بجلی کا بحران نئی حکومت کیلئے سر درد ، عوام کی بھی چیخیں نکل گئیں

Sep 06, 2018 | 13:49:PM

اسلام آباد (آن لائن ) ملک میں حالیہ بجلی کا شارٹ فال نئی حکومت کیلئے سر درد بن گیا، طویل لوڈشیڈنگ کے باعث عوام کی چیخیں نکل گئیں۔ سوشل میڈیا پر بھی بجلی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر عوام نے نئے پاکستان کا نعرہ لگانے والی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت کو کارکردگی بہتر بنانے کی تجویز بھی پیش کردی، ملک میں اس وقت شہری علاقوں میں بھی لوڈشیدنگ کا دورانیہ 8 سے 10 گھنٹے جبکہ دیہی علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے تک ہے۔ وزارت توانئی پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں اس وقت بجلی کا بحران ہے جس کی بڑی وجہ بجلی کا گردشی قرضہ ہے جو تقریباً 1190 ارب سے بھی زائد ہے۔ دوسری جانب آر ایل این جی پر چلنے والے تینوں پاور پلانٹس بھی عدم ادائیگی کی وجہ سے بند کر دیئے گئے ہیں۔ حکومت نے آئی بھی پیز کے 430 ارب روپے ادا کرنے ہیں جس کی وجہ سے آئی بھی پیز نے حکومت کو نوٹس بھی بھیجے ہیں کہ اگر ان کی ادائیگیاں نہ کی گئیں تو وہ مزید پلانٹس بند کر دیں گے کیونکہ آئی بھی پیز شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ عدم ادائیگی پر 4 آئی بھی پیز نے پہلے ہی اپنے پلانٹس بند کر دیئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی حالیہ لوڈشیڈنگ سے کاروبار زندگی بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کیلئے بجلی بحران پر قابو پانا اتنا آسان نہیں ہے کیونکہ اتنی بڑی ادائیگی حکومت کیلئے بروقت ممکن نہیں ہے جبکہ ملک میں تاحال گرمی کی شدت میں بھی کمی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ملک میں اس وقت بجلی کی ڈیمانڈ 26000میگاواٹ سے زادء برقرار ہے اور پیداوار 13000 میگاواٹ سے زائد ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے بجلی بحران پر قابو پانے لائن لاسز کو کم کرنے پر زور دیا ہے اور اس کیلئے عنقریب سخت احکامات بھی جاری کیے جائیں گے۔

مزیدخبریں