاکستان کے حقیقی مقصد لا الہ کے وارث ہیں۔ ہمیں اپنے دین اور مذہب کے لئے کسی کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے شمار قربانیاں دی ہیں ۔ان تمام کوششوں ، بے پناہ قربانیوں اور دو دہائیوں پر محیط جنگ کے باوجودآج ہمیں کہا جارہا ہے کہ ہم نے دہشتگردی کے عفریت کا بلاتفریق مقابلہ نہیں کیا تو پھر دنیا کے کسی بھی ملک نے کچھ نہیں کیا، کیوںکہ اتنے محدود وسائل کے ساتھ اتنی بڑی کامیابی صرف پاکستان کا ہی کمال ہے، آپریشن شیر دل سے لے کر راہ راست، راہ نجات، ضرب عضب اور اب رو الفساد تک ہم نے ایک ایک انچ کی قیمت اپنے لہو سے ادا کی ہے اور میں اب یہ کہتا ہوں اب دنیا کو ڈومور کرنا ہوگا۔امریکا کے ساتھ حالیہ تعلقات پر قوم کے جذبات بہت واضح ہیں، ہم امداد نہیں عزت اور اعتماد چاہتے ہیں، ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے، ہم امریکا اور نیٹو کے ہر اس عمل کی حمایت کریں گے جس سے خطے میں بلعموم اور افغانستان میں بالخصوص امن کی راہ ہموار ہو، تاہم ہمارے سلامتی سے متعلق خدشات کو بھی حل ہونا چاہیے۔ آرمی چیف کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے جنوبی ایشیا میں غیر روایتی جنگ مسلط کی،ہم دشمن کی ان تدابیر پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہے جہاں وہ بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن میں ان تمام ملک دشمن عناصر کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم پوری توجہ کے ساتھ ان کے گھناو¿نے عزائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔دشمن کی ان کوششوں کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ پاک۔ چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کو نشانہ بنایا جائے اور اس طرح پاکستان کے عوام کے مستقبل کے ساتھ ساتھ پاک، چین دوستی پر بھی ضرب لگائی جائے۔

مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے آرمی چیف نے کہا کہ ‘بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر موجود لاکھوں نوجوانوں کی پرامن جدوجہد پاکستان یا آزاد کشمیر سے دراندازی کی محتاج نہیں، یہ امر بھارت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اس مسئلے کے دیرپا حل کے لیے پاکستان کے خلاف گالی اور کشمیریوں کے خلاف گولی کے بجائے سیاسی و سفارتی عمل کو ترجیح د ے ۔پاکستان اس مسئلے کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرنے کے لیے اپنی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور دنیا کی کوئی طاقت ہمیں اس حق سے محروم نہیں کر سکتی۔

افغانستا ن کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ہم نے افغانستان کو بھی اپنی بساط سے بڑھ کر سہارا دینے کی کوشش کی، لیکن ہم افغانستان کی جنگ پاکستان میں نہیں لڑ سکتے، ہم نے نیک نیتی سے افغانستان میں مذاکرات اور امن کی کوشش کی تاہم افغانستان ایک خود مختار ملک ہے جو اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہے ۔اگر آج بھی افغان دھڑوں کا راستہ صرف جنگ کی طرف جاتا ہے تو ہم اس جنگ کا حصہ نہیں بن سکتے، تاہم ہم یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ مکمل غیر جانبداری کے لیے افغان مہاجرین کی جلد اور باعزت واپسی میں مدد کریں اور اپنی سرحد کی مکمل حفاظت کریں، اس سلسلے میں ہم سرحد پر 2 ہزار 600 کلومیٹر کی باڑ لگا رہے ہیں اور 900 سے زائد پوسٹیں اور قلعے اس کے علاوہ ہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس جنگ کو جو ہم پر مسلط کی گئی ہے، انشاءاللہ منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان امن کا گہوارہ نہ بن جائے۔ یہ ہماری بقا کی جنگ ہے اور ہمیں اسے آنے والی نسلوں کے لئے جیتنا ہے۔ عالمی طاقتیں اگر اس کام میں ہمارے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتیں تو ہمیں اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار بھی ٹھہرائیں۔ آج کا پاکستان دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی روشن مثال ہے۔ خدانخواستہ اگر ہم ناکام ہوئے تو یہ خطہ مکمل طور پر عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ان کامزید کہنا تھا کہ آج ہم ہر مسئلے کا حل بہتر سوچ اور فراست سے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں چاہے وہ فاٹا میں امن کا معاملہ ہو یا بلوچستان کی ترقی، خطے کے تعلقات ہوں یا اقوام عالم کے ساتھ معاملات، ہم تمام متعلقہ قومی اداروں کو مکمل ان پٹ فراہم کر رہے ہیں۔کیوں کہ ادارے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ پاکستان میں آئینی ، قانونی اور جمہوری روایات کی مضبوطی ہی ہم سب کی مضبوطی ہے۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -