6ستمبر65ء کی یاد میں

6ستمبر65ء کی یاد میں
6ستمبر65ء کی یاد میں

  


انٹر سروسز پبلک ریلیشنز کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں پھر سے واضح کر دیا کہ پاکستانی افواج ملکی دفاع کے لئے تیار ہیں اور کسی بھی حملے کی صورت میں منہ توڑ جواب دیا جائے گا،انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ ہے اور ہمیشہ رہے گا،اور اگر جنگ مسلط کی گئی تو آخری گولی آخری سپاہی تک مقابلہ ہو گا۔یہ پریس کانفرنس انتہائی کشیدہ صورت حال میں ہوئی اور 4ستمبر کو ہونے والی اس گفتگو کا بنیادی عنصر ہی کشمیر تھا، آج5ستمبر اور کل6ستمبر ہے، آج کی شب 54سال قبل کشمیر ہی کے باعث بھارت نے بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر واہگہ کی بین الاقوامی سرحد کو عبور کر کے سترہ روزہ جنگ مسلط کی تھی، تب بھارت کو کشمیر ہاتھ سے نکلتا محسوس ہوا اور اس کی طرف سے دریائے توی تک پہنچنے والے پاکستانی جانبازوں کو روکنے کے لئے اس طرف حملہ کیا۔

یہ5،6 ستمبر کی شب کے بعد کیا گیا اور ہماری مسلح افواج کو دفاع کے لئے سینہ سپر ہو کر قربانیاں دینا پڑیں۔جنگ ستمبر کے حوالے سے بہت کچھ لکھا اور کہا بھی گیا، متعدد کتابیں شائع ہوئیں ان میں زیادہ بھارت میں لکھی گئیں، تاہم پاکستان کے ماہرین نے بھی اپنی اپنی یاد داشت اور رائے سے قوم کو آگاہ کیا،اس سلسلے میں ہمارے اپنے ملک کے اندر دو آراء پائی جاتی ہیں،ہم جیسے لوگوں کا جنہوں نے اس جنگ کی کوریج بھی کی اور خدمات بھی سرانجام دیں، رائے یہ ہے کہ یہ لڑائی دفاع کی لڑائی تھی، اور اس میں پاکستان کے جوانوں نے جن میں کثرت سے نوجوان افسر تھے، حملہ آور کو منہ توڑ جواب دیا اور اپنی سرحدوں کا بھرپور دفاع کیا، دشمن کے خواب خاک میں ملا دیئے۔یوں بلا شبہ آج (6ستمبر) جو یوم دفاع منایا جا رہا ہے تو یہ بالکل درست ہے۔

آج برصغیر میں جو حالات اور کشیدگی ہے یہ تو 65ء ستمبر سے کہیں زیادہ ہے،بھارت نے یکطرفہ طور پر کئی ایسے اقدام کئے جو کسی بھی لمحے مزید لڑائی کا سبب بن سکتے ہیں،لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر عرصہ سے چھیڑ چھاڑ کی جا رہی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بھارت کو جواب بھی ملتا رہتا ہے، یہ کشیدگی مسلسل جاری تھی کہ بھارت نے5 اگست کو ایک اور جارحیت کا مظاہرہ کیا، اور مقبوضہ کشمیر کو ٹکڑے کر کے بھارت میں ضم کر لیا،اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں موجود آٹھ لاکھ فوج کے علاوہ مزید فوج بھیجی گئی اور تب سے اب تک مقبوضہ کشمیر خصوصاً وادی کا مکمل لاک ڈاؤن ہے۔ ذرائع مواصلات معطل کر دیئے گئے، مسلمانوں کو نمازیں ادا نہیں کرنے دی جا رہیں اور اب عزا داروں کو ماتمی جلوس بھی نہیں نکالنے دیا، بھارت اپنے تئیں مقبوضہ کشمیر کے آزادی پسند شہریوں کے حوصلے توڑنا چاہتا ہے،لیکن ایسا نہیں کر سکا۔ کشمیری سر پر کفن باندھے مقابلہ کر رہے ہیں، حالانکہ ان کو خوراک، ادویات اور کاروبار کی اجازت نہیں، پوری دُنیا بھارت کے اس انسانیت سوز سلوک سے آگاہ ہو چکی اور ہر طرف سے مذمت کرتے ہوئے شہری آزادیاں بحال کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔

یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آج حالات ستمبر65ء سے کہیں زیادہ کشیدہ اور سنگین ہیں تاہم تب اور اب میں زمین آسمان کا فرق ہے، وہ ایک روایتی جنگ تھی جو روایتی ہتھیاروں سے لڑی گئی، لیکن آج صورتِ حال مختلف ہے، آج جنگی ٹیکنالوجی بھی بہت زیادہ ترقی کر چکی اور آج کی جنگ تب سے کہیں زیادہ تباہی کا باعث ہو سکتی ہے، تب تو لڑاکا طیارے گولیاں اور بم لے کر چلتے تھے، لیکن آج میزائلوں سے لیس ہیں،یہی صورت حال زمینی آلات کی بھی ہے، یہاں بھی میزائل لانچرز نصب ہیں اور ان میزائلوں کی اہلیت ایٹم کے ساتھ اپنے ہدف پر نشانہ لگانے کی ہے،دونوں ممالک ایٹمی قوت ہیں اور اب تو ہر دو طرف سے ذکر بھی کیا جا رہا ہے،بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ نے کہا کہ پہل نہ کرنے کا آپشن ختم کر دیا تو ہمارے میجر جنرل آصف غفور نے بتا دیا کہ ایٹمی اسلحہ والی پہل نہ کرنا کوئی پالیسی تو نہیں ہے،

اس سلسلے میں یہ عرض کریں کہ بھارت اور پاکستان رقبے کے لحاظ سے بڑا چھوٹا ملک ہے،بھارت کا رقبہ ہم سے کئی گنا زیادہ ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کی ”ڈیپتھ“ بہت ہے۔ یہ بات1965ء کی حد تک تو درست تھی، لیکن اب ایسا نہیں کہ آج تو میزائلوں ہی کا دور ہے۔ اگر آسمان سے میزائل برس سکتے ہیں تو زمین سے زمین پر مار کرنے والے بھی نصب ہیں۔بقول ہمارے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر بھارت کے ایک سو اہداف پاکستان کے نشانے پر ہیں اور یہ کام گھنٹوں یا منٹوں کا نہیں، سیکنڈوں کا ہے، انہی امور کی روشنی میں اس جنگ کو کسی کی فتح و شکست کی لڑائی نہیں کہا جائے گا یہ تو انسانوں کی تباہی کی ہو گی، ہم نہ ہوں گے تو تم کہاں ہو گے۔

لکھنا تو 6ستمبر1965ء کے حوالے سے ہی تھا کہ ہم نے63 ء میں صحافت کے پیشہ میں قدم رکھا اور دو سال بعد ہی جنگ ِ ستمبر آ گئی اس میں ہم نے نہایت جوش کے ساتھ رپورٹنگ کی تھی، اسی دور کے حوالے سے کہتے ہیں کہ معرکہ باٹا پور کے ہم ماہر ہیں اور ہمارے علم میں ایک ایک لمحہ ہے،آج ہمیں اس دور کے سب نوجوان افسر یاد آ رہے ہیں اور ان کی شجاعت بھی پیش نظر ہے۔ بی آر بی کے اس پار راوی سائیفن سے برکی تک دفاع کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا،برکی کی طرف عزیز بھٹی شہید کی پنجاب رجمنٹ تھی، تو سائیفن کی طرف فرنٹیئر فورس بٹالین دفاع پر مامور تھی،درمیان میں جلو موڑ پُل (جی ٹی روڈ) سے جلو ریلوے سٹیشن کی ریلوے لائن تک کا دفاع 3بلوچ رجمنٹ نے کیا اور بلاشبہ اس بٹالین کے نوجوان افسروں اور جوانوں نے وہ مثال پیدا کی جو اب بھی یاد آتی ہے کہ ان کی بے مثال جرأت اور جنرل تجمل ملک (مرحوم) کی قائدانہ صلاحیت نے اللہ کی مدد سے دشمن کو سڑک والے پُل سے پار ہی روک لیا تھا، یہ درست ہے کہ بھارت نے بے خبری میں حملہ کیا تاہم اللہ کی مدد یوں بھی تھی کہ3بلوچ کے کرنل کمانڈنٹ تجمل ملک نے5ستمبر کی شب کو بیرکس سے کوچ کیا اور اپنی پوزیشن پر آ گئے تھے، بقول خود ان کے ابھی کمر سیدھی کر کے سگنل والے تاریں بچھا رہے تھے کہ حملے کی اطلاع آ گئی اور تیزی سے اپنی پوزیشن سنبھالنا پڑی۔

ہمیں اس بٹالین کے بہادروں کے ساتھ وقت گزارنے اور ایک ایک لمحے کی رپورٹ حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا،جنرل تجمل ملک (مرحوم) کرنل نفیس الدین انصاری(مرحوم) اُن دِنوں میجر اور سیکنڈ ان کمانڈ تھے) کیپٹن اقبال چیمہ (مرحوم)،میجر انور شاہ، میجر نواز اور سٹاف آفیسر خالد نواز یاد آتے ہیں کہ یہ سب وہ بہادر لوگ تھے جنہوں نے جان ہتھیلی پر رکھ کر دفاع کیا، میجر انور شاہ، اور میجر نواز کے حوالے سے تو بعد میں کچھ علم نہ ہوا،جبکہ خالد نواز سے تو1971ء میں بھی ملاقات ہو گئی، جب وہ میجر تھے اور ہڈیارہ میں تعینات تھے (خالد نواز ترقی پا کر لیفٹیننٹ جنرل ہوئے اور جنرل مشرف کے آرمی چیف بننے پر ریٹائر ہوئے کہ سنیارٹی میں جنرل (ر) علی قلی خان کے بعد دوسرے نمبر پر تھے) ہم ان سب کو جو اللہ کو پیارے ہوئے، یاد کرتے ہوئے درجات کی بلندی کے لئے دُعا کریں جو آج ہیں ان پر فخر کرتے اور دُعا دیتے ہیں۔سترہ روزہ جنگ اس سے قبل اور بعد کے حالات و واقعات ایسے ہیں کہ ایک ضخیم کتاب لکھی جا سکتی ہے، جگہ کی قلت مانع ہے، اللہ حافظ پھر لکھیں گے! (معذرت چاہتا ہوں کہ گذشتہ روز کے کالم میں 65ء کی جنگ کو گزرے54 سال کی جگہ چوالیس سال تحریر ہو گیا۔ یہ سہو ہے معاف کر دیجئے)

مزید : رائے /کالم


loading...