A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

’’اب صوبے میں احتساب کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ۔۔۔‘‘ خیبرپختونخوا کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں احتساب کمیشن کے خاتمے کا فیصلہ سنا دیا، وجہ ایسی کہ آپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

’’اب صوبے میں احتساب کمیشن کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ۔۔۔‘‘ خیبرپختونخوا کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں احتساب کمیشن کے خاتمے کا فیصلہ سنا دیا، وجہ ایسی کہ آپ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

Sep 06, 2018 | 15:16:PM

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) اداروں کی مضبوطی اور کڑے احتساب کے دعوؤں کے ساتھ حکومت میں آنے والی تحریک انصاف نے صوبہ خیبرپختونخوا میں ایسا فیصلہ کر لیا ہے کہ سن کر پاکستانیوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی۔ دی نیوز کے مطابق گزشتہ روز خیبرپختونخوا حکومت کا پہلا اجلاس ہوا اور پہلے اجلاس میں ہی انہوں نے گزشتہ دور میں اپنے ہی بنائے ہوئے احتساب کمیشن کو ختم کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔ اس فیصلے کے متعلق میڈیا کو بتاتے ہوئے کے پی حکومت کے ترجمان شوکت یوسف زئی اور وزیرخزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا تھا کہ ’’صوبے میں نیب اور کے پی احتساب کمیشن دونوں بیک وقت کام کر رہے ہیں، چنانچہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ احتساب کمیشن کو ختم کر دیا جائے کیونکہ نیب کے ہوتے ہوئے اس کو باقی رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب اپنے گزشتہ دور میں تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت نے یہ احتساب کمیشن قائم کیا تھا، نیب اس وقت بھی موجود تھا۔

رپورٹ کے مطابق جب شوکت یوسف زئی اور تیمور سلیم جھگڑا سے سوال کیا گیا کہ ’’گزشتہ دور میں تحریک انصاف ہی کی صوبائی حکومت نے یہ احتساب کمیشن قائم کیا تھا۔ تب آپ کو کیوں خیال نہ آیا کہ آپ نیب کے ہوتے ہوئے ایک اور احتسابی ادارہ بنانے جا رہے ہیں؟اس سوال کے جواب میں دونوں رہنماؤں نے منطق پیش کی کہ ’’گزشتہ دور میں وفاق میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی اور وہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی تھی، لہٰذا ہمیں اپنا احتساب کمیشن قائم کرنا پڑا۔‘‘صحافیوں نے جب احتساب کمیشن قائم کرنے اور اسے چلانے پر اٹھنے والے اخراجات کے متعلق سوالات کیے تو شوکت یوسف زئی اور تیمور سلیم جھگڑا نے کوئی جواب نہ دیا کہ احتساب کمیشن قائم کرنے پر کتنی رقم خرچ ہوئی اور اس نے کتنے کرپٹ لوگوں کو پکڑا اور سزائیں دیں۔

مزیدخبریں