کیا پولیس اور بیورو کریسی کا قبلہ درست ہو چکا ہے؟

06 ستمبر 2018

نسیم شاہد


کیا ہماری بیورو کریسی نئے پاکستان کے نظریئے کو اپنا چکی ہے؟کیا پولیس نے نئے پاکستان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا ہے،کیا رشوت ختم ہو گئی ہے، تھانوں اور دفاتر میں عوام سے سلوک انسانوں والا کیا جا رہا ہے، کیا افسران عوام کو اہمیت دینے لگے ہیں،کیا انہوں نے مال بنانے کا اندازِ افسری ترک کر دیا ہے،کیا ہر مظلوم کی داد رسی ہونے لگی ہے،کیا سائلوں کے مسائل بغیر پرچی اور پیسے کے حل ہو رہے ہیں،کیا پولیس اور بیورو کریسی نے اپنا احتسابی نظام اتنا سخت اور بہتر کر لیا ہے کہ کوئی افسر یا پولیس والا لوگوں کے کام نہ کرے،ان پر ظلم ڈھائے،رشوت لے اور سرکاری فنڈز میں خرد برد کرے تو فوراً پکڑا جائے گا؟۔۔۔ یہ اور ایسے نجانے کتنے سوال مجھے آج کل تنگ کر رہے ہیں۔ جب سے یہ شور مچا ہے کہ پولیس اور بیورو کریسی کو سیاسی مداخلت سے آزاد کر دیا جائے،اُس وقت سے مَیں ان سوالات کی زد میں ہوں۔ ابھی ایک خبر پڑھی ہے کہ چکوال اور راجن پور کے ڈپٹی کمشنروں نے وزیراعظم اور چیف جسٹس کو خطوط لکھے ہیں کہ چکوال میں ایم این اے ڈاکٹر ذوالفقار علی اور راجن پور میں ایم این اے نصر اللہ دریشک اُن پر ملازمین کی تبدیلی کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس کا فوری ردعمل یہ آیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے وزیر اطلاعات فواد چودھری کو یہ ہدایات جاری کر دی ہیں کہ وہ تمام ایم این ایز کو اُن کا یہ پیغام پہنچائیں کہ سرکاری امور میں مداخلت نہ کی جائے۔ چلیں جی یہ مسئلہ حل ہو گیا،پولیس اور انتظامیہ سیاسی دباؤ سے آزاد ہو گئیں، مگر سوال یہ ہے کہ اب وہ کِس کے دباؤ میں ہیں؟ لہر ایسی چلی ہے کہ ڈی پی او پاکپتن کے کیس میں پنجاب کے وزیراعلیٰ کی مداخلت کو بھی عدالت نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور اُن کے خلاف شق 62 ون۔ایف کے تحت کارروائی کا عندیہ بھی دیا ہے،تو اس صورتِ حال میں یہ افسر شاہی ، یہ پولیس بے لگام ہو جائے گی یا خودبخود اپنا قبلہ درست کرلیاجائے گا؟ مجھے تو یہ لگ رہا ہے کہ بیورو کریسی اور پولیس نے عمران خان کے نئے پاکستان کو اپنے لئے نعمت غیر مترقبہ سمجھ لیا ہے۔ ’’سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے‘‘ والی صورتِ حال کے مصداق انہیں تو ہر طرف آزادی ہی آزادی نظر آ رہی ہے۔


سوال یہ ہے کہ جوابدہی کے متبادل نظام کو تشکیل دیئے بغیر بیورو کریسی اور پولیس کو یہ بے لگام آزادی کیسے دی جا سکتی ہے؟یہ کہنا کہ صوبے کا چیف سیکرٹری یا آئی جی خود معاملات کو چلائے اور درست رکھے، بھیڑیئے سے دودھ کی رکھوالی کے مترادف ہے۔آئی جی کی کیا حیثیت ہے،اس کا اندازہ کلیم امام کی حالت کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ایک ڈی پی او اُن کے خلاف مدعی بنا ہوا ہے اور آئی جی عدالتِ عظمیٰ سے جھڑکیاں کھا رہا ہے۔ ارکانِ اسمبلی کو تقرری و تبادلے میں مداخلت سے روکنا اچھی بات ہے،لیکن جن اہلکاروں یا ملازمین کو ڈپٹی کمشنرز یا ڈی پی اوز نے تعینات کیا ہوا ہے، کیا اُن کی ضمانت وہ دیں گے کہ سب ایماندار ہیں، فرشتے ہیں،عوام کی خدمت کرنے والے ہیں اور اپنے عہدے کا فائدہ اٹھا کر ظلم نہیں کر رہے؟ یہ تو ہم آئیڈیل معاشروں والی بات کر رہے ہیں،جہاں عوامی حقوق کی صورتِ حال مثالی ہے،بیورو کریسی اور پولیس کے اختیارات اور فرائض واضح ہیں،مگر پاکستان میں تو آج بھی دور غلامی کا پولیس ایکٹ نافذ ہے

،جس میں ہر شخص کو مجرم سمجھ لیا گیا ہے اور پولیس کو لامحدود اختیارات حاصل ہیں،جھوٹے مقدمے بنانا، ٹارچر سیلوں میں رکھنا،فرضی میڈیکل رپورٹیں بنانا اور کرائے کے قاتلوں کا کردار ادا کرنا، کون سی انہونی باتیں ہیں،ایسے میں پولیس کو مادر پدر آزاد چھوڑ دینا،جس پر صوبے کا وزیراعلیٰ تک کوئی اختیار نہ رکھتاہو،ایک ایسی بات ہے،جس کا بڑا بُرا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ عمومی طور پر یہ بات درست ہے کہ ایم این ایز اور ایم پی ایز ضلع میں اپنی پسند کا ڈی پی او تعینات کراتے ہیں، پھر تھانوں میں اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ ایس ایچ او اُن کی مرضی سے تعینات ہو،لیکن اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ عوام پولیس کے مظالم سے بچنے کے لئے علاقے کے ممبر اسمبلی کے پاس جاتے تھے۔وہ مداخلت کر کے پولیس سے جان بخشی بھی کرا دیتا تھا۔


یہاں سوال یہ ہے کہ اب اگر ایس ایچ او ظلم ڈھاتا ہے یا مظلوم کی داد رسی نہیں کرتا، تو کس کے پاس جایا جائے گا۔ کیا ڈی پی او کے پاس، جس سے ملنا بھی عام آدمی کے لئے مشکل ہوتا ہے۔ کیا ڈپٹی کمشنر کے پاس جس کے دروازے پر کھڑا دربان صاحب سے ملنے ہی نہیں دیتا۔ لیاقت بلوچ نے بالکل درست کہا ہے کہ عوامی نمائندوں کو بیورو کریسی کے سامنے بے توقیر کیا گیا توعوام رُل جائیں گے۔سب سے پہلے اِس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ عوام کو دفتری اور پولیس کے نظام سے خود کار انداز میں ریلیف ملے،اگر کہیں زیادتی یا رکاوٹ ہو تو فوراً اُس نظام کے تحت اُسے دور کر دیا جائے،ایسا توکچھ بھی نہیں ہوا، صرف وزیراعظم عمران خان کے کہہ دینے سے ہم اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرائیں گے، بات نہیں بنے گی۔ چلیں جی آپ نے یکطرفہ طور پر اداروں کو سیاسی دباؤ سے آزاد کرا لیا، لیکن کیا جواب میں ان اداروں نے بھی خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھالا، کیا متبادل نظام ایسا دیا کہ عوام ہر ظلم و جبر سے محفوظ ہو گئے۔

اس پہلو پر تو توجہ نہیں دی گئی اور نہ کام ہوا ہے۔ یہ جن دو ڈپٹی کمشنروں نے سیاسی مداخلت کی شکایت پر خطوط لکھے ہیں، اُن سے پوچھا جائے کہ انہوں نے اپنے اضلاع میں عوام کی خدمت کے لئے کیا اصلاحات متعارف کرائی ہیں، کون سا ریلیف دیا ہے،جس کی وجہ سے وہ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہمارے حکم میں سیاسی مداخلت نہ کی جائے، اگر وہی پٹوار کا ظالمانہ اور رشوت پر مبنی نظام ہے، وہی رجسٹری برانچ میں لاکھوں کی کرپشن جاری ہے،وہی دفتروں میں ڈومیسائل تک کے لئے لوگ دھکے کھا رہے ہیں،اُن کی ناک کے نیچے موجود ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس میں رشوت کی گرم بازاری ہے، حتیٰ کہ بیواؤں اور پنشنرز کو بھی بغیررشوت دیئے ریلیف نہیں ملتا، تو وہ یہ خطوط کیسے لکھ رہے ہیں،یعنی وہ چاہے سینکڑوں رشوت خور ملازمین کو تعینات رکھیں، اُن سے کوئی نہ پوچھے اور علاقے کا ایم این اے کسی ایک اہلکار کا تبادلہ چاہے تو اُسے مداخلت قرار دے دیا جائے۔


مجھے یوں لگتا ہے جیسے چالاک بیورو کریٹس اور پولیس افسروں نے وزیراعظم عمران خان کے نئے پاکستان کو ہائی چیک کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ ضلعوں میں ان کے سب سے بڑے حریف ارکانِ اسمبلی ہوتے ہیں، جو دس کام اپنے کراتے تو نوے کام عوام کے بھی کرا دیتے تھے۔اس کا یقیناًنقصان بھی ہوتا تھا کہ ڈی سی او ڈی پی او اُن کے کام کرنے کے بعد باقی سارے غیر قانونی کام بھی جاری رکھتے تھے،لیکن اب کیا ہو گا؟اگر حکومت اِن افسروں پر نگرانی کا کوئی متبادل نظام قائم نہیں کرتی اور یہ تصور کر لیتی ہے کہ ان کا اپنا نظام انہیں راہِ راست پر لے آئے گا تو جلد ہی حکومت کو عوام کی چیخیں سنائی دینے لگیں گی،بس اخبارات میں خبریں چھپیں گی کہ فلاں ضلع کے اندر عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں یا فلاں افسر نے رشوت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ شہباز شریف کے دور میں تو اُن کے نوٹس لینے کا ڈر بھی ہوتا تھا،مگر عثمان بزدار کو آغاز ہی میں پولیس اور بیورو کریسی نے بڑی چالاکی سے سپریم کورٹ کے ذریعے ایک ایسا جھٹکا دیا ہے کہ اب شاید وہ کسی ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کو فون بھی نہ کریں۔ جو بیورو کریسی اور پولیس پچھلے دس برسوں میں وزیراعلیٰ کے نوٹس لینے پر حرکت میں آنے کی عادی ہو چکی ہے، وہ اب وزیراعلیٰ کی مداخلت کے بغیر کیسے کام کرے گی؟ مجھے لگتا ہے وزیراعظم عمران خان آئیڈیلزم میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔ وہ یکدم کالے کو سفید کرنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے زمینی حالات کو دیکھے بغیر سادگی کلچر کا نعرہ لگا دیا۔ وزیراعظم ہاؤس چھوڑنے کا اعلان کر دیا ، بعد میں علم ہوا کہ سوائے وزیراعظم ہاؤس کے، وزیراعظم کے رہنے کی اور کوئی محفوظ جگہ ہے ہی نہیں،دو گاڑیوں کی بات کی اور ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کر دیا، جس پر اعتراضات ہوئے تو خواہ مخواہ کی کمزور تاویلیں گھڑنا پڑیں۔ پروٹوکول نہ لینے کا اعلان کیا تو علم ہوا کہ درجنوں گاڑیوں کے بغیر تو وزیراعظم کا نکلنا بنتا ہی نہیں،سیکیورٹی افسران، وزراء اور عملے کی گاڑیاں تو لازماً ساتھ چلتی ہیں۔۔۔ چلیں یہ تو اُن کا ذاتی معاملہ ہے،لیکن جب انہوں نے یہ کہا کہ نئے پاکستان میں ارکانِ اسمبلی کی افسروں کے کاموں میں مداخلت بند تو گویا انہوں نے بیورو کریسی نیز پولیس کو من مانی کرنے کی کلین چٹ دے دی اور ممبران سمبلی اپنے حلقے میں بے توقیر اور بے وقعت ہو گئے۔اس سے اگر وہ گڈ گورننس کی توقع لگائے بیٹھے ہیں تو خام خیالی ہے۔ جب عوام افسروں کے ہاتھوں تنگ ہوں گے اور ان کا رکن اسمبلی بھی بے بس ہو گا تو حالات کس طرف جائیں گے؟ دفتری اور پولیس کے نظام کو بدلے بغیر ایسے چوکے چھکے لگانا مناسب نہیں،کپتان کو اننگ احتیاط سے کھیلنی چاہئے۔

مزیدخبریں