A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

عظیم شہدا کی یاد اور دفاعِ پاکستان

عظیم شہدا کی یاد اور دفاعِ پاکستان

Sep 06, 2018

چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں کور کمانڈرز کانفرنس میں آپریشن ردّالفساد کی پیش رفت اور خطے کی جیو سٹرٹیجک اور سیکیورٹی صورتِ حال کا جائزہ لیا گیا۔شرکا نے یومِ دفاع کے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہدایت کی کہ فیلڈ فارمیشن افسران شہدا کے گھروں میں جائیں اور اُنہیں خراجِ عقیدت پیش کریں،شہدا کی عظیم قربانیوں کا اعتراف اور احترام کیا جائے،آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شہادت بھولی نہیں جائے گی،قوم کے نمائندے شہیدوں کے گھر جائیں گے، شاپنگ مالز، بسوں، ٹرینوں، ویگنوں، ٹرکوں اور شاہراہوں پر شہدا کی تصاویر لگائی جائیں گی، ہر شہید کی تصویر پر جائے شہادت بھی لکھی جائے گی، یومِ دفاع کے سلسلے میں افواجِ پاکستان ہتھیاروں کی نمائش کریں گی،تعلیمی اداروں میں شہدا کی یاد میں تقریبات ہوں گی۔آج یومِ دفاعِ پاکستان ایک نئے جذبے اور نئے انداز سے منایا جا رہا ہے اور اِس ضمن میں پوری قوم کے سر ہمارے عظیم شہدا کی قربانیوں کے اعتراف میں جھکے ہوئے ہیں،یومِ دفاع 6ستمبر 65ء کو پاکستان کے دفاع کے حوالے سے منایا جاتا ہے،جب مکار اور عیار دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں پاکستان پر حملہ کر دیا تھا،دشمن کے عزائم تو کچھ اور تھے،لیکن جب اُسے افواجِ پاکستان کی سخت مزاحمت کا سامنا ہوا تو اُس کے بڑھتے ہوئے قدم رُک گئے اور جو بھارتی جرنیل لاہور میں فتح کا جشن منانے کے خواب دیکھ رہے تھے پاکستانی فوج نے اپنی سرحد پر اپنے خون کے نذرانے دے کر منتشر کر دیا اور سترہ دِن تک دشمن مختلف جنگی سیکٹروں میں ٹکریں مار کر اپنے سر پاش پاش کرنے کے بعد اِس حالت میں جنگ بندی پر مجبور ہوا کہ بھارت کا کافی علاقہ پاکستان کے قبضے میں تھا، بھارتی افواج صرف اُن پاکستانی علاقوں پر قابض ہو سکی تھیں،جو انہوں نے سرحد عبور کرتے وقت کسی لڑائی کے بغیر قبضے میں کر لئے تھے۔پاکستان نے جن بھارتی علاقوں پر قبضہ کیا وہ باقاعدہ لڑ کر چھینے تھے اور بھارتی سورماؤں کو اُن کے اپنے علاقوں سے بھگا دیا تھا۔

یومِ دفاع تو ہر سال منایا جاتا ہے، جب قوم اور فوج اپنے شہیدوں کو یاد کرتی اور اُن کے روشن تذکروں سے اپنے دِلوں کو گرماتی ہے،لیکن اِس بار شہیدوں کے تذکرے ذرا زیادہ وسیع انداز میں کئے جا رہے ہیں اور یوم دفاع کے موقع پر شہدا کی یادیں تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ اُن کے ورثا اور عزیز و اقارب کے ساتھ اظہارِ یکجہتی نئے انداز میں کیا جا رہا ہے دہشت گردی کی جنگ میں شہید ہونے والوں کو بھی بھلایا نہیں گیا، 1965ء کی جنگ کے بعد سے آج تک پاکستان نے دفاعِ وطن کے سلسلے میں بہت سے سنگِ میل عبور کئے ہیں،اِس وقت غیر ملکی ہتھیاروں اور گولہ بارود پر زیادہ انحصار تھا،لیکن جب امریکہ نے عین حالتِ جنگ میں فالتو پرزوں اور ہتھیاروں کی سپلائی یہ کہہ کر روک دی کہ پاکستان امریکہ کا حلیف ضرور ہے،لیکن وہ اُسی وقت پاکستان کی امداد کا پابند ہے جب کوئی کمیونسٹ مُلک پاکستان پر حملہ آور ہو،بھارت چونکہ کمیونسٹ نہیں تھا اِس لئے امریکہ کو اپنی من پسند تاویل کر کے نہ صرف جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا بہانہ مل گیا، بلکہ پاکستان کو اسلحے گولہ بارود اور فالتو پرزوں کی سپلائی بھی روک دی،غالباً یہی موقع تھا جب پاکستان کو ہتھیار سازی کے میدان میں داخل ہونے کا خیال آیا۔محدود پیمانے پر آغاز کے بعد اب پاکستان اس شعبے میں تیز فتاری سے آگے بڑھ چکا ہے،جدید لڑاکا طیارے چین کے تعاون سے پاکستان میں بن رہے ہیں اور دُنیا بھر میں اِن کی دھوم ہے،ابھی زیادہ دن نہیں گزرے پولینڈ میں جے ایف17 تھنڈر طیاروں میں پاکستانی ہوا بازوں نے اپنی مہارت کے ایسے شاندار مظاہرے کئے کہ پولینڈ میں دُنیا بھر سے آئے ہوئے طیاروں کے خریدار سانس روک کر ہمارے ہوا بازوں کی مہارت اور پاکستان میں تیار ہونے والے طیاروں کی پرفارمنس کا مشاہدہ کرتے رہے،امریکہ سے ایف16 طیاروں کی خریداری کے ضمن میں پاکستان کو بڑے تلخ تجربات سے گزرنا پڑا ہے،لیکن ان کا ایک فائدہ یہ ہوا ہے کہ پاکستان کو اعتماد کے ساتھ طیارہ سازی کے اِس میدان میں قدم رکھنا پڑا اور وہ دِن دور نہیں جب دُنیا کی جدید ایئر فورسیں پاکستانی ساختہ طیارے اُڑا رہی ہوں گی،جدید ترین ٹینک اور دوسرا بہت سا روایتی اسلحہ بھی اب پاکستان کے کارخانوں میں تیار ہوتا ہے۔

پاکستان اپنے عظیم سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی حب الوطنی اور صلاحیت کے صدقے، اب ایٹمی طاقت بھی ہے اور اپنے سائنس دانوں کی مہارتوں کی بدولت میزائل سازی کے میدان میں منزلیں مارتا ہوا اتنا آگے بڑھ چکا ہے کہ دشمن کے بڑے بڑے شہر جو دور ہیں یا نزدیک پاکستانی میزائلوں کی زد میں ہیں،98ء میں جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کیا تھا تو بھارت دھمکیوں پر اُترا ہوا تھا اس کے بعد اس کی بڑھکیں بھی بند ہو گئیں اور حوصلے بھی پست ہو گئے،پاکستان کی یہی ایٹمی صلاحیت ہے،جس نے بھارت کو جارحیت کا دائرہ وسیع کرنے سے روکا ہوا ہے۔اگرچہ وہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر شرارتوں سے باز نہیں آتا اور مختلف حیلوں سے سیز فائر لائن پر جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزیاں کرتا رہتا ہے اور بعض اوقات اس کے رہنما ترنگ میں آ کر سرجیکل سٹرائیک کی بڑ بھی ہانک دیتے ہیں،لیکن زمین پر اس جگہ کی نشاندہی آج تک نہیں کر سکے،جہاں انہوں نے خیالی سرجیکل سٹرائیک کی تھی۔

پاکستان نے65ء کے تجربات سے بہت کچھ سیکھا اور اپنے دفاع کو بھی مضبوط بنایا، لیکن بھارت کی چانکیائی سیاست کا کما حقہ،مقابلہ نہ کر سکا اور یہی وجہ ہے کہ 1971ء میں اس نے پاکستان کو دو لخت کرنے میں کامیابی حاصل کر لی اور اِس مقصد کے لئے پاکستانیوں ہی کو استعمال کیا،یہ داغ ایسا ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر زیادہ سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت اب بھی ہے پاکستان کی سیاست اور سیاسی زندگی اگر بھارت کی چالباز یوں کا مقابلہ اسی طرح کر رہی ہوتی، جس طرح دفاع کے میدان میں کیا جا رہا تھا تو شاید اس محاذ پر بھی بھارت کو کامیابی نہ ہوتی،اب ضرورت اِس بات کی ہے کہ بھارت کے ساتھ سیاسی محاذ پر درست طریقے سے نپٹا جائے اور افغانستان میں اُسے امریکہ نے جو کردار سونپا ہے اس کا مقابلہ حکمت اور تدبر کے ساتھ کیا جائے،امریکہ اِس وقت نہ صرف بھارت کے ساتھ پوری طرح کھڑا ہے،بلکہ اُس کے اسلحہ خانوں کو جدید بنانے میں بھی اس کی ہر طرح معاونت کر رہا ہے اور بھارت کو خطے میں اہم کردار سونپنا چاہتا ہے،اس کا مقابلہ بہتر اور نتیجہ خیز سفارت کاری کے ذریعے ہی کی جا سکتا ہے،پاکستان کے اندر سیاسی استحکام بہت ضروری ہے،بھارت کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں اپنے تمام اداروں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،مضبوط دفاع کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت بھی ملکوں کی سلامتی کی ضامن ہے، آج ہمیں یہ عہد کرنا چاہئے کہ مُلک کی خاطر ہر وہ اقدام کیا جائے گا،جس سے پاکستان کی سالمیت مضبوط ہوتی ہو،سیاسی استحکام اور مضبوط معیشت کے بغیر مضبوط دفاع کا کوئی تصور آج کی دُنیا میں نہیں پایا جاتا، ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو ان تمام پہلوؤں کو پیشِ نظر رکھ کر آگے بڑھنا ہے۔

مزیدخبریں