یومِ دفاع

یومِ دفاع

6ستمبر 1965ء ہماری عسکری تاریخ کا اہم ترین دن ہے۔ یہ دن ہمیں ستمبر میں ہونے والی اس جنگ کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی افواج اور پوری قوم نے مل کر بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی اور خود مختاری کا دفاع کیا تھا۔ یہ جنگ پاکستانی قوم اور ہماری افواج کی وہ مشترکہ جدوجہد تھی جو آنے والی نسلوں کے لئے ہمیشہ مشعلِ راہ کا کام کرتی رہے گی۔ اس دن کے ساتھ ہماری کچھ ایسی یادیں وابستہ ہیں جنہیں ہم کبھی نہ تو بھلا سکتے ہیں اور نہ بھلانا چاہتے ہیں۔ ہر سال یہ دن اسی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے جس جذبے سے وہ جنگ لڑی گئی تھی۔ اس وقت فرزندان پاکستان نے جو بے مثال اور لازوال قربانیاں دی تھیں اس کی بدولت آج تک ہمیں تاریخ میں ایک باوقار مقام حاصل ہے۔

17روز تک جاری رہنے والی اس جنگ نے اپنے سے 10گناہ بڑی قوت اور دشمن کو ذلت آمیز پسپائی اور شکست پر مجبور کیا اور اس کا تکبر خاک میں ملا دیا تھا۔ ہماری افواج نے جرت اور ہمت سے کام لیتے ہوئے اور اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے خطرات کا سامنا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام کوششوں کو اپنی بارگاہ میں قبول کیا اور انہیں سرخرو کیا۔ ہمارے جوانوں اور مجاہدوں نے جن میں غازی اور شہید دونوں شامل ہیں جو کارنامے سرانجام دیئے وہ ہماری جنگی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ ہم ہر سال اسی لئے اس دن کو مناتے ہیں تاکہ قومی یکجہتی کے اس زبردست مظاہرے اور اعلیٰ کارنامے کی یاد کو تازہ کیا جائے۔ اس جنگ کے حوالے سے بہت سی یادیں اور باتیں تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں جن کا ذکر یہاں ضروری ہے۔6ستمبر 1965ء کی صبح بھارت اچانک پاکستان پر حملہ آور ہوا۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ صبح کا ناشتہ لاہور کے جم خانہ میں کریں گے۔ اس جنگ میں نہ صرف فوج نے بلکہ پاکستانی قوم نے ایک بے مثال کردار ادا کیا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ محض ہتھیاروں سے نہیں جذبوں سے جیتی جاتی ہے۔ اس وقت یہ جذبے پاکستانی قوم میں بیدار تھے۔1965ء کی جنگ میں شاہینوں کے شہر سرگودھا کے لوگوں نے ایک خوبصورت مثال قائم کی۔

سرگودھا ائیر بیس کا کمانڈر بیان کرتا ہے کہ جنگ کے دنوں میں ایئر بیس کی حفاظت کے لئے اضافی فوج آئی ہوئی تھی۔ ان کے لئے چارپائیوں اور بستروں کی ضرورت پڑی۔ سرگودھا کی ایک مسجد میں اعلان کیا گیا کہ فوجیوں کے لئے بستر اور چارپائیوں کی ضرورت ہے۔ میرے ذہن میں تھا کہ چند بسترے اور چارپائیاں مل جائیں تو گزارہ کر لیں گے، لیکن …… میں نے دیکھا کہ ایک ہی گھنٹے میں PAF انسانوں اور گاڑیوں سے پھر چکا تھا۔ ہر ایک کے پاس بالکل نئے بستر تھے۔ ہم نے ضرورت کے مطابق بستر اور چارپائیاں لے لی اور باقی لوگوں کو واپس جانے کو کہا تو وہ غصے میں بستر اور چارپائیاں پھینک کر بولے اگر ہم سے نہیں لینے تو ہم بھی انہیں واپس نہیں لے کر جائیں گے۔ ان کا یہ جذبہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے اور میں نے دل میں کہا کہ اس قوم کا ایسا جذبہ ہے تو دنیا کی کوئی قوم اسے شکست نہیں دے سکتی۔

جنگ کے دوران ہی لاہور میں ایک بھکاری سارا دن لاہور کے گھروں میں مانگتا رہا،لیکن وہ روٹی کے بجائے پیسے مانگتاتھا۔ لوگ لعن طعن کرتے ہوئے کہتے تھے کہ آج ان کی وطن کو زیادہ ضرورت ہے۔لیکن وہ ان کی جھرکیاں سننے کے باوجود پیسوں کے لئے اصرار کرتا رہا۔ شام تک کچھ پیسے جمع کرکے اس جگہ پہنچا جہاں فوج نے امدادی کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ سارے دن کی جمع پونجی ریلیف فنڈمیں جمع کروا کر ایک دیوار کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا اور اپنے جھولے سے خشک روٹی نکال کر پانی میں ڈبو ڈبو کر کھانے لگا۔ ایک صحافی یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس نے پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ بھکاری نے بڑے جذبے سے جواب دیا۔ ”آج ان پیسوں کی وطن کو زیادہ ضرورت ہے۔ میرا وطن صحیح سلامت رہے گا تو مجھے بھی رزق ملتا رہے گا اور میں کبھی بھوکا نہیں رہوں گا“۔

جب فوجیوں کے لئے خون کی ضرورت پڑی تو بھی پاکستانیوں نے ایک عجیب و غریب مثال قائم کی۔ بلڈ بینک کے سامنے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گئی۔ جب بلڈ بینک بھر گئے تو لوگوں کے گھروں سے عارضی طورپر فریج مانگ کر خون کی بوتلیں محفوظ کی گئیں۔ قطار میں ایک دبلا پتلا نوجوان بڑا پُرجوش تھا کہ اپنے وطن کے کچھ کام تو آئے گا۔ اپنی باری پر اندر گیا اس کا وزن کیا گیا توکم تھا۔ کم وزن اور کمزور جسم کی وجہ سے اس کا خون نہیں لیا گیا۔جبکہ وہ خون دینا چاہتا تھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ باہر نکلا، سامنے کی دکان سے دو کلو کا باٹ مانگا اور وجہ بتائی کہ وہ خون دینا چاہتا ہے یہ سن کر دکان دار نے دوسری کوئی بات نہیں کی اور باٹ دے دیا۔ وہ باٹ کپڑوں میں چھپا کر دوبارہ لائن میں لگ گیا اب وزن پورا نکلا۔ رش کی وجہ سے کسی نے دھیان نہیں دیا کہ یہ وہی جوان ہے۔ جوان باہر نکلا اور دکاندار کو باٹ واپس کرکے چلا گیا۔

چونڈہ سیالکوٹ کا محاذ، جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی تھی۔ وہاں محاذ پر جاتے ہوئے فوجیوں کو دو معصوم بہن بھائی نے روک لیا۔ اور گنے اور مرغ پیش کیا اور کہا کہ ہماری طرف سے یہ قبول کر لیجئے! بریگیڈیئر ان کا یہ جذبہ دیکھ کر آنکھوں میں خوشی کے آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ کے ساتھ گاڑی سے نیچے اترا اور ان بچوں کو پیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے بچو! ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں۔ ہمیں تمہاری دعاؤں کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہم دشمنوں کو ناکوں چنے چبوا کر تمہاری اس معصوم مسکراہٹ کی حفاظت کر سکیں۔

درحقیقت 6ستمبر ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہماری مسلح افواج کو دنیا کی دوسری افواج سے اس لحاظ سے بھی برتری اور فوقیت حاصل رہی ہے کہ اس نے انتہائی کٹھن اور نامساعد حالات اور سازشوں کے باوجود اپنے فرائض کی ادائیگی میں غیر معمولی جرت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ اس میں عسکری مہارت اور تربیت کے ساتھ ساتھ جہاد کا جذبہ اور قوتِ ایمانی کا ہتھیار سب سے موثر رہا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جوانوں کو قوتِ ایمانی کی دولت سے نواز رکھا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دس گناہ بڑی طاقت کا حامل دشمن بھی ہر وقت ہم سے خوفزدہ رہتا ہے۔

بین الاقوامی سرحد کی اس طرح کھلم کھلا خلاف ورزی کا کسی طور تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا لیکن ہمیں جس بزدل قوم سے پالا پڑا ہے اصولوں کی پامالی اس کی رگوں میں شامل ہے لیکن لا الٰہ اِلا اللہ محمد رسول اللہ کا ورد کرتی ہوئی پاکستان کی افواج نے بھارت کی جارحیت اور کفر کے غرور کا سر کچل کر رکھ دیا۔ بے شک غرور کا سر نیچا ہے اور ان کو یاد کرکے ہماری دلیر مسلح افواج اور قوم کا سرفخر سے بلند ہو جاتا ہے۔

پاکستان زندہ باد!

مزید : ایڈیشن 2


loading...