ایٹمی ہتھیاروں میں پہل کاری؟

ایٹمی ہتھیاروں میں پہل کاری؟

پاکستان آرمی کے ترجمان، ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ایٹمی پہل نہ کرنا ہماری پالیسی نہیں،کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور ہمیں جان سے عزیز ہے،کشمیر کے لئے آخری گولی،آخری سپاہی اور آخری سانس تک لڑیں گے،اس کے لئے کوئی بھی قدم اٹھائیں گے اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔بھارت میں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے،وہاں اقلتیں غیر محفوظ ہیں،خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے،مگر بھارت اِس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے،بھارت کچھ بھی کرنے سے پہلے 27فروری کو یاد رکھے۔اُن کا کہنا تھا کہ ساری کوششیں ناکام ہو جائیں تو جنگ کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا، کشمیر پر ڈیل کے لئے ہماری لاشوں پر سے گزرنا ہو گا،موجودہ حالات میں قوم کو ایک ہونے کی ضرورت ہے،خطے میں عالمی طاقتوں کے مفادات ہیں،مگر ہماری جغرافیائی پوزیشن کو نظر انداز کر کے کسی کے بھی مقاصد پورے نہیں ہو سکتے،افغان امن عمل کامیاب ہو گیا تو ہماری مغربی سرحد پر فوج کی تعیناتی پہلے کم پھر ختم ہو گی،اُسامہ بن لادن آپریشن میں امریکہ نے پاکستان کے ساتھ دھوکا کیا۔ انہوں نے یہ باتیں ایک پریس کانفرنس میں کہیں۔

میجر جنرل آصف غفور نے کشمیرکاز کے ساتھ پاکستان کی کمٹمنٹ کا جس دو ٹوک انداز میں ذکر کیا ہے وہ پاکستان کی عشروں سے جاری پالیسی اور عزم صمیم کا اظہار اور اس کا اعادہ ہے،کشمیر اگرچہ ستر سال سے حل طلب متنازع مسئلہ چلا آ رہا ہے اور دونوں ممالک نے جنگیں بھی کی ہیں اور ان جنگوں کے اختتام پر اعلانِ تاشقند اور شملہ معاہدے کی شکل میں معاہدے بھی ہوئے تھے، جن میں اگرچہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے طے کریں گے، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ مسئلے کے حل میں یہ دونوں معاہدے کوئی کردار ادا نہ کر سکے اور محض چند ابتدائی اقدامات کے بعد مرور ایام کے ہاتھوں بالکل بے کار محض ہو گئے۔ایک اعلانِ لاہور وزیراعظم واجپائی کے دورہئ لاہور کے نتیجے میں ہوا،لیکن دوسرے دو معاہدوں کی طرح یہ اعلان بھی آج تک تنازعہ کشمیر کا حل تو کجا اس جانب کوئی پیش رفت بھی نہیں کر سکا، بلکہ اس اعلان کے چند ماہ بعد کارگل کی جنگ نے اس سارے عمل ہی کو بیک گیئر لگا دیا،جس کا آغاز لاہور سے ہوا تھا،پھر آگرہ میں ایک اور کوشش کی گئی،جو فائر بیک کر گئی اور صدر پرویز مشرف کا یہ دورہ کسی رسمی اعلان کے بغیر ہی ختم ہو کر رہ گیا۔

اب نریندر مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ہی ختم کر دی ہے،جو آئین کے تحت ریاست کو ہمیشہ حاصل رہی،جس کے تحت کوئی غیر کشمیری نہ تو کشمیر میں مستقل آباد ہو سکتا تھا اور نہ ہی ریاست میں جائیداد وغیرہ کی خریداری کا حق رکھتا تھا،کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو کشمیر کی حیثیت چند سال کے اندر ہی بدل کر رہ جاتی،جب پنڈت نہرو کشمیر کی پہلی جنگ کے بعد یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں لے کر گئے اور بھارت نے کشمیر میں استصواب رائے کا وعدہ کیا اس کے بعد بھی انہوں نے کبھی یہ عندیہ نہیں دیا کہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو آباد کر کے وہاں ہندو اکثریت کا راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے اور اس کے بعد رائے شماری سے من مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔نہرو نے پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان کے نام خط میں بھی برملا طور پر رائے شماری کرانے کا اعلان دہرایا تھا،لیکن نریندر مودی آزاد بھارت کے اس ابتدائی حکمران کی پالیسی کو یکسر تبدیل کر کے اور کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے اس پر فخر کر رہے ہیں،حالانکہ اس اقدام پر پورے بھارت میں بھی لے دے ہو رہی ہے اور برملا کہا جا رہا ہے کہ مودی کے اس اقدام سے اُن کی مرضی کے نتائج نہیں نکلیں گے اورریاست کے حالات مزید خراب ہو جائیں گے،اِس وقت کشمیر میں کرفیو کے نفاذ کو دوسرا مہینہ شروع ہے اور پوری ریاست میں موت کا سا سناٹا اور قبرستان کی سی خاموشی چھائی ہوئی ہے،خوفزدہ بھارتی حکمران کرفیو ختم کر نے یا اس میں نرمی کی جرأت بھی نہیں رکھتے۔

مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ بھارت نے اپنا یہ موقف بدل لیا ہے کہ وہ ایٹمی حملے میں پہل نہیں کرے گا،ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کوئی بچگانہ عمل نہیں ہوتا کہ اس پر بلا سوچے سمجھے اظہارِ خیال کو معمول بنا لیا جائے تاہم بھارتی وزیر دفاع کو یہ جواب دینا تو ضروری تھا کہ پاکستان کی بھی ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ ایٹمی حملے میں پہل نہیں کی جائے گی،کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں ”سیکنڈ سٹرائیک“ کا تو موقعہ ہی کسی فریق کو نہیں مل سکتا تاہم اپنے استعمال سے پہلے تک یہ ایک ڈیٹرنس ضرور ہے،جو جنگ کو پھیلاتا نہیں، روکتا ہے،امریکہ اٹھارہ سال سے افغانستان کی جنگ میں اُلجھا ہوا ہے اور دو امریکی صدور آٹھ آٹھ سال تک حکمرانی کر کے رخصت ہو گئے،لیکن اُنہیں افغانستان میں ایٹمی حملے کا خیال تک نہ آیا،حالانکہ وہاں اس سے کم ہر خطرناک ہتھیار استعمال کر لیا گیا،اِس کے باوجود مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے تو اب طالبان کو حقیقت تسلیم کر کے اُن کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ البتہ اِس دوران صدر ٹرمپ کئی بار ”ایک کروڑ افغانوں کو مارنے“ کی بات کر چکے ہیں اُن کا اشارہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کی طرف ہی ہوتا ہے تاہم ایٹمی تباہی کا ادراک رکھنے والے سائنس دان اور انسانیت کے مستقبل کے بارے میں تشویش میں مبتلا مدبرین ہمیشہ اِس بات میں محتاط گفتگو ہی کرتے ہیں،بدقسمتی سے برصغیر کے نابالغ سیاست دانوں اور سیاسی بصیرت سے محروم حکمرانوں نے اس معاملے پر گفتگو کرتے وقت ہمیشہ عاجلانہ طرزِ استدلال استعمال کیا،بھارت کو اس سلسلے میں بروقت انتباہ ضروری تھا،جو میجر جنرل آصف غفور نے یہ کہہ کر اچھی طرح کر دیا ہے کہ ہماری ایسی کوئی پالیسی نہیں کہ ہم نیو کلیئر حملے میں پہل نہیں کریں گے۔یہ وضاحت اِس لئے بھی ضروری تھی کہ پچھلے دِنوں حکومت کے بعض ذمے داران نے ایسی بات کر دی تھی کہ پاکستان ایٹمی حملے میں پہل نہیں کرے گا،ایسی ”یقین دہانی“کی چنداں ضرورت بھی نہیں،کیونکہ اس طرح تو ایٹم کے ڈیٹرنس ہونے کا تصور ہی مجروح ہو جاتا ہے، بھارت کو بہرحال خبردار رہنا چاہئے کہ جنگ خطے کی بربادی کا سامان ہے،اِس لئے کشیدگی ختم کر کے امن کی کوششیں کرنی چاہئیں۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...