’’جنّات کی وہ مسجد جہاں جنگ ستمبر کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے نماز ادا کی اوردیکھا کہ ۔۔۔ ‘‘ اس مسجد میں علامہ طاہر القادری نے بعد ازاں چلّہ کشی بھی کی،ایسی حیران کن باتیں کہ جان کر آپ دم بخود رہ جائیں گے

’’جنّات کی وہ مسجد جہاں جنگ ستمبر کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے نماز ادا کی ...
’’جنّات کی وہ مسجد جہاں جنگ ستمبر کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے نماز ادا کی اوردیکھا کہ ۔۔۔ ‘‘ اس مسجد میں علامہ طاہر القادری نے بعد ازاں چلّہ کشی بھی کی،ایسی حیران کن باتیں کہ جان کر آپ دم بخود رہ جائیں گے

  

لاہور(ایس چودھری )بھارت نے چھ ستمبر 1965کی رات پاکستان پر حملہ کرکے بڑی جنگ کا آغاز کیا تو بھارتی فوج کو یقین تھا کہ آزادی کے 18سالوں بعد بھی پاکستان کی فوج اپنے پیروں پر نہیں کھڑی ہوگی اور ابھی یہ جدید جنگی وسائل حاصل کرنے کی متحمل نہیں اور نہ ہی عددی اعتبار سے یہ بھارت کا مقابلہ کرسکے گی لیکن بھارتی فوج کا یہ خواب جہاں پاک فوج کی بھرپور مزاحمت اور جارحیت سے چکنا چور ہوا وہاں پاک فوج اور پوری قوم کو اپنے ملک کی اللہ اور نبیﷺ کے حضور اسکی قدرو منزلت کا اندازہ ہوگیا ۔جنگ ستمبر میں روحانی قوتوں نے پاک کی بھرپور مدد فرمائی تھی ،تائید غیبی سے لڑی جانے والی اس جنگ میں اولیائے عظام بھی مجاہدین اسلام کی پشت پر کھڑے تھے ۔2015میں میں نے ایک تحقیقی سلسلہ میں قلعہ روہتاس کا دورہ کیا تو مجھے قلعہ روہتاس سے ایک کلومیٹر پہلے دائیں جانب نشیب میں پہاڑی کھوہ اور جنگلات میں لے جایا گیا جہاں اللہ کے ایک بزرگ حضرت سید شاہ محمد شہیدؒ آسودہ خاک ہیں ۔ان کے مزار کے پہلو میں ایک چھوٹی سی مسجد ہے جسے جنات کی مسجد کہا جاتا ہے جبکہ مسجد اور درمیانی راستہ میں ایک حوض ہے جو پہاڑی پانیوں سے بھری رہتی ہے ۔دربار کے متولی نے انکشاف کیا کہ بہت سے مذہبی لوگ یہاں آکر چلہ کاٹتے ہیں جن میں علامہ طاہر القادری بھی شامل ہیں ۔ مغلیہ دور کے ولی اللہ حضرت سید شاہ محمد شہیدؒ مجدد اعظم حضرت سید نوشہ گنج بخشؒ کے نامور خلیفہ تھے ۔انہوں نے قلعہ روہتاس میں اپنا حجرہ بنایا تھا ۔مزار کے خاندانی متولی بابا بشیر نے انکشاف کیا کہ علامہ طاہر القادری یہاں دعا کے لئے آتے تھے مگر بعد میں انہوں نے یہاں رازداری کے ساتھ مخصوص چلّہ کاٹا اور جنات کی مسجد جو مزار کے پہلو میں واقع ہے ،وہاں جنات کے ساتھ نماز اداکرتے اور ان سے علم تسخیرات سیکھتے رہے۔ بابا بشیر نے بتایا کہ یہ مسجد جنات نے حضرت سرکار نوشہ ؒ کے لئے تعمیر کی تھی جہاں آپ روحانی تصرف فرماتے ہوئے اپنے خلیفہ سید شاہ محمد شہیدؒ کی بھی تربیت فرماتے تھے ۔1965 کی جنگ کے دوران بھارتی فوجوں نے اس علاقے پر بھی بمباری کی تو پاک فوج کے جوانوں نے انہیں منہ توڑ جواب دیا ۔فوجی اس مسجد میں نماز ادا کرتے اور اس سے اوپر والی کھوہ میں مورچہ بنا کر جہاز شکن توپ بھی نصب کررکھی تھی ۔ایک دن فوجیوں نے بتایا کہ مسجد میں انہیں جنات ملے ہیں اور انہوں نے نماز کے بعد بتایا ہے کہ ہندو دشمن کا منہ کالا ہوگا اور پاکستان جنگ جیتے گا،اس لئے تم لوگ اپنی نماز نہ چھوڑ اکرو ،پاکستانی فوج کا سب سے بڑا ہتھیار اسکا ایمان ہے ،جب تک یہ اس کے پاس ہے ،دنیا کوئی طاقت اسکا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی ۔متولی کا کہنا تھا کہ جنگ کے دوران دشمن کے حملے کا خطرہ ہونے کے باوجود فوجی باقاعدگی سے نماز پڑھتے تھے ۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی بہت سے فوجی جوان یہاں آتے اور دعا کرتے تھے ۔

مزید : مافوق الفطرت /دفاع وطن