عسکری اور قومی خدمات کا تحقیقی جائزہ!

 عسکری اور قومی خدمات کا تحقیقی جائزہ!

۱۹۴۷ءمیں جب تقسیم ہند کا وقت آیا اور تقسیم کا اصولی فیصلہ کرلیا گیا تو تقسیم کے وقت انگریز اور کانگریس کی یہ کوشش تھی کہ فوج تقسیم نہ ہو۔ دونوں قوتیں اس عظیم فوج کی تقسیم کے حق میں نہیں تھیں ۔ ایک طرف کانگریس فوج کی تقسیم کے خلاف تھی تو دوسری طرف انگریز حکومت اور فوجی ماہرین بھی اس حق میںتھے کہ افواج ہند کے استحکام میں شگاف ڈالنا دراصل بحر ہند اور شمال مغربی سرحدوں کی جانب سے ملک کو خطرات درپیش ہوں گے جو کہ آنے والے وقتوں میں دونوں ملکوں کے لیے مسائل کا سبب بنے گا لہٰذا متحدہ فوج دونوں خطوں کی بقا اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔ہندوستان کی فوج کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل تقسیم افواج کی بات کو آخر تک افواہ قرار دیتے رہے۔مگر بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور دوسرے مسلمان اکابرین ملک کے ساتھ ساتھ فوج کی تقسیم کے حق میں تھے اور اس حوالے سے انھوں نے مضبوط دلائل پیش کیے۔جس کے نتیجے میں فوج کی تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔

فوج کی تقسیم کے عمل کا اعلان یکم جولائی ۱۹۴۷ءکو ہوا۔کہ ہندوستان اور پاکستان اپنے اپنے حصے کی فوج کی کمان کے ذمہ دار ہوں گے، اور ۱۵ اگست کے بعد دونوں ملکوں کی افواج اپنی اپنی مملکت کے تحت ہوں گی۔اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کا نام مسلح افواج کی تشکیل نو کمیٹی تھا ۔کمانڈر انچیف کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان فوج کی تقسیم کے معاملے میں زیادہ حصہ اور وسائل بھارت کے حصہ میں آگئے اور پاکستان کو اس کا حصہ کم ملا۔۱۵، اگست کو تشکیل ہونے والی دونوں فوجوں کو درج ذیل حصے ملے۔

 بری فوج

پاکستانانڈیا

پیدل دستے ۸ ۱۵

بکتر بند دستے ۶ ۱۲

توپ کانہ یونٹ 8-1/2 18-1/2

انجینئرنگ یونٹ ۳۴ ۶۱

ہراول دستے ۴ ۱۰

فوجی ہسپتال ۳۴ ۸۲

بحریہ

ایک مستولی کشتیاں۲ ۴

جنگی جہاز ۲ ۲

بارودی سرنگیں صاف 

کرنے والے جہاز۴ ۱۴

جنگی کشتی ۔ ۱

نگران جہاز ۔ ۱

موٹر لانچ ۔ ۱

چھوٹے ہوائی جہاز۔جتنے موجود تھے

فضائیہ

لڑاکا ہوائی بیڑا ۲ ۷

نقل وحمل کا بیڑا ۱ !

(عبداللہ ملک،پاکستانی کی بنیادی حقیقتیں اور پاکستانی فوج کی ابتدا،لاہور، مکتبہ فکرو دانش، ۱۹۸۸ئ،ص۳۰،۳۱)

اسلحہ سازفیکٹریوں اور اسلحہ کے ذخیروں کے حوالے سے بھی پاکستانی افواج کو دقت اور کمی کا سامنا کرنا پڑا کینوکہ تمام تر اسلحہ ساز فیکٹریاں انڈیا میں تھیں۔گورنر جنرل لارڈ ماو¿نٹ بیٹن پاکستان کو فوجی سازوسامان کا جائز حصہ دلانے میں ناکام رہا۔جو تھوڑ ابہت اسلحہ پاکستانی فوج کو ملا وہ ٹوٹا ہوا اور ناکارہ تھا۔

درج بالا تمام حالات اور کسمرسی کے باوجود پاکستانی فوج نے بہت جلد اپنی تشکیل اور تعمیر کو ممکن بنایا۔ نئے سرے سے پورا عسکری لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔ اور پھر جز جذبہ سچا ہو اور محنت ، لگن اور خدا کی خوشنودی حاصل ہو تو منزلیں آسان ہوجایا کرتی ہیں۔ چند ہی برسوں میں پاکستان کی فوج نے علاقے میں اپنی شناخت اور وقار کو تسلیم کرالیا۔

پاک بھارت جنگ ستمبر ۱۹۶۵ئ

پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جس کی اساس اسلام کا وہ نظریہ بنا جس میں تمام انسانوں کے حقوق متعین ہیں ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ اقلیتوں کے حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھا جاتا ہے جیسا کہ مسلمانوں کا۔ پاکستان نے کبھی جنگ میں پہل نہیں کی۔ ہمیشہ تمام مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت سے نکالنے کی کوشش کی گئی۔ مگر پڑوسی ملک اپنی عددی برتری، اور فوجی و عسکری طاقت اور جدید ہتھیارخریدنے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ پڑوس میں واقع کسی بھی ملک پر قبضہ کرنا اس کا حق ہے، اور وہ اس کی طاقت رکھتا ہے، اسی بات نے پڑوسی ملک کی قیادت کو مجبور کیا کہ وہ پاکستان کے سرحدوں میں گھس آئے اور یہاں شہریوں کی جان ومال کو نقصان پہنچائے ، ۱۹۶۵ءکی جنگ بھی اسی طاقت کے نشے کا شاخسانہ تھی وگرنہ ایسی کوئی نئی بات یا کوئی جھگڑا نہیں تھا کہ کوئی ملک اپنے پڑوسی ملک کی سرحدوں میں گھس آئے ،بھارت کا مقصد صرف طاقت کا مظاہرہ اور پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کو نقصان پہنچانا تھا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر اور دوسرے کئی معاملات پر تنازع ۱۹۴۷ءہی سے چلتا آرہا ہے، ۱۹۶۳ءمیں کچھ ایسے واقعات ہوئے جن سے پاکستان ا ور بھارت میں اختلافات بڑھ گئے۔ دسمبر ۱۹۶۳ءمیں حضرت بل کی خانقاہ سے موئے مبارک کا چوری ہوجانا اور کشمیر میں بھارتی فوج کا جبر اور قبضہ ،یہ وہ حالات تھے جو پہلے بھی وجہ نزاع بنے رہے اور ۱۹۶۵ءمیں بھی جنگ کا باعث بنے۔ 

کشمیر میں بھارت کی ہٹ دھرمی اور ظلم واستبداد نے کشمیریوں میں احتجاج کی لہر پیدا کردی، بھارت نے الزام لگایا کہ پاکستان انھیں اکسا رہا ہے۔اسی بات کو جواز بنا کر بھارت آزاد کشمیر پر حملہ آور ہوگیا۔

۹، اپریل ۱۹۶۵ءکوبھارتی فوج پاکستانی حدود میں داخل ہوگئی اور رَن کچھ کے مقام پر پاکستان اور بھارتی فوجیں آمنے سامنے آگئیں اور تصادم ہوا۔

دشمنو تم نے اس قوم کو للکارا ہے

کعبہ ہے جن کی جبینوں میں

 قرآن ہے روشن سینوں میں 

اللہ کا جن کو سہارا ہے

یکم جولائی کو بھارتی وزیر داخلہ نے اعلان کیا کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔۱۷ مئی کو بھارت نے لائن آف کنٹرول عبور کرکے کارگل پر حملہ کردیا۔جس کی وجہ سے جنگ بندی معاہدہ شدید متاثر ہوا۔بھارت نے الزام لگایا کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول کے اندر گھس بیٹھئے بھیج دیے ہیں جو کہ کشمیریوں کو ابھار رہے ہیں اسی بات کو جواز بناتے ہوئے بھارتی فوج آزاد کشمیر میں داخل ہوگئی اور آزاد کشمیر پر وسیع پیمانے پر حملہ کردیا۔

۱۵ اگست کو کارگل کے مقام پر بھارتی فوجیوں نے پھر ان ۳چوکیوں پر دوبارہ قبضہ کرلیا جو انھوں نے جون میں خالی کی تھیں۔بھارت نے لائن آف کنٹرول کے اندر گھسنے کی دھمکی دی اور کہا کہ وہ جب چاہے گاجنگ بندی لائن کو عبور کرلے گا۔ ساتھ ہی بھارتی فوج نے اعوان شریف کے علاقے پر بمباری شروع کردی۔

۲۰ اگست ۱۹۶۵ءکو بھارت نے پاکستانی حدود میں پاکستانی علاقوں پر پرواز کی اورآزاد کشمیر پر حملہ کردیا۔جس کا جواب مقامی مجاہدین نے دیا اور مدافعت کے ساتھ ساتھ بارہ مولا پر بھی قبضہ کرلیا۔پونچھ اور چھمب کے علاقوں میں بھارت نے لڑائی شروع کردی۔۲۳ اگست کو ایک گاو¿ں پر حملہ کر کے ۲۵ افراد کو شہید کردیا۔بھارت اور آزاد کشمیر کی فوجوں میں درہ حاجی پیرکے مقام پر اگست کے آخر میں سخت مقابلہ ہوا۔ 

بھارت نے جو جنگ چھیڑی تھی اس میں اسے منہ کی کھانا پڑی۔ پاکستانی فوج نے ۳ بھارتی طیارے مار گرائے۔ پاک فضائیہ نے بھمب سیکٹر پر حملہ کیااور جوڑیاں پر قبضہ کرکے پیش قدمی کرتے کرتے بھارت کا بہت سا علاقہ فتح کرلیا۔ پاکستان کی بری فوج نے کارہائے نمایاں سرانجام دیے۔۸ ستمبر کو بھارت نے جموں ،سیالکوٹ سیکٹر میں ۳ نئے محاذ کھول لیے لیکن ہر جگہ ا سے ناکامی کا سامنا کرناپڑا۔پاک فوج نے ۲۱ بھارتی ٹینکوں پر قبضہ کرلیا ، سیالکوٹ میں پچاس ٹینک اپنے قبضے میں لے لیے اور بہت سی توپوں کو بھارتی فوج سے چھین لیا۔اور انڈیا کے راڈرا سسٹم کو بھی تباہ کردیا۔

پاک فضائیہ کو اپنی کارکردگی دکھانے کا موقع ملا، وہ وقت آگیا جب شاہین کی طرح دشمن پر جھپٹنا تھا اور اسے اپنی سرزمین سے ناکام ونامراد واپس دھکیلنا تھا۔

۶ ستمبر کو ہندوستان نے اپنی فوجیں لاہور شہر میں داخل کردیں تاکہ پاکستان کشمیر کے ساتھ ساتھ لاہور میں بھی مصروف ہوجائے اور اس کی توجہ کشمیر سے ہٹ جائے۔ہندوستان نے پاکستان کے پورے مشرقی بارڈر کو اپنا نشانہ بنایا۔

 پاک فضائیہ نے ہلواڑہ، جودھ پور ،پٹھان کوٹ، جام نگراور آدم پور کے ہوائی اڈوں کو بھی بمباری کرکے نقصان پہنچایا۔انڈیا چونڈہ کے مقم پر ۶۰ ٹینکوں سے حملہ آور ہوا وہاں بھی اسے ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان ائیر فورس نے مشرقی پاکستان، ملتان، نواب شاہ پر بھارت کے فضائی حملے کو ناکام بنادیا۔راجستھان میں بھی بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پرا۔۱۷ ستمبر تک پاک فون نے بھارت کے اندر تک گھس کر بھرتی کے ۵۰۰ مربع میل کے علاقے پر قبضہ کرلیا۔

پاک بحریہ بھی اس جنگ میں پیش پیش رہی۔ پاک بحریہ نے ۲۳ ستمبر کو دشمن کا جنگی جہاز ڈبودیا۔

پاکستان کی بری فوج فتوحات پر فتوحات کرتی کھیم کرن سے بھی آگے بڑھ گئی۔

۶ ستمبر کو شروع ہونے والے یہ باقاعدہ جنگ اقوام متحدہ کی کی مداخلت اور کوششوں سے سترہ دن بعد ۲۳ ستمبر ۱۹۶۵ءکو ختم ہوئی۔

کمانڈر انچیف ائیر وائس مارشل نور خان کو جنگ کے دوران بہادری اور کارنامے دکھانے پر اعزاز سے نوازا گیا۔۱۹۴ افسروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ بریگیڈئر شامی شہید کو ہلال جرات کا اعزاز دےا گیا۔راجہ عزیز بھٹی کو نشان حیدر عطا کیا گیا۔

چھمب سیکٹر پر بہادری کا مظاہرہ کرنے والے جوان سوار محمد حسین شہید کو نشان حیدر دیا گیا۔ملکہ ترنم نورجہاں نے پاکستانی فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے جو ملی نغمے اور جنگی ترانے گائے انھوں نے قوم کے ساتھ ساتھ پاک فوج کا مورال بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا، ملکہ ترنم نورجہاں کی انھیں خدمات کے صلہ میں اس وقت کے صدر پاکستان ایوب خان نے ملکہ ترنم نورجہاں کو حسن کارکردگی پر صدارتی ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس عطا کیا۔

پاکستان کے نامور گلوکاروں نے مل نغمے گائے جو شہرت اور عوام سے محبت انھیں ۱۹۶۵ءمیں گائے گئے گیتوں، نغموں اور جنگی ترانوں سے حاصل ہوئی ، اس نے انھیں امر کردیا۔ یہ نغمے آج بھی پاکستانی قوم کے دلوں میں زندہ ہےں۔آج بھی ان گلوکاروںکی آواز میں گائے گئے جنگی اور ملی ترانے نہ صرف پاکستانی فوج بلکہ پوری قوم کے رگوں میں لہو کو گرما دیتے ہیں۔

نغمہ

اے وطن کے سجیلے جوانو

میرے نغمے تمھارے لیے ہیں 

(میڈم نور جہاں نے گایا)

ملی نغمہ

اللہ اکبر اللہ اکبر

اللہ کی رحمت کا سایہ توحید کا پرچم لہرایا

اے مرد مجاہد جاگ ذرا

اب وقت شہادت ہے آیا

ملی نغمہ

اپنی جاںنذر کروں اپنی وفا پیش کروں

قوم کے مردِ مجاہد تجھے کیا پیش کروں

(مہدی حسن نے گایا)

۶ستمبر ۱۹۶۶ءکو پہلی بار یوم دفاع منایا گیا اور عام چھٹی کا اعلان کیا گیا، اسی طرح ۷ ستمبر کو پہلا یوم فضائیہ منایا گیا۔

۱۹۶۵ءکی جنگ میں پاک فوج کا جوش وولوہ اور قوت ایمانی قابل دید تھی۔ دشمن کے علاقے میں پچیس میل اندر تک گھس گئے اور دشمن کو الٹے پاو¿ں بھاگنے پر مجبور کردیا۔ جگہ جگہ دشمن کے علاقے میں دشمن کے فوجیوں کی لاشیں، ہتھیار اور بوٹ پڑے ہوئے تھے، دشمن کے فوجی اپنے بوٹ تک چھوڑ کر بھاگ گئے کہ بھاگنے میں رکاوٹ نہ ہو۔ راجستھان کے میدانوں میں صحرائی فوج نے وہ کارنامے انجام دیے کہ قوم کا سر فخر سے بلند ہوگیا۔

۱۹۶۵ءکی جنگ نے پاکستانی فوج کو دنیا بھر میں سرخرو کیا اور پاکستانی قوم کا مورال بلند کرنے میں اہم کردار ادا کیا، بلاشبہ ۱۹۶۵ءکی جنگ میں پاک فوج کے جوانوں کی بہادری اور دلیری کی داستانیں ہماری ملکی، قومی اور عسکری تاریخ کا وہ حصہ ہیں جو کبھی نہیں بھلائی جاسکتیں۔

۱۹۷۱ءکی جنگ

ملک میں سیاسی اختلافات کی وجہ سے مشرقی اور مغربی پاکستان میں حالات ایک ایسی صورت حال کی طرف بڑھے جو کسی بھی حوالے سے قابل تحسین نہیں تھی۔ ان حالات پر بھارت بھی ایک مدت سے نظر رکھے ہوئے تھا ۔۱۹۶۵ءکی جنگ میں عبرتناک شکست کھانے کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھا تھا۔

۲۹ ،اگست کو بھارت کے ایجنٹ نے پاکستانی طیارہ اغوا کیا اور اسے بھارت میںح لے جانے کا حکم دیا مگر پاک فضائیہ کے پائلٹ کیپٹن راشد منہاس نے پاکستان کے ایک طیارے کو بھارت لے جانے کی کوشش کو ناکام بنادیا اور طیارے کو ۳۲ کلومیٹر دور تباہ کردیا یوں طیارہ پاکستان ہی کی حدود میں گر گیا راشد منہاس شہید ہوگئے مگر پاکستان کے طیارے کو دشمن کی سرزمین پر اترنے نہیں دیا۔

پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کی ایک آبدوز شکن طیارہ کو کراچی میں تباہ کیا۔

پاک فوج نے امرتسراور پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈوں کو تباہ برباد کر کے رکھ دیا۔سری نگر اور جیسلمیر کے ہوائی اڈوں کو بھی نقصان پہنچایا۔

چندر لیڈروں کی وجہ سے پاکستان جیتی ہوئی جنگ کا رخ تبدیل ہوگیا۔

نامساعد حالات کے باوجود پاکستانی فوج ڈھائی ہزار میل لمبی سرحد پر دفاع وطن کے لیے چاک وچوبند تھی ہر مقام پر اپنے سے کئی گنا زیادہ فوج کا پامردی سے مقابلہ کرنے والی پاک فوج کی شجاعت فقید المثال تھی۔مگر جب قلیل تعداد پر کثیر تعداد اور جدید اسلحہ سے آراستہ فوج حملہ آور ہوجائے اور کئی مہینوں جنگ کی کیفیت برقرار رہی ایسے میں دفاع کو ممکن بنائے رکھنا بھی ایک بہت بڑی بات ہے۔پاک فوج کے حوصلے بلند تھے مگر ہائی کمان کی طرف سے ہتھیار ڈالنے ، اندرونی سازش،حلیف ممالک دوستوں کی سست روی اور جنگ بندی کے احکامات نے صورت حال کو تبدیل کر کے رکھ دیا۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ قیادت کو جنگ کے نتائج سے دلچسپی نہیں تھی۔اور سقوط مشرقی پاکستان ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت طے شدہ فارمولا تھا۔

۱۹۷۱ءکی جنگ میں جرات کا مظاہرہ کرنے پر میجر شبیر شریف کو نشان حیدر دیا گیا۔راشد منہاس کو نشان حیدر دیا گیا۔سوار محمد حسین شہید،محمداکرم شہید،محمد محفوظ شہید،کرنل شیر خان شہید، لالک جان شہیدکو جرات کے مظاہرے کے صلے میں نشان حیدر پیش کیا گیا۔

کارگل

۱۹۹۹ءمیں سیاچین اور کارگل میں بھارت نے پاکستانی چوکیوں پر حملہ کردیا یہ حملہ وقفے وقفے سے جاری رہا ۲۲ مئی کو اس میں تیزی آگئی۔پاکستان نے دو بھارتی طیارے مار گرائے۔ کنٹرول لائن پر حملہ کے دوران بھارت کی چوکی تباہ کردی۔ ۔۲۹ مئی کو بھارت نے کارگل، دراس اور بٹالک پر حملہ کردیا۔ ۴ جون تک پاکستان فوج نے بھارت کے حملوں کو پسپا کردیا۔ بھارت نے کارگل میں کمانڈوز اتار دیے۔پھر آزاد کشمیر میں بمباری کردی۔

۱۹ جولائی پاکستان نے کارگل پر بنکرز اور چوکیاں قائم کرلیں اور بھارتی فوج کو پسپا کردیا۔ ۳۱ جولائی تک پاک فوج نے بھارتی فوج کے کئی بڑے حملوں کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا۔

اگست ۱۹۹۹ءمیں کارگل پر پاک فوج نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ یکم اگست کو مشکو اور بتالک میں گھمسان کی جنگ میں بھارت کے ۵۸ فوجی ہلاک ہوئے۔

القاعدہ اور طالبا ن کے یورشیں

نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکہ نے دباو¿ بڑھا دیا۔جس کی وجہ سے افغانستان اور پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ ہوگئے۔ ۷، اکتوبر ۲۰۰۱ ءکو امریکہ اور برطانیہ نے پاکستان کے وقت کے مطابق اتوار کی رات افغانستان پر حملہ کردیا۔دوسرے کئی ممالک امریکہ کے اتحادی تھے، پاکستان نے بھی خطے اور اپنے ملک کی سلامتی کے لیے اس دہشت گردی کے خلاف جنگ کی حمایت کردی۔ 

پاکستان فورسز نے ۲۰۰۱ءسے ۲۰۰۴ءتک افغان بارڈر پر القاعدہ اور طالبان کی نقل وحرکت پر نظر رکھی اور مسلسل افغانستان سے پاکستان کی طرف آنے والے غیر ملکی دہشت گردوں کے خلاف فتوحات حاصل کیں۔

اکتوبر ۲۰۰۳ءمیں پاک فوج نے وزیرستان ، بنوں اور شمالی علاقہ جات میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن رہا۔

وزیرستان آپریشن

وزیرستان ایک اہم علاقہ ہے جس میں وزیر قبیلہ، گربز قبیلہ، لالی وزیر قبیلہ، محسود قبیلہ کے افراد آباد ہیں۔جو مشقت پسند، محنت کش لوگ ہیں۔یہ لوگ چراگاہوں میں سکونت اختیار کرت ہیں ۔ان کا ایک اہم پیشہ فوج مین ملازمت ہے ۔محسود قبائل کے بہت سے جوان ملیشیا فورس، پولیس، رینجرز، اور پاک آرمی میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور وطن کے دفاع اور حفاظت میں پیش پیش ہیں۔(وزیرستان آپریشن برطانوی راج سے امریکی راج تک، انوار ہاشمی، لاہور ،بک ٹاک، ۲۰۰۷ئ،ص۳۵)

پاک فوج نے وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف ۱۳مارچ ۲۰۰۴ءسے ۲۸ مارچ ۲۰۰۴ءتک آپریشن کیا۔ جس میں ۶۰ سے زیادہ جنگجو طالبان مارے گئے۔بہت سے زخمی ہوئے اور سینکڑوں گرفتار کیے گئے۔ آپریشن میں شامل ۴۶ فوجی جوان بھی شہید ہوئے۔اس آپریشن کا مقصد القاعدہ، طالبان اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔اس آپریشن میں تیرہ ہزار پانچ سو فوجیوں نے حصہ لیا۔

اس آپریشن کو مشروط طور پر روک کر باغیوں اور جنجوو¿ں کو موقع دیا گیا کہ وہ ہتھیا ر ڈال دیں۔

باغیوں اور جنگجوو¿ں کی مسلسل سازشوں اور یورشوں کی وجہ سے اس آپریشن کے دوسرا حصے پر عمل درآمد شروع ہوا۔پاک فوج نے اپریل ۲۰۰۴ءمیں دوبارہ آپریشن شروع کردیا۔القاعدہ کے بڑے رہنماو¿ں کی موجودگی کی اطلاعات کی وجہ سے مارچ ۲۰۰۵ءمیں وانا اور وزیرستان میں آپریشن تیز کردیا گیا۔اس آپریشن میں متعدد القاعدہ جنگجوو¿ں کو ہلاک کیا گیا ، بہت سے گرفتار ہوئے۔اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری کی تلاش جاری رہی۔وانا آپریشن میں ۱۶۳ غیر ملکی جنگجو گرفتار کیے گئے۔شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان ،وانا، ٹانک،فاٹا میں ۲۰۰۵ءاور ۲۰۰۶ءتک مسلسل فوجی آپریشن جاری رہا۔

راہ حق۔۔۔سوات کا پہلا آپریشن

پاک آرمی نے سوات میں طالبان باغیوں کے خلاف آپریشن راہ حق کے نام سے کیا۔ یہ جنگ ۲۵ ،اکتوبر ۲۰۰۷ءکو شروع ہوئی اور ۷نومبر ۲۰۰۷ءتک جاری رہی۔پہلے فیز میں ۲۴، اکتوبر کو تین ہزار سے زائد پاکستانی جوان وادی سوات میں بھیجے گئے۔ 

دوسرے فیز میں۱۲نومبر کو پانچ ہزار فوجی سوات بھیجے جہاں جہاں پہلے ۱۵۰۰۰ پیرا ملٹری جوان اور پولیس موجود تھی۔پاکستان آرمی نے ضلع شانگلہ کو تو باغیوں سے خالی کرالیا مگر ابھی سوات کے کئی علاقے ابھی باغی جنگجوو¿ں کے قبضے میں تھے ۔ زمینی فوج مٹہ، خوازخیلہ،چار باغ، اور کئی اہم مقامات تک نہیں پہنچ سکتی تھی ۔۵ دسمبر کو پاک آرمی نے پیش قدمی کی مٹہ ضلع کو قبضے میں لے لیا۔

راہِ حق۔۔دوسرا آپریشن

راہ حق آپریشن کا دوسرا مرحلہ ۲۰۰۸ءمیں لانچ کیا گیا۔اس آپریشن میں آرمی اور ائر فورس دونوں نے بڑھ چڑھ کر اور جوش و خروش سے حصہ لیا۔دہشت گردی کی لہر کے خلاف یہ آپریشن بہت کار گر ثابت ہوا۔ 

شیر دل آپریشن۔۔

راہ حق آپریشن میں جب دہشت گردوں اور طالبان کے گرد زندگی کا دائرہ تنگ ہوا ان کے انسان دشمن ناپاک عزائم ا س صورت میں سامنے آئے کہ انھوں نے باجوڑ ایجنسی میں اپنی دہشت گردی پر مبنی کارروائیاں شروع کردیں۔جس کے نتیجے میں آرمی نے آپریشن شیردل شروع کیا۔

جب صورتحال مزیدآگے بڑھی توآپریشن کا تیسرا مرحلہ جنوری ۲۰۰۹ءمیں شروع کیا گیا۔ان تمام آپریشنوں میں پاکستان کی فوج نے نمایاں خدمات اور کارنامے سرانجام دیے اور دشمن قوتوں اور دہشت گردوں کا دلیرانہ مقابلہ کیا۔

آپریشن ضرب عضب۔۲۰۱۴ءسے 

پاکستان میں مسلح گروپوں اور دہشت گردوں تحریک طالبان، القاعدہ، دی اسلامک موومنٹ آف ازبکستان، دی ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ لشکر جھنگوی، القاعدہ اور حقانی نیٹ ورک کے خلاف ضرب عضب کے نام سے ۱۵جون ۲۰۱۴ءکو پاکستان آرمی نے آپریشن شروع کیا جو ایک سال دو ماہ سے جاری ہے۔ یہ آپریشن جنوبی وزیرستان ،پاکستان افغان بارڈر پر جاری ہے۔۸ جون کو جناح ٹرمینل کراچی پر ہونے والے حملے ،جس کی ذمہ داری تحریک طالبان اور دی اسلامک موومنٹ آف ازبکستان نے قبول کی تھی،کے نتیجے میں یہ آپریشن شروع کیا گیا۔

ضرب عضب سے مراد تیز اور کاٹ دینے والا حملہ ہے۔ضرب عضب میں 30000فوجی جوان حصہ لے رہے ہیں۔

یہ آپریشن اپنے پہلے دن سے آج تک بڑی کامیابی سے جاری ہے ۔ڈی جی ،آئی ایس پی آر کے مطابق ۱۳ جون ۲۰۱۵ تک ۲۷۶۳ مسلح دہشت گرد مارے جا چکے ہیں۔ہزاروں دہشت گرد گرفتار کیے جاچکے ہیں۔بھاری مشین گنیں، راکٹ لانچرسنیپر رائفلیں بھی قبضے میں لے لی گئی ہیں۔ دہشت گردوں کا نیٹ ورک اور کامونیکیشن انفراسٹرکچر تباہ کردیا گیا ہے۔

نو ہزار intelligence based operations میں ۲۱۸ دہشت گردکمانڈر بھی مارے جاچکے ہیں۔ان آپریشنز کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ وبارود برآمد کرکے تباہ کیا جاچکا ہے۔۲۵۳ ٹن دھماکہ خیز مواد دہشت گردوں سے چھین لیا گیا ہے۔پاکستانی فوج نے دہشت گردوں سے ۱۸۰۸۷ ہتھیار برآمد کر کے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔

پاکستانی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف جنگ اور آپریشن میں مسلسل شاندار کامیابیوں کے حوالے سے رواں سال ۲۰۱۵ءکو 

"a year of victory" قرار دیا ہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان کے حوالے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جلد ہی دہشت گردوں کے خلاف آخری زوردار کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔دہشت گردوں اور مسلح تخریبی گروپوں کو ختم کرنے اور ان کے نیٹ ورک کوجڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی حتمی کوششیں شروع کردی جائیں گی ۔

ضرب عضب ایک ایسا آپریشن ہے جس میں فوج اور قوم شانہ بشانہ امن کی خاطر دہشت گردوں سے نبرد آزما رہے۔ پاکستانی فوج جہاں ضرب عضب میں دشمن اور دہشت گردوں کے مد مقابل بہادری سے اس فتنے کو مٹانے میں مصروف رہی وہاں وزیرستان کے ان لوگوں کو بھی شیلڈر فراہم کیا جو کہ آپریشن کے نتیجے میں اپنے گھر بار چھوڑ کر کیمپوں میں عارضی طور پر مقیم تھے۔آپریشن کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی تعدادایک اندازے کے مطابق 929,859 کے قریب تھی۔جس میں 80302خاندان شامل تھے۔ ان تمام لوگوں کو پاکستانی فوج پاکستانی حکومت کی طرف سے مہیا کردہ مکمل سہولیات ،رہائش اور کھانے پینے کا سامان فراہم کیاگیا۔اس تمام آپریشن اور متاثرہ لوگوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ملکی وسائل پر انحصار کیاگیا۔ 

۲۲ فروری ۲۰۱۷ کے اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ردّالفساد شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔یہ نیشنل ایکشن پلان کا حصہ تھااور اس حوالے سے پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف بے مثال کامیابیاں حاصل کیں۔پاکستانی فوج چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی قیادت میں پوری عسکری ٹکنیکز اور اسلحہ بارود اور توپ خانے کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگی محاذ پر کامیابیاں حاصل کیں۔موجودہ حالات میں جب کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم ڈھانے کی انتہا کردی ہے ۔ ان نازک حالات میں پاک فوج اور پاکستانی قوم کی ذمہ داریاں بھی بڑھ گئی ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب پاکستانی فوج اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کی وجہ سے پاکستان کی سرزمین سے ہر قسم کی دہشت گرد قوتوں اور ملک وقوم مخالف انسان دشمن عناصر کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہوجائے گی۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 2


loading...