’ میری جوان بیٹی کو قتل کر دیا گیا ، اس کی موت سے کچھ عرصہ قبل ایک نجومی نے موت کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسا انکشاف کر دیا کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

’ میری جوان بیٹی کو قتل کر دیا گیا ، اس کی موت سے کچھ عرصہ قبل ایک نجومی نے موت ...
’ میری جوان بیٹی کو قتل کر دیا گیا ، اس کی موت سے کچھ عرصہ قبل ایک نجومی نے موت کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا تھا کہ۔۔۔‘ خاتون نے ایسا انکشاف کر دیا کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوز ڈیسک) برطانوی خاتون انیتا نوڈن کی جواں سال بیٹی کربی نوڈن کو اُس کے درندہ صفت بوائے فرینڈ نے انتہائی وحشیانہ طریقے سے قتل کر دیا، مگر حیرت کی بات ہے کہ قتل کے اس لرزہ خیز واقعے کی ایک سال پہلے ہی پیش گوئی کی جا چکی تھی۔ دی مرر کے مطابق جنونی قاتل ڈین لوئی نے 32سالہ کربی کو تیز دھار آلے سے قتل کیا اور اس کے جسم کے ٹکڑے کر دیئے تھے۔ ان میں سے کچھ ٹکڑے اُس نے ٹوائلٹ میں بہا دیئے جبکہ باقی کوڑا دان میں پھینک دیئے تھے۔

کربی کی والدہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے لرزہ خیز قتل سے ایک سال قبل ایک دست شناس نے انہیں بتا دیا تھا کہ ان کی بیٹی کو دردناک انداز میں قتل کر دیا جائے گا۔ انیتا نے بتایا کہ ’’میں چھٹیوں پر گئی ہوئی تھی جہاں میں نے ایک دست شناس کو اپنا ہاتھ دکھایا۔ اس نے میرا ہاتھ غور سے دیکھا اور کہنے لگا ’’ وہ کون لڑکی ہے جس کے پانچ بچے ہیں۔ میں نے کہا وہ میری بیٹی کربی ہے۔ اس کے دو بچوں کی وفات ہو گئی اور اب اس کے تین بچے ہیں۔ وہ کہنے لگا ’میں جیل کی سلاخیں دیکھ رہا ہوں اور آپ کی بیٹی کا خون دیکھ رہا ہوں۔ میں کسی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے افسوس ہے کہ یہ سب کچھ آپ کو بتارہا ہوں لیکن مجھے آپ کی بیٹی کا جسم خون آلود نظر آرہا ہے۔‘‘‘

انیتا کا کہنا ہے کہ کربی اپنے بوائے فرینڈ ڈین کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہائش پذیر تھی جہاں یہ خوفناک واقع پیش آیا۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ دست شناس کی کہی گئی بات واقعی حرف بحرف سچ ثابت ہو جائے گی۔ ڈین نے کربی کو قتل کر دیا مگر کئی ماہ تک اسی فلیٹ میں مقیم رہا۔ گزشتہ سال جنوری میں اس نے کربی کو قتل کیا اورمئی تک کسی کو اس معاملے کی خبر نہیں ہوسکی۔ بالآخر اُس کے اپنے فیس بک میسجز سے اس کے بھیانک جرم کا انکشاف ہوا اور پولیس نے اس درندے کو گرفتار کر لیا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /برطانیہ