بیرون ملک سے رقوم کی واپسی ، برطانیہ ، فرانس و ابوظہبی سے خاموش مذاکرات ہوچکے

06 ستمبر 2018

ایثار رانا

تجزیہ :ایثار رانا

 ویسے تو وفاقی کابینہ نے آج بڑے بڑے فیصلے کئے ہیں، لیکن سب سے بڑا فیصلہ پاکستانیوں کی بیرون ملک رقوم کو واپس لانا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ٹاسک فورس بنا دی گئی ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ اس کے حکمران اور اشرفا رہے ہیں، جو ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹتے رہے۔ میڈیا میں ان طاقتور طبقوں کی لوٹ مار اور عیاشیوں کی داستانیں چھپتی رہی ہیں، لیکن یہ داستانیں اصل حقیقتوں کا اشرِ اشیر بھی نہیں۔ جس ملک کی 80 فیصد آبادی گٹر والا پانی پینے سے ہیپاٹائٹس کا شکار ہو رہی ہو، اس دھرتی کی ایلیٹ کلاس فرانس سے منگایا پانی پیتی ہے۔ المیے کی انتہا یہ ہے کہ یہی لٹیرے ملک کے غریبوں کے بے تاج بادشاہ کہلاتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی وفاقی کابینہ کی ، میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ حکومت اگر بیرون ملک لوٹی گئی دولت کا 40 فیصد بھی پاکستان لانے میں کامیاب ہوگئی تو ملکی اکانومی کی حالات بہتر ہوسکتی ہے۔ صرف غیر ملکی بنکوں میں محفوظ نواز، زرداری اور دیگر ایلیٹ کلاس کی دولت واپس آجائے تو ہمیں آئی ایم ایف کی ضرورت نہ رہے۔ میری اطلاعات یہ ہیں کہ عمران حکومت اس سلسلے میں مکمل ہوم ورک کرچکی ہے، برطانیہ، فرانس اور ابوظہبی حکومتوں کے ساتھ خاموش ڈائیلاگ ہوچکے ہیں۔ اگر حکومت ثابت قدم رہی اور وہ طاقتوروں اور وڈیروں کا دباؤ برداشت کرگئی تو کامیابی مل سکتی ہے کیونکہ یہی لٹیرے ہر ادارے اور ہر کھلتی شاخ کے اوپر بیٹھے ہیں، اور عمران خان کا خواب بظاہر اتنا آسان نہیں۔ دیکھنا یہ بھی ہوگا کہ ٹاسک فورس میں شامل افراد خود کتنے شفاف ہیں، اگر ان میں سے ایک فرد بھی نیب زدہ یا بنکوں کو مطلوب ہوا تو بہت مایوسی کی بات ہوگی۔ پاکستانی عدلیہ پہلی بار ہمت اور بہادری سے میدان عمل میں ہے۔ قوم امید رکھتی ہے کہ آنیو جانیو کے بجائے عملی اقدامات کرکے دولت واپس لائی جائے۔ چاہے ان وڈیروں کے حلقوم میں ہاتھ ڈالنا پڑے۔ قوم کو عمران خان کے اب تک کے انقلابی اقدامات سے بہت حوصلہ ملا ہے۔ بس خوف یہ ہے کہ ماضی میں بھی حکمران 20 کروڑ عوام کو ایسے خواب دکھا کر اپنا الو سیدھا کرتے رہے ہیں، لیکن اس بار عمران خان کی شکل میں ایک ایسا بندہ ملا ہے جو تمام تر تنقید کے باوجود سچا اور کھرا نظر آتا ہے۔ یہ تاثر اب حقیقت میں بدلنا چاہئے، لوٹی دولت واپس آنی چاہئے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزیدخبریں