A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 32

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 32

Sep 06, 2018 | 15:48:PM

اے حمید

مجھے معلوم تھا کہ میرے حساب کے مطابق سمیری سپاہیوں کو ایک دن بعد سر شام پانی اور روٹی کے سوکھے ٹکڑے رکھنے آنا تھا اور میرا اندازہ بالکل درست نکلا۔ صرف دو ایک ساعتوں کا فرق رہا۔ میں سیدھا چت لیٹنے کی بجائے کسی ایسی لاش کی طرح ٹیٹرھا ہو کر پڑا تھا جس کی جان بڑی اذیت کے عالم میں نکلی ہو۔ سمیری سپاہی سیدھے پانی والے خالی مٹکے کی طرف آئے۔ میرے لاش ان کے راستے میں ہی پڑی تھی۔ انہوں نے مجھے پاؤں کی ٹھوکر ماری اور میری گردن پر پاؤں رکھ کر میرا چہرہ اوپر کیا۔ میں نے سانس روک رکھا تھا۔ وہ آپس میں باتیں کرنے لگے۔ ’’ کم بخت اس غلیظ کیڑے کو ہمارے راستے میں ہی دم توڑنا تھا۔ ‘‘

’’ اسے یہیں پڑا رہنے دو۔ تین روز پہلے ایک لاش لے جا کر جلائی ہے۔ کچھ اور غلیظ کیڑے دم توڑیں گے تو اکٹھی لاشیں لے جائیں گے۔ ‘‘

’’ نہیں بھائی ! لاش کی عفوفت بہت جلد پھیل جاتی ہے۔ باہر والوں کو بد بو آگئی تو وہ ہمیں بھی اس جہنم میں پھینک دیں گے۔ تم جا کر رسی لاؤ ۔۔۔ اس کو ابھی لے جا کر آگ میں پھینک دیتے ہیں۔‘‘

میں ان کی گفتگو سن رہا تھا اور چپ تھا اور دل میں خوش ہو رہا تھا کہ انہوں نے میرے لاش کو وہاں سے ہٹانے میں دیر نہیں کی تھی۔ ایک سپاہی مٹکے میں پانی ڈالنے لگا اور دوسرا رسی لینے چلا گیا۔ بہت جلد وہ رسی کا گچھا لے کر آگیا۔

اہرام مصر سے فرار۔۔۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 31پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

پہلا کہنے لگا۔ ’’ بدبخت ابھی ابھی مرا لگتا ہے۔ اس کے جسم سے ابھی بدبو اٹھنا شروع نہیں ہوئی۔ ‘‘

انہوں نے دونوں ٹخنوں کی بیڑیوں میں رسی باندھی اور مجھے گھسیٹتے ہوئے چاہ بابل کے تہہ خانے کے آہنی دروازے کی طرف بڑھے۔ میری ’’لاش‘‘ آہنی دروازے کے قریب پہنچی تو مجھے دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی۔ میں نے ذراسی آنکھ کھول کر دیکھا۔ دروازے میں سے روشنی نکل کر میرے جسم پر پڑنے لگی تھی۔ میں نے جلدی سے آنکھ بند کرلی اور دم سادھ لیا۔ میری لاش تہہ خانے کی جہنمی تاریکی سے نکل کر چاہ بابل کی تہہ دھندلی دھندلی روشنی میں آگئی۔ مجھے اپنے بند پیوٹوں کے اندر جانے کتنی مدت کے بعد خون کی سرخی جھلکتی دکھائی دی۔ میری لاش کو ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ باندھ دیا گیا اور گھوڑا کشادہ ہموار زینے کے چڑھائی چڑھنے لگا۔ دوسرا سپاہی گھوڑے پر سوار آگے آگے جا رہا تھا۔ میری لاش زینے کی مٹی پر گھسٹتی چلی جا رہی تھی۔ گرد اور مٹی نے میرے چہرے کو چھپا دیا تھا۔ میں نے راستے میں ایک بار تھوڑی سی آنکھ کھول کر دیکھا۔ میرا سارا جسم مٹی اور گردو غبار میں اٹا ہوا تھا اور میں بانہیں پیچھے پھیلائے پاؤں کی طرف سے چڑھائی پر گھسٹتا جا رہا تھا۔ میرا سر اچھل اچھل کر زمین سے ٹکرا رہا تھا۔ اگر موت نے مجھے معاف کرنے کے بعد اکیلا نہ چھوڑ دیا ہوتا تو میں چاہ بابل کی چڑھائی کی پہلی منزل پر ہی موت کی وادی میں اتر گیا ہوتا۔

گھوڑا چاہ بابل کی پانچویں منزل پر دروازے پر آکر رک گیا۔ یہاں دربان نے اپنی نگرانی کے برج میں سے نکل کر میری شکل وصورت کو غور سے جھک کر دیکھا اور میری گردن پر زور سے ٹھوکرمار کر کہا۔ ’’ اس غلیظ پلے کو لے جا کر آگ لگا دو۔ ‘‘ چاہ بابل سے پچاس قدم کے فاصلے پر ایک گڑھا تھا جس میں سوکھی لکڑیاں اور جھاڑ جھنکار پڑا ہوا تھا۔ میرے پاؤں کی رسی کاٹ کر میری ’’ لاش‘‘ کو اس میں پھینک دیا گیا۔ میں سوکھی شاخوں اور جھاڑ جھنکار کے اوپر گر پڑا۔ اور خدا کا شکر ادا کیا کہ چاہ بابل کے دوزخ سے باہر نکل آیا تھا۔ ۔۔ سپاہیوں نے میرے اوپر لکڑیاں اور شاخیں ڈال دیں پھر ایک مرتبان میں سے رال میرے اوپر انڈیل دی اور ایک مشعل کو آگ لگا کر جو پھینکی تو جھاڑ جھنکاڑ اور سوکھی شاخوں نے ایک دم سے آگ پکڑی اور وہ دھڑا دھڑ جلنے لگیں۔ میں نے آنکھیں کھول دیں۔ میں نے دیکھا کہ میں آگ کے سرخ بادل میں گھرا ہوا تھا اور سرخ زرد نیلے شعلے کڑکڑاتے شور مچاتے پھنکارتے میرے جسم کو چاٹ رہے تھے۔ میرے جس پر جس چیتھڑے باقی رہ گئے تھے سارے جل گئے میں اب آگ کی سیج پر چٹ لیٹا ہوا تھا۔ آگ میں زندہ نہ جلنے کا میرا یہ پہلا تجربہ تھا۔ آگ میرے سارے جسم کو چاٹ رہی تھی مگر مجھے ایک پل کے لیے بھی گرمی ، تپش یا معمولی سی آنچ بھی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ میرے سر کے بال اور آنکھوں کی پلکیں تک اپنی جگہ پر قائم تھیں۔ بس مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میں روشنیوں کے کسی بگولے کے اندر غوطہ زن ہوں اور تیز ہوا چل رہی ہے۔

جس وقت مجھے سپرد آتش کیا گیا تھا اس وقت شام غروب ہو رہی تھی۔ میں یہی چاہتا تھا اور اسی ساعت کے حصول کے لئے میں نے چاہ بابل کے اندر ایک ایک پل لکیریں کھینچ کھینچ کر حساب لگا رکھا تھا ۔ اب میں آگ کے سمندر میں غرق شعلوں کے تھپیڑے سہتارات کی تاریکی کے چھا جانے کا انتظار کر رہا تھا۔ گڑھے کے اندر بھڑکتے بھڑکتے کافی حد تک مدھم پڑ چکی تھی۔ میرے نیچے اور اوپر اب دہکتے ہوئے انگارے اور سرخ راکھ تھی۔ میں نے ہاتھ ہلاکر ادھر ادھر ٹٹولا۔وہاں انسانی ڈھانچوں کی ہڈیاں اور کھوپڑی کو بھی ان ہی میں شمار کرلیا جائے گا اور یہی میری اسکیم تھی۔ آگ کچھ اور مدھیم ہوئی تو مجھے اوپر آسمان پر ستارے چمکتے نظر آنے لگے۔ دہکتی آگ اور بچے کھجے شعلوں کی وجہ سے گڑھے کے اوپر تک روشنی تھی۔ اس روشنی میں مجھے باہر نکلتے دیکھا جا سکتا تھا۔ میں آگ کے بجھنے کا انتظار کرنے لگا۔ جب رات کافی گہری ہوگئی تو آگ بجھ گئی۔ اب راکھ کے اندر ہی انگارے دبے ہوئے رہ گئے تھے۔ میں نے آگ کی سیج پر سے سر اٹھا کر دیکھا۔ میرے سارے جسم کو راکھ آلود انگاروں نے ڈھانپ رکھا تھا۔ گڑھے کے باہر گہری خاموشی اور اندھیرا چھایا ہوا تھا۔

میں ایک جھر جھری سی لی۔ میرے جسم پر سے ساری راکھ اور انگارے جھڑگئے۔ میں آہستہ سے آگ کے بستر پر سے اٹھا اور انگاروں پر گھٹنوں کے بل چلتا گڑھے کے کنارے پر آگیا۔ یہی جگہ مسلسل آگ میں پکنے کی وجہ سے سخت ہوگئی تھی اور کھنگروں کے کنارے باہر کو نکلے ہوئے تھے۔ میں ان نوکیلے پکے ہوئے کھنگھروں کو پکڑتا اور ان پر پاؤں رکھتا گڑھے سے باہر آگیا۔ باہر نکلتے میں زمین پر لیٹ گیا اور سر ذرا سا اٹھا کر چاہ بابل کے دروازے کی طرف دیکھا۔ دروازے کے برج کے باہر دو مشعلیں روشن تھیں اور سپاہی چل پھر کر پہرہ دے رہے تھے۔ میری طرف کسی کی وجہ نہیں تھی۔ میں نے رتیلی بنجر زمین پر رینگنا شروع کر دیا۔ میرا رخ چاہ بابل سے پرے بہتے ہوئے دریا کی جانب تھا۔ ستاروں کی نیلی دھندلی روشنی مین دور دریا کا پاٹ نظر آرہا تھا۔ کنارے پر کہیں کہیں زیتون کے درختوں کے جھنڈ رات کی تاریک خاموشی میں ساکت کھڑے تھے۔ میں کافی دور تک زمین پر ینگتا چلا گیا۔ میرے پاؤں میں جو لوہے کی بیڑیاں تھیں وہ لوہے کی جہنمی آگ کی شدت میں پگھل کر بہہ چکی تھیں۔ دریا مجھ سے کوئی نصف فرلانگ کے فاصلے پر ہوگا کہ میں اٹھ کھڑا ہوا اور میں نے دریا کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔ اس سنسان علاقے میں کوئی پرندہ تک نہیں بول رہا تھا۔ دریائے فرات کی وادی موت کے سناٹے میں ڈوبی ہوئی تھی۔ دریا پر پہنچ کر میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔ دو اونچے نیچے ٹیلوں پر بابل کے مکان سیاہ دھبوں کی طرح دکھائی دے رہے تھے۔ شاہی محل کے برجوں میں روشنیاں جھلملا رہی تھیں۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزیدخبریں