یکساں نصاب تو ہو گیا، مگر داخلہ پالیسی؟

یکساں نصاب تو ہو گیا، مگر داخلہ پالیسی؟
 یکساں نصاب تو ہو گیا، مگر داخلہ پالیسی؟

  


وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے قوم کو خوش خبری دی ہے کہ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق ہم نے یکساں نصاب تعلیم کا وعدہ پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے لئے مارچ سے عمل درآمد شروع ہو جائے گا، یکساں نصاب تعلیم کا سلیبس پانچویں تک تیار ہو چکا ہے، ملک بھر میں عمل درآمد کے لئے 12دفاتر کھولے جائیں گے، جو سارے نظام کو مانیٹرکریں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم نے یہ بھی نوید سنائی دینی مدارس کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لئے مدارس میں بھی یہی نصاب پڑھانے کا طریقہ کار طے کر لیا گیا ہے،مدارس کی باقاعدہ رجسٹریشن کا عمل شروع کیا جا رہا ہے،8ویں تک مدارس خود امتحان لے سکیں گے اس کے بعد سرکاری بورڈ امتحان لیں گے اور مدارس کو بھی بورڈ ڈگری جاری کریں گے۔

وفاقی وزیر تعلیم جہد ِ مسلسل کرنے والی شخصیت ہیں ان کے عزائم قابل ِ ستائش ہیں اللہ انہیں نظر بد سے بچائے، یکساں نصاب تعلیم پی ٹی آئی کا منشور ہی نہیں، اہل پاکستان کا درینہ خواب بھی ہے۔اگر وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود قوم کا یہ خواب پورا کرتے ہیں تو انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود قوم کو اسی طرح خوشخبریاں سناتے رہیں، مگر زمینی حقائق بھی سامنے رکھیں۔گزشتہ دس سال کی تاریخ بتاتی ہے، پنجاب کے دبنگ وزیراعلیٰ سمجھنے جانے والے میاں شہباز شریف اپنے دو ادوار میں کوشش کے باوجود نجی تعلیم اداروں کو نیٹ میں لانے کے لئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، جتنے اعلان سابق وزیر تعلیم پنجاب رانا مشہود اور سابق وزیراعلیٰ نے کئے50 فیصد پربھی عمل درآمد کرانے میں ناکام رہے۔

مدارس کی رجسٹریشن متعدد بار ہو چکی ہے، اللہ وکیل احمد خان مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے ان جیسی مفید اور قابل ِ احترام شخصیت نے آمریت کے دور میں بھی بااعتماد انداز میں مدارس کی رجسٹریشن کا فریضہ انجام دیا۔ جنرل پرویز مشرف سے لے کر اب تک کوئی حکومت مسلکی بنیاد پر قائم تعلیمی بورڈز کے خاتمے کا فیصلہ نہ کر سکی،جس ملک میں مسلک کی باقاعدہ بورڈ کے ذریعے رجسٹریشن ہو اور فرقہ اور مسلک کی بنیاد پر ڈگری دی جاتی ہو، وہاں مدارس کی رجسٹریشن اور ان کو یکساں نصاب پڑھانے کا خواب شرمندہئ تعبیر ہونا بظاہر ناممکن نظر آتا ہے۔

اگلا سوال جو وفاقی وزیر تعلیم سے کہا جا سکتا ہے یکساں نصاب تعلیم کا سلیبس جو تیار کیا گیا ہے وہ سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے یا نجی تعلیمی اداروں کے لئے بھی ہے۔کیا وفاق نے پنجاب سمیت دیگر صوبوں کا سروے کروایا ہے اس وقت پاکستان بھر میں کتنے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں،ملک بھر میں دو مرلے سے دو کنال کے سکولز کا فیس سٹرکچر کیاہے۔ وفاقی وزیر تعلیم قوم کو بتائیں آکسفورڈ کا نصاب پڑھانے والے80فیصد تعلیمی اداروں نے پی ٹی آئی حکومت کا نصاب قبول کر لیا ہے۔

اس وقت بھی بغیر مبالغہ کے ملک بھر میں سینکڑوں اقسام کے نصاب پڑھائے جا رہے ہیں،کیا چھوٹے بڑے اداروں کو اعتماد میں لیا گیا ہے، سینکڑوں تعلیمی اداروں کا تعلیمی سیشن بھی مختلف ہے، کوئی جون سے آغاز کر رہا ہے تو کوئی مارچ اپریل سے، کوئی ادارہ ستمبر سے آغاز کر رہا ہے کوئی ادارے جنوری سے آغاز کر رہے ہیں۔پاکستان کی تاریخ میں ہر حکومت کے منشور میں مفت تعلیم اور یکساں نصاب کا منشور شامل رہا ہے۔طاقتور ترین حکومتیں بھی عمل درآمد کرانے میں بُری طرح ناکام ہیں، اس کی وجوہات تلاش کی گئی ہیں یا نہیں، یکساں نصاب تیار کرنے کا دعویٰ عملدرآمد نہ کروا سکا۔

ان خدشات کے باوجود وفاقی وزیر تعلیم کے لئے نیک خواہشات کے ساتھ دُعا ہے اللہ قوم کا درینہ مطالبہ ”یکساں نصاب“ پورا کرنے کی توفیق دے۔ نجی تعلیمی اداروں کے داخلے کے حوالے سے آج تک کوئی حکومت داخلہ پالیسی نہیں بنا سکی۔ میٹرک اور ایف اے،ایف ایس سی کے نتائج سے پہلے ایف اے، ایف ایس سی، بی اے، بی ایس سی اور دیگر شعبہ جات کے اداروں میں داخلے اور وہ بھی پہلے آیئے پہلے پایئے کی بنیاد پر جاری ہیں،مَیں نے اس پر گزشتہ کئی سال سے جہاد کرتے ہوئے لکھنا شروع کر رکھاہے،کئی ایڈیشن ہم روزنامہ ”پاکستان“ کے شائع کر چکے ہیں نجی تعلیمی ادارے کالجز،یونیورسٹیز میں ایک فیصد فرق نہیں پڑ سکا۔

پرائیویٹ کالجز، پرایویٹ سکول، پرائیویٹ یونیورسٹی کسی ہائر اتھارٹی کو ماننے کے لئے تیار نہیں، ہر سکول، کالج اور یونیورسٹی نے اپنی داخلہ پالیسی اور فیس سٹرکچر بنا رکھا ہے۔ اس سال مجھے خود چند کالجز اور یونیورسٹی میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یونیورسٹی کی داخلہ پالیسی دیکھ کر ان کا تحریری ٹیسٹ کا ڈرامہ دیکھ کر سر پکڑے بیٹھا ہوں۔

ایف ایس سی کے امتحان ہونے کے ساتھ ہی اخبارات میں مختلف شعبہ جات کے BS پروگرامات میں تحریری ٹیسٹ انٹرویو کے اشتہار شائع ہوئے، مَیں اپنی بیٹی کو لے کر دو یونیورسٹیوں میں گیا، ہزاروں بچے، بچیوں اور والدین کی خواری کے بعد امتحانی ڈرامہ کو قریب سے دیکھا اور پھر دو گھنٹے کے ٹیسٹ دینے کے بعد گھرواپسی پر پہلا موبائل پرSMS جو آیا وہ آپ کی بیٹی کامیاب ہو گئی ہے، دو دن کے اندر فیس جمع کرا دیں، کا تھا۔دو دن کے بعد پھر اخبار میں داخلے کے ساتھ تحریری امتحان اور انٹرویو کا اشتہار دیکھنے کو ملا، جس نے مجھ جیسے صحافت کے طالب علم کو چکرا کر رکھ دیا ہے۔ اب جبکہ ایف اے، ایف ایس سی کا نتیجہ آ چکا ہے پھر داخلے کے اشتہار چوتھی اور پانچویں دفعہ شائع ہو رہے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...