اللہ والوں کے قصّے...قسط نمبر 2

06 ستمبر 2018 (14:13)

ایک دفعہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ نے حضرت خواجہ حسن بصری ؒ کو ایک خط لکھا جس میں درخواست کی کہ آپ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں جس سے مجھے ہر کام میں مدد ملے۔
آپ نے جواب میں لکھا۔ ’’ اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو پھر تمہیں بے خوف رہنا چاہیے اگر خدا مدد گار نہیں تو کسی سے کوئی اُمید نہ رکھو۔‘‘
***

ایک مرتبہ حضرت سفیان ثوریؒ ، رابعہ بصریؒ کی زیارت کے لیے آئے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک امیر کبیر آدمی نہایت افسردہ کھڑا ہے۔ آپ نے پوچھا تو وہ کہنے لگا۔
’’میں دنیاروں کی ایک تھیلی نذر کے لیے لایا ہوں مگر جناب رابعہؒ نے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ہوسکے تو آپ ہی میری سفارش کردیں۔‘‘
اس پر حضرت سفیان ثوریؒ اندر گئے اور اس آدمی کا پیغام پہنچایا۔ حضرت رابعہؒ نے روتے ہوئے کہا۔
’’ پروردگار جانتا ہے کہ میں اس سے دنیا مانگنے میں عار محسوس کرتی ہوں حالاں کہ وہ تمام دنیا کا مالک ہے۔ بھلا ایسے شخص سے کیوں کر کچھ لوں جو اس کا مالک نہیں ہے۔‘‘

***

اللہ والوں کے قصّے...قسط نمبر 1پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایک متقی خراسانی کل حلال کی تلاش میں ملک شام گئے۔ وہاں کے لوگوں نے انہیں بتایا کہ حسن بصریؒ کے سوا کل حلال کسی کو میّسر نہیں۔
اس پر وہ متقی آپؒ کے پاس گیا۔ آپ اس کی بات سن کر بولے۔
’’ مجھے فقیر جان کر لوگ کچھ بھیج دیتے ہیں اور زندہ رہنے کے لیے کچھ کھا بھی لیتا ہوں‘‘ اتنا کہنے کے بعد آپؒ نے اس خراسانی کو گاؤں میں رہنے والے ایک شخص کا پتہ دیا۔ اور کہا اس کے پاس چلے جاؤ ۔ شاید اکل حلال مل جائے۔ وہ متقی خراسانی گاؤں میں جا کر اس شخص سے ملا اور اپنا مدعابیان کیا۔ جس پر وہ بولا۔ ’’ اگر پہلے آجاتے تو اکلِ حلال مل جاتا مگر اب نہیں۔ اس واسطے کہ ایک روز میرے بیل آپس میں لڑتے ہوئے دوسرے کے کھیت میں جا پڑے اور اس کے کھیت کی مٹی ان کے پاؤں میں لگ کر اس کھیت میں مل گئی اس لیے اس کھیت کا اناج اکلِ حلال نہیں رہا‘‘
***
شیخ سری سقطیؒ کے پاس ایک روز ابو القاسم حضرت جنیدؒ تشریف لائے تو انہیں روتے ہوئے پایا اور پوچھا’’ حضرت ! آپ کیوں رو رہے ہیں۔‘‘
فرمایا’کل شب کومیری لڑکی آئی تھی۔ اس نے کہا ابّا جان ! آپ کی رات سخت گرمی ہے ۔ میں پانی کی تھیلی ٹھندی ہونے کے لیے کسی جگہ لٹکاتی ہوں۔‘‘
میں نے کہا ۔’’ اچھا جہاں موقعہ دیکھو وہاں لٹکا دو۔‘‘
وہ تو لٹکا کر چلی گئی مگر میں نیند کے غلبے سے سوگیا۔ خواب میں کیادیکھتا ہوں کہ ایک عورت نہایت حسین و جمیل جس کی نظیر دنیا میں نہیں ملتی۔ آسمان سے زمین پر اُتری۔ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’ تو کس کے لیے ہے؟‘‘
اس نے کہا ’’ کسی کے لیے بھی سہی۔ مگر اس کے لیے نہیں ہوں جو ٹھنڈا پانی پئے گا۔‘‘ میں یہ خواب دیکھ کر بیدار ہوگیا اور اس تھیلی کو پھاڑ دیا۔
***
حضرت اویس قرنیؓ کے بارے میں رسول مقبول ﷺ فرماتے ہیں۔
’’قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتے حضرت اویس قرنیؓ کی شکل کے پیدا کر کے ان کے درمیان حضرت اویس قرنیؓ کو بہشت میں داخل کرے گا۔ تاکہ مخلوق ان کو نہ دیکھ سکے۔ سوائے اس شخص کے جس شخص کو اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ ان کی زیارت کر لے۔ کیونکہ اویسؓ نے دنیا میں محض اس لیے چھپ کر خدا کی عبادت کی کہ دنیا کا کوئی آدمی ان کو نیک نہ سمجھے۔ اس لیے قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ اس کو مخلوق کی نظروں سے پوشیدہ رکھے گا کیونکہ میرے دوست میری قبا کے نیچے ہیں۔ میرے سوا اُن کو کوئی نہیں پہچان سکتا۔ ‘‘

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں