’’جب میں نے اس کی چھاتی سے کپڑا اٹھایا تو بائیں ۔ ۔ ۔‘‘ دشمن کا وار ناکام بنانے کیلئے اپنی جان قربان کرنے والے کیپٹن اسفندر کے والد نے کیا دیکھا اوراپنی ہی تنخواہ سے کہاں قبر کی جگہ خرید رکھی تھی؟ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبرآگئی

’’جب میں نے اس کی چھاتی سے کپڑا اٹھایا تو بائیں ۔ ۔ ۔‘‘ دشمن کا وار ناکام ...
’’جب میں نے اس کی چھاتی سے کپڑا اٹھایا تو بائیں ۔ ۔ ۔‘‘ دشمن کا وار ناکام بنانے کیلئے اپنی جان قربان کرنے والے کیپٹن اسفندر کے والد نے کیا دیکھا اوراپنی ہی تنخواہ سے کہاں قبر کی جگہ خرید رکھی تھی؟ پاکستانیوں کیلئے بڑی خبرآگئی

  

اٹک (ڈیلی پاکستان آن لائن) 18 ستمبر 2015 کو دہشت گردوں نے جب پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر پر حملہ کیا تو پاک فوج کے گیارہ ایف ایف کے ایک جاں باز سپوت کیپٹن اسفند یار نے اپنی جان پر کھیل کر انسانیت کے دشمنوں کے عزائم خاک میں ملا دیے۔کیپٹن اسفند یار شہید کے والد ڈاکٹر فیاض بخاری کا کہنا ہے کہ جب میں نے اس کی چھاتی سے کپڑا اٹھایا تو بائیں طرف خون ہی خون تھا، میں نے کہا اسفند یار بہت اچھے آئے ہو، ویل ڈن، پھر میں اسفند کو چوما۔شہید کیپٹن اسفند یار نے اپنی تنخواہ سے اٹک کے علاقے شین باغ میں پلاٹ خریدا جہاں انکی وصیت کے مطابق انکی قبر تیار کی گئی۔ستمبر2015 ء میں شہید کی شہادت کے تین ماہ بعد ان کی شادی شیڈول تھی۔ 

اٹک کے رہائشی ڈاکٹر فیاض بخاری وہ عظیم انسان ہیں جنہیں رب کائنات نے آزمائش میں ڈالا تو وہ اس پہ پورا اترے، یہ آزمائش ان کے جواں سال اور خوبرو بیٹے کیپٹن اسفند یار کی شہادت کی صورت قربانی تھی۔ ایک ایسے بیٹے کی جدائی جس نے پچپن سے لیکر موت تک ہمیشہ چوٹی کی کامیابیاں سمیٹیں۔پی ایم اے سے اعزازی شمشیر اور ملٹری ٹیکٹکس میں گولڈ میڈل لینے والے اسفند یار زمانہ طالب علمی سے پاک فوج میں کمیشن تک ایک نہیں، دو نہیں سیکڑوں اول انعامات اپنے نام کرچکے ہیں۔

جی تھری یعنی اسٹاف افسر ہونے کے باوجود اسفند یار نے بڈھ بیرکیمپ کی کمان سنبھالی اور دہشت گردوں پر بجلی بن کر گرے، اسفند سے بے کراں محبتوں کی امیں مادر مہرباں جہاں بیٹے کی جدائی پہ دلگیر ہے وہاں شہید کی ماں ہونے پہ نازاں بھی ہے۔عرض پاک کے بہادر سپوت، فخر اٹک اور گیارہ ایف ایف کے اس بے مثال ہیرو کے نام اٹک کے کئی روڑ اور یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں۔ ڈاکٹر فیاض بخاری کہتے ہیں کہ شہادت سے ایک رات قبل باپ بیٹے کے درمیان فون پر ہونے والی گفتگو کا موضوع میجر شبیر شریف شہید تھے اور شاید شہادت کے وقت اسفند کے ذہن میں بھی میجر شبیر شریف کا وقت شہادت تھا۔ اسی وجہ سے وہ جانفشانی سے لڑے اور سرخرو ہو گئے۔ 

مزید : قومی /دفاع وطن