نرسنگ سٹاف محکمہ صحت کا اہم جزو؛

نرسنگ سٹاف محکمہ صحت کا اہم جزو؛

مریضوں کی تیمار داری کا کام اتنا ہی قدیم ہے جتنا اس زمین پر انسان کا وجود۔ تہذیب کی ترقی اور سماجی زندگی کے منظم ہونے کے نتیجے میں علاج معالجہ اور مریضوں کی دیکھ بھال علم اور فن بن گئے اور آج کی دنیا میں ڈاکٹر، نرس اور اسپتال کے بغیر کسی مہذب معاشرے کا تصوّر نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ علاج معالجے کی سہولتیں کتنی ہی بہتر کیوں نہ ہوں، علاج کرنے والے اپنے شعبے کے کتنے ہی ماہر کیوں نہ ہوں، جب تک اس پورے نظام کو تربیت یافتہ نرس کی سہولت حاصل نہ ہو، علاج معالجے کا نظام کامیابی کے ساتھ نہیں چلایا جاسکتا۔ شعبہ نرسنگ سے وابستہ مسائل کے حوالے سے وزیرصحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں نرسوں کی کمی دور کرنے کیلئے 2200اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی گئی ہے۔ یہ بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے کی جائیں گی۔ نرسنگ سٹاف ایسوسی ایشن کے وفد سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ نرسنگ سٹاف محکمہ صحت کا ایک اہم جزو ہے۔ نرسوں کے مسائل حل کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی تاہم یہ نرسوں کا بھی فرض ہے کہ وہ مریضوں کی خدمت کا جذبہ بروئے کار لائیں اور پیشے کی عزت مزید بڑھائیں۔ وزیر صحت نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا ایک ہی ایجنڈہ ہے اور وہ ہے عام آدمی کی بہتری۔اس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ٹیم دن رات ایک کررہی ہے۔ شعبہ صحت پر عوام کا اعتماد بڑھانے میں نرسنگ سٹاف کا اہم کردار ہے۔ بطور ڈاکٹر نرسوں کے ساتھ طویل عرصے تک کام کیا اور پی ایم اے کے پلیٹ فارم سے ان کے حقوق کے لئے ہمیشہ آواز سنائی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ ہسپتال آنے والے دکھی مریضوں سے اچھا سلوک ہی آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔مریضوں سے حسن سلوک سرکاری ہسپتالوں کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے۔ ہسپتال بالخصوص ایمرجنسی میں آنے والوں سے ناروا سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا۔پریشان حالی میں ہسپتال آنے والے مریض ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کی بھرپور توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔

واضع رہے کہ پاکستان میں نرسیں آج بھی لاتعداد مسائل کاشکار ہیں۔پاکستان نرسنگ ایسوسی ایشن کی ایک رکن کا کہنا ہے کہ کہ نرسیں شعبہ صحت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم نرسیں جوش و جذبے سے عاری ہوں گی تو مریضوں کی صحت یابی مشکل ہوگی، ملک میں صحت کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک لاکھ سے زائد نرسیں اور دو لاکھ سے زائد مڈوائفز کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں نرسنگ کے چار سالہ نصاب کی تعلیم و تربیت نرسنگ سکولوں میں ہوتی ہے۔ملک بھر میں اٹھاسی سرکاری اور نجی نرسنگ اسکول موجود ہیں جہاں نوجوان طالبات کو چار سال تک متعلقہ مضامین کی تعلیم اور منسلک شفا خانے میں عملی تربیت دی جاتی ہے۔ ہر نرسنگ سکول کے ساتھ ہاسٹل موجود ہے اور طالبات کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کے پورے عرصے میں ہاسٹل میں رہیں خواہ ان کا گھر اسی شہر میں کیوں نہ ہو۔چو نکہ نرسنگ کے پیشے میں طالبات زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اس پیشے کو خواتین کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے اس لیے پاکستان میں بھی نرسنگ کی تعلیم کے نوے فی صد ادارے طالبات کے لیے ہیں۔ مرد نرسوں کے چند سکول کام کر رہے ہیں۔

پاکستان سمیت بیش تر ترقی پذیر ممالک میں نرسوں کی شدید قلّت ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قابل احترام پیشے کو عام لوگوں کی نگاہوں میں وہ اہمیت اور حیثیت حاصل نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔نرسنگ ایک محترم پیشہ ہے۔ بیمارانسانوں اور دکھ اور تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے سفید لباس میں ملبوس نرس ایک ایسے فرشتے کی مانند ہے جو اپنے خوش نظر وجود، گفتگو کی نرمی، نگاہوں کی حرارت، لبوں کی لطیف مسکراہٹ اور دستِ مسیحائی کی بہ دولت اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی وجہ سے مریض کی دل جوئی کرتی ہے، اس میں بیماری سے مقابلے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے اور یہ یقین و اعتماد زندہ کرتی ہے کہ مرض کتنا ہی خطرناک کیوں نہ ہو، وہ ایک دن شفایاب ہو کر اپنے گھر کو لوٹے گا اور زندگی اس کے لیے ایک بار پھر حسین، دلچسپ اور مہربان بن جائے گی۔

بعض دوسرے پیشوں کے مقابلے میں نرسنگ کے پیشے میں خواتین کے لیے بیرونِ ملک ملازمت کے مواقع نہایت روشن ہیں اور اس طرح خاندان کی معاشی ضروریات کی تکمیل میں خواتین نرسنگ کے پیشے کو اپنا کر، اپنے گھر کے مردوں کا ہاتھ بٹا سکتی ہیں۔سب سے زیادہ قابل توجہ اور خوش گوا ر بات یہ ہے کہ جو طالبات نرسنگ کی تعلیم وتربیت حاصل کرتی ہیں، انھیں تعلیم و تربیت کے دوران برائے نام اخراجات برداشت کرنے ہوتے ہیں۔ بیش تر نرسنگ سکولوں میں طالبات کو وظیفہ دیا جاتا ہے اور مفت تعلیم و رہائش فراہم کی جاتی ہے۔

نرسوں کو بالعموم ہسپتالوں میں کام کرنا ہوتا ہے۔ نرس کی بنیادی ذمہ داری مریض کی جسمانی اور ذہنی دیکھ بھال ہے۔ یہ مریض ذہنی اور جسمانی امراض میں مبتلا لوگ بھی ہوسکتے ہیں اور ذہنی و جسمانی معذوری کا شکار افراد بھی ہوسکتے ہیں۔ نرس کے کام کا جوہر ’’خیال رکھنا‘‘ ہے۔

نرسوں کی عالمی کونسل کے منشور میں اس پیشے کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے:

’’نرسیں بیماروں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔ طبعی، سماجی اور روحانی طور پر ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جو صحت یابی میں معاون ہو، امراض سے بچاؤ پر زور دیتی ہیں اور صحت کے فروغ کے لیے تعلیم اور مثالوں سے کام لیتی ہے۔ وہ فرد کو ،خاندان کو اور معاشرے کو صحت کے پیشے کے دوسرے ارکان کے ساتھ صحت کی خدمات فراہم کرتی ہیں، انسانیت کی خدمت نرسوں کا بنیادی کام ہے اور ان کے پیشے کے قیام کی بنیاد ہے۔ نرسوں کی خدمات کی ضرورت عالم گیر ہے۔ اس لیے پیشہ ورانہ نرسنگ کی خدمات بلالحاظِ قومیت، نسل، رنگ، سیاست یا سماجی مرتبے کے کی جاتی ہیں‘‘۔

ایک نرس ہر مریض کے لیے انفرادی طور پر اس کی دیکھ بھال کا خاکہ بناتی ہے۔ اس کی صحت کی مختلف کیفیات کا ریکارڈ مرتب کرکے، اس کی حالت میں مثبت یا منفی تبدیلیوں کا جائزہ لیتی ہے۔ مریض کی کیفیات کی روشنی میں دیکھ بھال کے طریقوں کو تبدیل کرتی ہے اور علاج کے سلسلے میں کسی بھی متبادل انتظام کے لیے پہلے سے تیاری کرکے رکھتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک نرس، مریض/مریضوں کے طبی علاج سے پوری طرح باخبر رہتی ہے۔ ہر مریض کے علاج کا مکمل ریکارڈ رکھتی ہے اور دواؤں، غذا، پرہیز و احتیاط کے بارے میں ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی نرس ہر مریض کی ذہنی و جسمانی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہے اور مریض کے رشتے داروں کو مریض کی حالت سے آگاہ کرتی ہے۔

پنجاب میں سرکاری شعبے میں27مسلح افواج کے سات اور مشن اور نجی شعبے کے 11 نرسنگ سکول کام کر رہے ہیں۔سندھ میں کل 28 نرسنگ سکول ہیں۔ جن میں 18 کراچی میں، پانچ حیدرآباد میں، دو لاڑکانہ میں، نواب شاہ، سکھر اور میر پور خاص میں ایک ایک نرسنگ سکول ہے۔صوبہ سرحد میں نرسنگ اسکولوں کی تعداد دس ہے۔ بلوچستان میں پانچ نرسنگ اسکول موجود ہیں۔

سند یافتہ نرسیں اس بات کی اہل ہوتی ہیں کہ وہ دایہ گیری (مڈوائفری) کا ایک سال کا نصاب مکمل کرکے مڈوائفری کا ڈپلوما بھی حاصل کرلیں ہر صوبے میں نرسنگ ایگزامنیشن بورڈ موجود ہے جو ہر سال کے نصاب کی تکمیل پر امتحان لیتا ہے اور کامیاب امیدواروں کو ڈپلوما جاری کرتا ہے۔عملی زندگی میں نرس کو ہسپتالوں میں ڈاکٹروں، طبی ماہرین اور نیم طبی عملے (پیرا میڈیکل اسٹاف) کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال کا کام کرنا ہوتا ہے۔ وارڈ میں مریضوں کا درجہء حرارت، فشار خون (بلڈ پریشر) اور تنفس کی رفتار ناپنا اور ان کا ریکارڈ رکھنا، مریض کے زخموں کی صفائی کرنا اور پٹی باندھنا ضرورت ہو تو ان کی مالش کرنا، خون دینے کے انتظام کی نگرانی کرنا، پیپ پڑے زخموں سے مواد نکالنا، ڈرپ لگانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا، بستر کی چادر تبدیل کرنا، مریض کا لباس بدلوانا، غرض ہر وہ کام نرس کی ذمہ داری ہوتا ہے جس سے مریض کو آرام پہنچے اور اس کی تکلیف میں کمی ہو۔

جن مریضوں کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے نرس انھیں آپریشن کے لیے تیار کرتی ہے۔ آپریشن تھیٹر میں کام کرنے والی نرس آپریشن کے انتظامات کی دیکھ بھال کرتی ہے تاکہ آپریشن کے وقت سرجن کو کوئی پریشانی یا رکاوٹ نہ ہو۔ انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) میں کام کرنے والی نرس کے لیے ان پیچیدہ آلات اور مشینوں سے واقف ہونا ضروری ہے جو مریض کی مختلف کیفیات کی نگرانی کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں زندگی کو مدد پہنچانے والے آلات، نگارشِ قلب کی مشین(ای سی جی) دماغ کی کیفیت جانچنے والے آلے، نظامِ خون اور درجہء حرارت برقرار رکھنے والی مشینیں، مصنوعی تنفس کے نظام کی مشین اور گردوں کے ناکارہ ہونے کی صورت میں خون کی صفائی کی مشین شامل ہیں۔

اسپتالوں میں مختلف نوعیت کے امراض کے لیے مختلف وارڈ ہوتے ہیں۔اور نرس کو ان مختلف وارڈوں میں سے کسی میں بھی کام کرنا ہوتا ہے۔ ان وارڈوں میں طبی (میڈیکل) جراحی (سرجیکل) آرتھو پیڈک، امراض گردہ، ہنگامی امداد، نفسیاتی امراض، ذہنی امراض، زچگی اور بچوں کے وارڈ شامل ہیں۔ ان مخصوص نوعیت کے وارڈوں میں عام نرسیں بھی کام کرتی ہیں لیکن ایسے ہر وارڈ میں کم سے کم ایک نرس ایسی ہوتی ہے جس نے اس شعبے کے مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے خصوصی تربیت حاصل کی ہوتی ہے۔ اس تربیت کی وجہ سے وہ زیادہ خود اعتمادی کے ساتھ ان مریضوں کی دیکھ بھال کرسکتی ہے۔ نرس کو نہ صرف مریضوں کو یہ مشورہ دینا ہوتا ہے کہ وہ اسپتال میں اور اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اپنے علاج کے سلسلے میں کیا کیا احتیاطیں رکھیں بلکہ انہیں مریضوں کے عزیزوں کی بھی رہنمائی کرنی ہوتی ہے اور گھر پر مریض کی دیکھ بھال کے بارے میں انھیں مشورے دینے ہوتے ہیں۔غرض اسپتال میں ایک نرس کا واسطہ ڈاکٹر، مریض، پیرا میڈیکل اسٹاف اور مریض کے رشتہ داروں سے رہتا ہے اور ان سب کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔

پاکستان میں تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی ہے۔ اس لیے سرکاری شفا خانوں میں نرسوں پر کام کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ پاکستان نرسنگ کونسل کے مقرر کردہ معیار کے مطابق ایک نرس کو 4 بستروں کی دیکھ بھال کرنا چاہیے لیکن عملاً ایک نرس دس سے پندرہ مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہے۔

سرکاری شفا خانوں میں علاج معالجے کے لیے بہت اچھی سہولتوں کی عام طور پر کمی ہے۔ شفا خانے کم ہونے کی وجہ سے ہر شفا خانے سے مریضوں کی بہت تعداد رجوع کرتی ہے، جن مریضوں کو شفا خانے کے اندر علاج کی ضرورت ہوتی ہے وہ بستر خالی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی دن انتظار کرتے ہیں۔

ان تمام حالات میں سرکاری شعبے میں کام کرنے والی نرس کو کام کے شدید دباؤ میں اپنے فرائض ادا کرنے ہوتے ہیں مریضوں کی دیکھ بھال ایک نازک اور حسّاس کام ہے۔ بیماری کی وجہ سے مریض چڑچڑا، اور بدمزاج ہوجاتا ہے اور ذرا سی بھی تکلیف ہوتی ہے تو شکایت کرتا ہے، دوسری طرف مریض کے رشتے دار اپنے عزیز کی حالت سے پریشان ہوتے ہیں۔ نرس کو ان سب لوگوں سے خوش دلی، خوش مزاجی اور وسیع القلبی کے ساتھ پیش آنا ہوتا ہے، یہ سب باتیں نرس کے فرائض کا حصہ ہوتی ہیں۔

نجی شعبے میں حالاتِ کار مختلف جگہوں پر مختلف ہوتے ہیں۔ بعض اچھے شفا خانوں میں نرس کے ذمے اتنا ہی کام ہے جتنا ہونا چاہیے۔ ان شفا خانوں میں علاج معالجے کی مقابلتاً بہتر۔۔۔اور بعض جگہ بہترین سہولتیں دستیاب ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسی جگہ کام کرنے والی نرس قدرے اطمینان اور سہولت کے ساتھ اپنے فرائض بہتر طور پر ادا کرسکتی ہے چو نکہ ملک میں تربیت یافتہ نرسوں کی شدید کمی ہے اس لیے نرسنگ اسکول میں چار سالہ تربیت کے اختتام اور پاکستان نرسنگ کونسل سے رجسٹریشن کے بعد ہر نرس کو فوراً ہی ملازمت مل جاتی ہے۔

پاکستان کے سو کے قریب نجی و سرکاری نرسنگ سکولوں سے ہر سال تقریباً بارہ سو نرسیں تعلیم و تربیت حاصل کرکے سند پاتی ہیں۔ سندھ میں ہر سال تقریباً تین سو نرسیں فارغ التحصیل ہوتی ہیں لیکن بیرونِ ملک تربیت یافتہ نرسوں کی طلب اور وہاں پرکشش معاوضوں کی وجہ سے بیش تر نرسیں تربیت پانے کے بعد مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے شفا خانوں میں ملازمت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس طرح نرسنگ کا پیشہ اس وقت ایک ایسا پیشہ ہے جس میں تربیت یافتہ افرادکی اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک شدید مانگ ہے اور معقول معاوضے دیے جا رہے ہیں۔

ملک میں آج تک نرسنگ کی کوئی ایک بھی یونیورسٹی قائم نہیں کی جاسکی حکومت کو چاہیے کہ اس شعبہ کی طرف توجہ دے ، نرسوں کیلئے یونیورسٹی قائم کرے اور ان کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ان کے جائز حقوق دیئے جائیں۔ اس شعبے میں آنے والوں کی عزت نفس کو مجروح نہ کیا جائے اور ان کے موجودہ معاوضوں میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 2