خسرہ و دیگر وبائی امراض ۔۔۔ آگاہی ضروری ہے!

خسرہ و دیگر وبائی امراض ۔۔۔ آگاہی ضروری ہے!

یہ بات درست ہے کہ انسانی جانوں کو ہر دور میں کسی نہ کسی بیماری کے باعث انتہائی تشویش ناک صورتحال کا سامنا رہا ہے اوراس سلسلہ میں متعدد انسانی جانیں لقمہ اجل بھی بنی ہیں مگر اس میں جتنی ذمہ دار سرکاری میشنری ہے اتنی ہی غفلت عوام کی جانب سے بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں بطورایک قوم یہ طے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے اداروں پر اعتماد کریں خصوصا قومی سطح پر چلائی جانے والی صحت افزاء مہموں کو ہر صورت میں کامیاب بنائیں اور اس شک میں نہ پڑیں کہ حکومت یا کوئی اور حکومتی ادارہ عوام کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے جو بھی ویکسیئن استعمال کررہا ہے وہ غیر معیاری یا طبی طور پر بے سود ہے۔ ملک کے پسماندہ علاقوں میں اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی زیادہ ضرور ت ہے کیونکہ پسماندہ علاقوں میں غربت کے ساتھ ساتھ ناخواندگی کی بھی بہت زیادہ ہے ان حالات میں ان علاقوں تک احتیاطی تدابیر کی تشہیر انتہائی اہمیت رکھتی ہے جس کے لیے گھر گھر جاکر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔اس وقت کوئی بھی مرض خطرناک بن سکتا ہے جب اس سے احتیاط کرنے کے مراحل کو نظرانداز کردیا جائے اور یہ تصورکیاجائے کہ یہ خودبخود ٹھیک ہوجائے گا بلکہ ایک بھی علامت ظاہر ہونے پر بیماری کا فوری علاج ہونا ضروری ہے تاکہ اسکو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔قابل غور بات یہ ہے کہ پولیو اور ڈینگی وائرس کے بعد خسرہ کی بیماری جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔عوام الناس کو خسرہ جیسی خطرناک اورجان لیوا بیماری کے بارے میں آگاہی ہونی چاہئے تاکہ اس سے بچاؤ کیلئے بر وقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔ سب سے پہلے ضروری ہے کہ عوام کو اس بات پر آمادہ کیاجائے کہ کوئی بھی وبائی مرض خواہ وہ ڈینگی وائرس کے باعث ہو یا خسرہ کے اس وقت تک جان لیوا ثابت نہیں ہوتا جب تک کہ اس کے علاج معالجہ میں کوتاہی نہ برتی جائے یا ایسی احتیاطی تدابیر کو نظرانداز کیاجائے۔ ہر سال 35سے40لاکھ بچے پیدا ہوتے ہیں جوچھ ماہ سے دس سال کی عمر میں کسی نہ کسی بیماری کا شکار ہوجاتے ہیں۔جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ عوام کو شعورنہیں کہ بچوں کی عمر کے مطابق نشوونما کیسے ہونی چاہیے اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری سطح پر سرکاری میڈیا میں زیادہ سے زیادہ وبائی امراض کے حوالے سے بڑے پیمانے پر تشہیری پروگرام چلائے جائیں اور عوام کو شعوردیا جائے کہ انہوں نے بیماریوں سے اپنے اوراپنے بچوں کو کس طرح سے محفوظ رکھنا ہے۔خسرہ سے بچاؤ کے لیے ایک تحقیق سامنے آئی ہے کہ جن بچوں کو وٹامن اے کا استعمال زیادہ کرایا جائے ان کے لیے خسرہ جان لیوا ثابت نہیں ہوتا اسلئے خسرہ کی ویکسینیشن کے ساتھ وٹامن اے بھی دی جائے تاکہ بچوں میں قوت مدافعت بڑھے اور وہ خسرہ جیسی بیماری سے بچ سکیں۔ ماہرینِ صحت کے مطابق انسان کی زندگی میں صحت اوربیماری ساتھ ساتھ چلتے ہیں فرق صرف اتنا ہوتا کہ صحت مند افراد جب بیمار پڑتے ہیں تو اس کو نارمل لیتے ہیں جس سے ان کی بیماری میں پیچیدگیاں آنے لگتی ہیں۔ خسرہ کی بیماری اتنی پیچیدہ اورخطرناک نہیں کہ اس کو جان لیوا بیماری کہا جائے بلکہ یہ ایک عام سا مرض ہے جو عموماً چھ ماہ سے پندرہ سا ل کی عمر کے بچوں کو کسی بھی وقت ہوسکتا ہے اس سے گھبرانے کے بجائے اس کاعلاج کرانا چاہیے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کسی بھی بیماری کے ہونے سے پیداہونے والی گھبراہٹ کا حل صحیح معالج کاانتخاب اورعلاج ہے اورسب سے بہتر یہ ہے کہ ہرفرد طرز زندگی کو تبدیل کرے یعنی ایسے ماحول کو پروان چڑھائے جس سے صحت مند معاشرہ کی تکمیل بھی ہو اور اپنے اردگرد کا ماحو ل بھی صاف ستھرا بن جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اپنا اپنا کام ایمانداری سے کرے گھروں میں خصوصاً صاف صفائی کاخیال رکھا جائے۔زیادہ تر بیماریوں کا موجب گندگی بنتی ہے اوراگر ہم صرف صفائی کا ہی خیال رکھ لیں تو نوے فیصد بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ خسرہ سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو یہ بھی معلوم ہو کہ خسرہ کی نشانیاں کیا ہیں تاکہ بچوں کو ٹوٹکوں کی بجائے اصل علاج کرایا جاسکے اوران کو خسرہ جیسی بیماری سے محفوظ بنایا جاسکے۔ خسرہ اوراس جیسی دیگر بیماریوں کا وائرس ایک گھنٹہ سے زائد ہوا میں رہتا ہے اس لیے جس کسی کو بھی خسرہ یا دیگر وبائی مرض ہو اس کو تنہا رکھا جائے اورخصوصا اس کے منہ کو ہلکے سے کپڑے سے ڈھانپ کررکھاجائے تاکہ اگر اس کو چھینک یاکھانسی آئے تو اس کے جراثیم ہوا میں نہ ٹھہر سکیں اور ارد گرد کے افراد اس سے محفوظ رہیں۔ خسرہ قابل علاج مرض ہے تاہم ضروری یہ ہے کہ اس کا بروقت علاج کرایا جائے۔

گھروں میں ماؤں کو اس حوالے سے آگاہی دینے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ بچوں کو جس عمر میں خسرہ یا دیگر وبائی امراض کاحملہ ہوتا ہے وہ چھ ماہ سے شروع ہوتا ہے اورا س دوران ماں کاکردار زیادہ متحرک اور اہم ہوتا ہے، جس ماں کو احتیاطی تدابیر کاعلم ہوگا وہ اپنے بچوں کو زیادہ صحت مند بناسکیں گی اوریوں خسرہ سے بھی بچوں کو محفوظ بنایاجاسکے اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سلسلہ بھی رک جائیگا۔ خسرہ کی بیماری عموماً خوراک کی کمی اور کمزوری سے ہوتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ چھ ماہ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں اوربچیوں کو نہ صرف وقت پر حفاظتی ٹیکوں کا کورس مکمل کرایا جائے بلکہ ان کی خوراک کا بھی خیال رکھا جائے۔

خوراک مقدار میں زیادہ نہیں ہونی چاہیے بلکہ معیار میں بہتر ہونی چاہیے تھوڑی اور بہتر خوراک قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد کرتی ہے اس لیے یہ سوچ غلط ہے کہ صرف اچھی خوراک مقدار کانام ہے بلکہ اچھی خوراک معیارکانام ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اگر صفائی کے نظام کو بھی بہتر بنا دیا جائے تو سونے پر سہاگہ ہے اس لیے ضروری ہے کہ خسرہ سے محفوظ رہنے کے لیے احتیاطی تدابیر کواختیارکیاجائے صفائی کا خیال رکھا جائے اور معیاری خوراک استعمال کی جائے۔

عام طورپر والدین میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ صحت کے مراکز پردی جانے والی ویکسیئن قابل اعتمادنہیں ہوتی والدین کایہ تاثر بالکل غلط ہے بلکہ سب سے زیادہ محفوظ جگہ سرکاری ادارے ہیں جہاں کسی بھی مرض کی ویکسیئن کو انتہائی احتیاط اور تمام تر سہولیات ساتھ سنبھال کررکھا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب بعض نجی ہسپتالوں میں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ ان کے پاس کسی بھی مرض کی ویکسیئن کو سنبھال کررکھنے کی سہولیات نہیں ہوتیں یا پھر انتہائی محدود ہوتی ہیں جس کے باعث ویکسیئن کے خراب ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔

حکومت اور اس کے ماتحت سرکاری ہسپتال کسی صورت بھی عوام کے لیے خطرہ مول نہیں لیتے تاہم یہ الگ بات ہے کہ بعض سرکاری ہسپتالوں سے بھی عوامی شکایات وصول ہوئی ہیں مگرمجموعی طورپر سرکاری ہسپتالوں میں چیک اینڈ بیلنس زیادہ ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے بچوں اوربچیوں کے ساتھ جب وہ بیمار ہوں تو تجربات نہ کریں یعنی نہ خود ڈاکٹربننے کی کوشش کریں اورنہ ہی کسی نیم حکیم کے مشوروں کو آزمائیں بلکہ فوری طورپر قریبی ہستپال سے رجوع کریں یا پھر اپنے فیملی فزیشن کی خدمات حاصل کریں۔

زیادہ تر بیماروں کاپھیلنا یا بیماری کے بگڑ جانے کی ایک وجہ یہ بھی سامنے آئی ہے کہ سیلف میڈیکیشن کی جاتی ہے یعنی کسی معالج یا کوالیفائیڈ ڈاکٹرسے مشورہ نہیں کیاجاتا اور خود ہی سب کچھ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے بیماری میں بگاڑ پیداہوتا ہے اورمریض کوتشویشناک حالت تک پہنچادیا جاتا ہے۔اگرمریض کوبروقت علاج کے لیے قریبی ہسپتال یا مرکز صحت تک پہنچادیاجائے تو نہ صرف علاج معالجہ سو فیصد درست ہوگا بلکہ شرح اموات میں بھی کمی واقع ہوگی اس لیے ضروری ہے کہ اپنے معالج سے ہر صورت میں مشورہ کیا جائے۔ خسرہ کی بیماری جان لیوانہیں ہے مگر اس میں بے احتیاطی سے نمونیا اور ڈائریا ہوجاتا ہے جو موت کا باعث بن رہا ہے اس لیے ضرور ی ہے کہ خسرہ سے محفوظ رہنے کے لیے ماؤں کو علامتوں کا علم ہو۔ خسرہ کو بڑھنے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ جیسے ہی منہ میں دانوں کا خدشہ محسوس کیاجائے قریبی مرکز صحت یا ہسپتال سے رجوع کیا جائے۔

مزید : ایڈیشن 2