سمندر کا پانی میٹھا کرنے کا منصوبہ منظور!

06 ستمبر 2018

پانی نہ صرف وقت بلکہ مستقبل کی بھی اہم ضرورت ہے، اس کے پیش نظر ہی ماہرین شدت سے اصرار کرتے ہیں کہ پانی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اسے ذخیرہ کرنے کا وسیع بندوبست کیا جائے اور ضرورت کے مطابق ڈیم تعمیر کئے جائیں پانی کا حصول اور تقسیم مہنگا سودا ہے لیکن یہ کسی بھی صورت انسانی جانوں سے زیادہ وقعت کا حامل نہیں، ابھی سندھ میں تھر سے کراچی اور اندرون سندھ پینے کا صاف پانی دستیاب ہونا مشکل ہے، کراچی اور حیدر آباد میں تو ٹینکر مافیا بھی سرگرم عمل ہے اور شہری شدید پریشانی سے دوچار ہیں۔آج کا یہ دور جدید ٹیکنالوجی کا ہے اور دنیا میں سمندر سے میٹھا پانی حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ ایجاد ہوچکے ہیں، کراچی اور نواحی شہروں کو سمندر کی سہولت حاصل ہے، لیکن اس طرف کبھی توجہ ہی نہیں دی گئی، ہمارے کراچی کے نمائندے کی تو یہ بھی اطلاع ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں کلفٹن کی طرف ایک پلانٹ لگایا گیا، جو کافی علاقے کو پانی مہیا کررہا تھا، اسے خراب ہوئے عرصہ ہوچکا اس کی طرف ابھی تک توجہ ہی نہیں دی گئی۔انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جب لیاری کا دورہ کیا تو شہریوں نے برتن اٹھا کر پانی کی کمی اور قلت کے خلاف مظاہرے کئے تھے اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے وعدہ کیا تھا کہ ان کی حکومت آئی تو سمندر سے پانی حاصل کرکے میٹھا پانی مہیا کیا جائے گا، بہرحال کراچی میں پانی کی شدید کمی اب تک جاری اور لوگ احتجاج کرتے رہتے ہیں، اب معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ روز سندھ کی صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا تو یہ مسئلہ بھی ایجنڈے پر تھا، چنانچہ کابینہ نے 300ملین گیلن پانی کے حصول کے لئے ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کی منظوری دے دی ہے، یہ پلانٹ سمندر سے پانی حاصل کرکے میٹھا کرے گا، کابینہ کو بتایا گیا کہ کراچی کو کنچھرجھیل سے 583 ملین، حب ڈیم سے 100 ملین گیلن پانی مل رہا ہے یوں ان دو ذخائر سے 638 ملین گیلن پانی مہیا کیا جاتا ہے جو ناکافی ثابت ہو رہا ہے، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کے شہریوں کے لئے پانی مہیا کرنا ضروری ہے اور یہ سمندر کا پانی میٹھا کرکے مہیا کیا جاسکتا ہے، چنانچہ کابینہ نے پلانٹ لگانے کے منصوبہ کی منظوری دے دی۔یہ ایک مستحسن قدم ہے تاہم صرف منظوری کافی عمل نہیں ضرورت ہے کہ اس منصوبے کی جلد از جلد تکمیل کے لئے تیزی سے کارروائی کی جائے،فیزیبلٹی بناکر فنڈر مہیا کردیئے جائیں اور جلد از جلد یہ پلانٹ لگا کر چالو کیا جائے، یہ دھیان بھی رکھنا لازم ہے کہ جلد بازی میں کرپشن کا دروازہ نہ کھل جائے، اس کے ساتھ ہی حکومت کو اس امر پر بھی غور کرنا چاہئے تھا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں جو پلانٹ لگایا گیا وہ کیوں خراب پڑا ہے، اسے تو پہلی فرصت میں درست کرکے چلایا جائے تاکہ جتنی ضرورت اس کے ذریعے پوری ہوتی تھی وہ ہوتی رہے، یہ ترجیحی کام ہیں اور اسی بنیاد پر مکمل بھی ہونا چاہئیں۔

مزیدخبریں