میرے نانا ایسے شخص تھے جو کبھی ۔۔۔میجر عزیز بھٹی شہید کی نواسی انوشے اظہار کے جذبات جان کر آپ کے دلوں میں شہدائے وطن کی محبت مزید بڑھ جائے گی

میرے نانا ایسے شخص تھے جو کبھی ۔۔۔میجر عزیز بھٹی شہید کی نواسی انوشے اظہار کے ...
میرے نانا ایسے شخص تھے جو کبھی ۔۔۔میجر عزیز بھٹی شہید کی نواسی انوشے اظہار کے جذبات جان کر آپ کے دلوں میں شہدائے وطن کی محبت مزید بڑھ جائے گی

  

  1965 میں بھارت کے خلاف جنگ میں جواں مردی اور بہادری کا لازوال مظاہرہ کرنے والے قوم کے بہادر سپوت میجر  راجہ عزیز بھٹی شہید  کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ۔میجر راجہ عزیز بھٹی شہید  6 اگست 1928 میں ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے، راجہ عزیز بھٹی قیام پاکستان کے بعد 21 جنوری 1948 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں شامل ہوئے۔ 1950 میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے پہلے ریگولرکورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں انہیں بہترین کارکردگی پرشہید ملت خان لیاقت علی خان نے بہترین کیڈٹ کے اعزازکے علاوہ شمشیر اعزازی اور نارمن گولڈ میڈل کے اعزاز سے نوازا گیا۔میجر راجہ عزیز بھٹی 1952 میں اعلیٰ فوجی ٹریننگ کے لیے کینیڈا بھی گئے، انہوں نے 1957 سے 1959 تک جی ایس سیکنڈ آپریشنز کی حیثیت سے جہلم اور کوہاٹ میں خدمات انجام دیں۔ 1960 سے 1962 تک پنجاب رجمنٹ جب کہ 1962 سے 1964 تک انفنٹری اسکول کوئٹہ سے وابستہ رہے۔ انہوں نے جنوری 1965 سے مئی 1965ء تک سیکنڈ کمانڈ کے طورپر خدمات سرانجام دیں ۔1965 کی جنگ میں راجا عزیز بھٹی کو بی آر بی نہر کے کنارے پر بہ حیثیت کمپنی کمانڈر تعینات کیا گیا مگر انہوں نے اپنے لیے او پی کی پوسٹ سنبھالی جہاں بھوکے پیاسے کئی دن تک مسلسل دشمن کا  انتہائی بہادری اور دلیری سے مقابلہ کرتے رہےاور پھر جام شہادت نوش کیا ،مادر وطن کے لئے اپنی جان نثار کرنے پر میجر عزیز بھٹی شہید  کو پاکستان کے سب سے بڑے فوجی اعزاز ’’ نشان حیدر‘‘  سے نوازا گیا جو 23 مارچ 1966ء کو ان کی اہلیہ محترمہ زرینہ اختر نے وصول کیا۔ یوم شہدا کے موقع پر پاکستانی قوم کے عظیم سپوت میجر راجہ عزیز بھٹی شہید کی نواسی انوشے اظہار  اپنے نانا کے بارے میں کس انداز میں اظہار خیال کر رہی ہیں؟ ان کے جذبات آپ کے دلوں میں جذبہ حب الوطنی کو مزید  ابھارنے کا سبب بن جائیں گے۔۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔۔

مزید : وڈیو گیلری