سابق ممبر جوڈیشل ان لینڈ ریونیو ٹربیونل لاہور کی بحالی کی درخواست خارج

سابق ممبر جوڈیشل ان لینڈ ریونیو ٹربیونل لاہور کی بحالی کی درخواست خارج

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے سابق ممبر جوڈیشل ان لینڈ ریونیو ٹربیونل لاہور انوار الحق کی بحالی کی درخواست خارج کر دی، سپریم کورٹ کے مسٹرجسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو لاہور کے سابق ممبر جوڈیشل انوار الحق نے اپنی برطرفی کو چیلنج کیا تھا، عدالتی کارروائی کے دوران ٹیکس پیئرز کی طرف سے محمد اجمل خان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ وزارت قانون کا ممبر جوڈیشل انوار الحق کی برطرفی کا فیصلہ درست ہے، برطرفی کے نوٹیفکیشن کے بعد ممبر جوڈیشل کو ٹیکس پیئرز کی اپیلوں پر اختیار سماعت نہیں تھا، برطرفی کے باوجود ممبر جوڈیشل انوار الحق ٹیکس پیئرز کی اپیلوں پر فیصلے دیتے رہے، درخواست گزار انوار الحق نے موقف اختیار کیا کہ وزارت قانون نے 2013 ء میں بطور ممبر جوڈیشل تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا، 2015ء میں درخواست گزار کو توسیع دینے کی بجائے برطرف کر دیا گیا، وزارت قانون کو درخواستگزار کی برطرفی کا اختیار نہیں تھا، لاہور ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی بحالی کی درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دی، انہوں نے استدعا کی کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم کر کے درخواست گزار کو بحال کیا جائے۔

، دلائل سننے کے بعد سپریم کورٹ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ درست ہے، درخواست گزار کی بحالی کی درخواست ناقابل سماعت ہے، سول سرونٹ ہونے کی بنیاد پر ممبر جوڈیشل کو فیڈرل سروس ٹربیونل سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

مزید : علاقائی


loading...