روحِ محمدﷺ

روحِ محمدﷺ
روحِ محمدﷺ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ہالینڈ کی اسلام مخالف فریڈم پارٹی کے سربراہ گیرٹ ویلڈرز نے مسلم دنیا میں اشتعال کا سبب بننے والے توہین آمیز خاکوں کے مقابلوں کو ملتوی کر کے وقتی طور پر ایک بڑے نظریاتی تنازعہ کو ٹال دیا،عیسائی یورپ میں توہین آمیز ناولز،ڈراموں اور خاکوں کے ذریعے پیغمبر اسلامؐ کی شان میں گستاخی کا رجحان محض آزادی اظہار کا مسلہ نہیں، بلکہ اس جسارت کا پس منظر وہ سنجیدہ نظریاتی تنازعات ہیں، جن کی جڑیں تینوں بڑے مذاہب کی تاریخی جدلیات میں پیوست ہیں۔مصری مصنف محمد حسنین ہیکل نے اپنی کتاب ’’حیات محمدؐ‘‘ کے مقدمہ میں لکھا کہ’’اب دنیا انسانیت میں خدا کی ذات متنازعہ نہیں رہی،کائنات کے کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھنے کے بعد عہد جدید کا انسان کسی نہ کسی صورت محرک اول کا اعتراف کرلیتا ہے،اس وقت انسانوں کے مابین اصل تنازعہ حضرت محمدﷺ کو خدا کا آخری پیغمبر تسلیم کرانے پر ہو گا‘‘۔

بلاشبہ مغرب کی اجتماعی دانش کسی زندہ اور قادرِمطلق خدا کو ماننے کی بجائے،کائنات میں کارفرما اُن اٹل قوانین کو بالاتر قوت تسلیم کرنے میں سہولت محسوس کرتی ہے جو کسی فرد یا گروہ سے اطاعت وبندگی کا تقاضا نہیں کرتے،مغربی انسان فرد کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو کسی شعوری ہدایت کے تابع لا کر ایک پاکیزہ اخلاقی نظام میں ڈھالنے کی بجائے اُن جبلی خواہشات کے تحت غیر محدود آزادی کا متلاشی ہے جو کسی حدود وقیود میں سما نہیں سکتیں،چنانچہ اس تصور حیات اور ایسی آزاد معاشرتی زندگی کے لئے لازمی تھا کہ نبوّت کے اس انسٹی ٹیوشن کو مفقود قرار دیا جائے جو مالک کائنات کی حاکمیت کا طاقتور داعی اور اس زمین پر پرورگار کا حقیقی نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔


خالق کائنات کی بندگی سے نجات کی خاطر ماضی میں بھی یہود ونصاریٰ اپنے انبیاؑ ء پر الزام لگا کے انہیں قتل کراتے آئے ،اسی باغیانہ روش کے باعث عیسائیت و یہودیت کی اخلاقی بنیادیں ختم ہو گئیں،ان مذاہب کی روح نکلی تو صرف عصبیت باقی رہ گئی۔علیٰ ہذالقیاس، یہودیوں نے حسب عادت اسلام کو ختم کرنے کی خاطر بھی حضورؐ کی زندگی میں آپﷺ پر الزام لگائے اور ایک انتہا پسند یہودی کعب بن اشرف نے دو بار آپﷺ کو قتل کرانے کی کوشش کی۔اب بھی یہود و نصاریٰ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ نبی آخر الزمانؑ کے ابدی پیغام اور اسوہ حَسنہ کے عالم انسانیت پر اخلاقی اثرات کو ختم کئے بغیر ایک حیّ الْقیّوم خدا کے تصور کو مٹا کر میکانیکی تصور خدا کی ترویج ممکن نہیں ہو سکتی،اس لئے ابھی تک آپﷺ کی ذات پر الزام طرازی کا سلسلہ رُکا نہیں،مغرب کے عقلی معاشروں نے عہد جدید کے سائنسی علوم اور فلسفیانہ دانش کو بروکار لا کے اس سرچشمہ ہدایت کی ساکھ کو متنازعہ بنانے کی کوشش کے ذریعے خدائے واحد کے خلاف بغاوت کی منظم تحریک چلا رکھی ہے،جسمیں ادیبوں ،فنکاروں اور لکھاریوں کے ذریعے گستاخانہ مواد پر مبنی خاکوں، ناولوں اور ڈراموں کے علاوہ ایسے مذاہب کا احیاء شامل ہے جو نبوت کے جھوٹے مدعی پیدا کرتے ہیں۔


بلاشبہ،یہودیوں نے تاریخ میں پہلی بار اخلاقی اور علمی میدان میں صرف محمدعربیﷺ سے شکست کھائی،جسے وہ بھلا نہیں سکے، لیکن وہ اس حقیقت کو بہرحال جان گئے کہ اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس منبع نور کو مٹایا جائے، جس کے کردار سے خداکی حقانیت ثابت ہوئی اور جس کے نور علم سے ہر عہد کے مسلمانوں کو لازوال قوت ملی،علامہ اقبالؒ کی مشہور نظم ،ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام،جسمیں ابلیس اپنی ذریت سے کہتا ہے،’’یہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا، روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو‘‘اب دنیائے مغرب مسلمانوں کے دِلوں سے بالخصوص اور پوری انسانیت کے اذہان سے بالعموم پیغمبر اسلام کی عظمت کو کھرچنے کی سرگرانی میں مبتلا ہے۔

اسی مقصد کو پانے کی خاطر سیکولرازم،جسے غیرجانبدار اور سماجی اتحاد کے اصول کے طور پر شہرت دی گئی،کو بھی اسلام کے خلاف ہی بروکار لایا گیا،اس میں کوئی شک باقی نہیں رہا کہ مغربی حکومتوں نے سیکولرازم کو مسلمانوں کے اخلاقی رویّوں اور انکی سماجی اقدار کی نگرانی کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا،یہ رجحان سن دوہزار چار میں سکولوں میں حجاب پر پابندی سے واضح ہو گیا تھا،مغربی دانش نے اگرچہ بظاہر سیکولرازم کو ایسے عالم گیر قانون کے طور پر پیش کیا جس کا مقصد ہرقسم کی مذہبی شناخت اپنانے پر پابندی رکھنا تھی، لیکن عملاً اس کا ہدف صرف اسلام بنا،اس قانون کا اطلاق فرانس کے ان سکولوں پر نہیں کیا گیا جہاں سے مذہبی حکام کو تنخواہیں ملتی ہیں،لیکن ان سکولز میں نقاب پر پابندی کے علاوہ کنٹین پر سور کے گوشت کے متبادل کو ممنوع قرار دے دیا گیا،جہاں مسلمان بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں،حتیٰ کہ اپنی بچیوں کو سکولز سے لینے کے لئے آنے والی ماؤں کے حجاب پر اعتراض اٹھائے گئے،خود مغربی دانشور تسلیم کرتے ہیں کہ سیکولر ازم مذہبی تعصبات سے نجات کا وسیلہ نہیں بن پایا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ جنگ خندق کے دوران ریاست مدینہ سے غداری کی پاداش میں بنوقریظہ کے خلاف تادیبی کارروائی کے سوا،سات سو سال تک مسلم حکومتوں میں یہودیوں نے آسودہ زندگی گزاری، معروف مورّخ ول ڈیورانٹ نے لکھا ہے کہ ’’70ء میں جب رومیوں نے یروشلم فتح کیا تو یہودی فلسطین چھوڑگئے،عیسائی انہیں طرح طرح کی تکلیفیں دیکر ہلاک کرتے رہے،انہیں کہیں زمین کا ٹکڑا ملتا نہ عیسائی انجمنیں انہیں تجارت کرنے دیتیں،چنانچہ یہودیوں کے مشاغل کا دائرہ تنگ ہو گیا اور وہ اپنی گنجان آباد بستیوں میں قیدی بنکر رہ گئے، لوگ انہیں ستاتے اور بادشاہ لوٹ لیتے،گویا عمر بھر کے لئے انہیں انسانی برادری سے خارج کر دیا گیا، لیکن غلبہ اسلام کے بعد جزیرہ نما عرب میں انہوں نے بطیب خاطر عربوں کے رضیاتی،طبی اور فلسفیانہ ذخیرہ دانش سے استفادہ کیا اور قرطبہ،برشلونہ اور اشبیلہ کے جلیل القدر مدارس میں اپنی ثقافت کو پروان چڑھایا، بارہویں اور تیرہویں صدی میں یہودیوں نے ثقافت کے تحول (Transition) میں نمایاں حصہ لیا،انہی کے وسیلے سے قدیم مشرقی تہذیب مغرب جا پہنچی، 1493ء میں جب تک فرڈنینڈ نے غرناطہ فتح کر کے عربوں کو ہسپانیہ سے نکالا نہیں دیا یہودیت پھلتی پھولتی رہی،لیکن اس کے بعد یہودیوں سے پھر وہ آزادی چھن گئی جو اسلام کے نرم قوانین نے انہیں دے رکھی تھی،فرڈنینڈ نے مذہبی عدالتیں قائم کیں جسمیں انہیں بپتسمہ لیکر عیسائی ہونے یا پھر مال و اسباب ضبط کروا کے جلاوطنی قبول کرنے کی پیشکش کی گئی‘‘۔


بیسویں صدی میں یہودیوں پر نازی جرمنوں کے مظالم (جنہیں ہولوکاسٹ کا نام دیا گیا) بھی دراصل عیسائیت ہی کے زیر اثر تھے لیکن مغرب کے عیّار حکمرانوں نے جرمن نازیوں کے مظالم کو بڑھا چڑھا کے پیش کر کے اس عظیم المیہ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا،ہولو کاسٹ یہودیوں کے مصائب کا افسانہ ہی نہیں یہ دراصل مسلمانوں کے خلاف عیسائی سازش کا حماسہ بھی تھا،مغرب کے عیسائیوں نے یہودیوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتیوں کا ازالہ اسرائیل کی تخلیق کے ذریعے مسلمانوں کے خون سے کیا،عیسائیت کے مظالم کا شکار بننے والے یہودیوں کی آتش غضب کو ٹھنڈا کرنے کی خاطر آج دنیا بھر میں ہر جگہ مسلمانوں کا خون بہانا یہودیوں اور عیسائیوں کا محبوب مشغلہ بن کے رہ گیا۔مگر مسلمانوں کی لامحدود قتل و غارت گری کے باوجود بھی اسلام کو ختم نہ کیا جا سکا تو امت مسلمہ کی روح ،محمدﷺ کی ذات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا۔لاریب! مسلمانوں کی فلاح و بقاء پیغام رسالت کو زندہ رکھنے اور ناموس رسالت کے تحفظ میں مضمر ہے،مسلمان معاشروں اور مسلم سلطنتوں نے اگر پیغام رسالت اور ناموس رسالت کے تحفظ کی خاطر جنگ نہ لڑی تو ان کا نام و نشان تک مٹ جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -